بجلی کی قیمت میں کمی کے اعلان کے بعد نئے بجلی ریلیف پیکج کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں سماعت کے دوران بجلی ریلیف پیکج کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ وزیراعظم کا ریلیف پیکج ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس اور وصول کردہ پیٹرولیم لیوی پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق 1 روپے 71 پیسے پیٹرولیم کی مد میں ریلیف شامل ہوگا جبکہ 1 روپے 90 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے شامل ہوں گے اور 1 روپے 36 پیسے فی یونٹ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل ہے۔ 1 روپے فی یونٹ سے زائد ریلیف تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہونے کی امید ہے۔ یہ مجموعی ریلیف 6 روپے فی یونٹ ہوگا۔ ٹیکس سمیت یہ ریلیف 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ بنے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمت میں یہ ممکنہ کمی ٹیرف سبسڈی میں اضافے کے ذریعے کی جائے گی، تاکہ صارفین کو براہِ راست ریلیف مل سکے، تاہم پاور ڈویژن حکام نے واضح کیا کہ یہ کمی صرف عام صارفین کے لیے ہوگی اور لائف لائن یعنی کم ترین بجلی استعمال کرنے والے کم آمدنی والے صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ نیپرا کی سماعت میں حکومت کی درخواست پر فریقین کا مؤقف سنے جانے کے بعد بجلی کی قیمت میں 1.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بجلی کی قیمت میں پاور ڈویژن حکام پیسے فی یونٹ صارفین کو کی مد میں جائے گا حکام نے پی پیز کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم کی جانب سے عوام کو بڑا ریلیف، گھریلو اور صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سے تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، خواجہ آصف، رانا ثنا اللّٰہ اور دیگر وزرا بھی شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔ بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بل آنے پر لوگوں کے گھروں میں غصہ اور افسردگی کا عالم تھا، ہمیں عام آدمی کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے، قوم کے لیے عید کا تحفہ پیش کر رہا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تمام گھریلو صارفین کو اوسطاً فی یونٹ بجلی 34 روپے 37 پیسے میں فراہم کی جائے گی، اس وقت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 45 روپے 5 پیسے پر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ء میں صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58 روپے 50 پیسے تھی، آگے بڑھتے ہوئے ماضی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے، ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کوششیں کی گئیں، منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹک رہی تھی، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، آرمی چیف اور ان کے رفقا کا معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون رہا، معاشی استحکام کی راہ میں پہاڑ جیسی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی پاکستان میں سب سے کم ہیں، شرح سود 22 فیصد سےکم ہو کر 12 فیصد ہوچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معشیت کی بہتری کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، ملکی معیشت اندھیروں کے بجائے اجالوں کی طرف آ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان میں معاشی استحکام آچکا ہے، اب اڑان بھرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے انکار کردیا تھا، آئی ایم ایف سے بات چیت کی اور بتایا کہ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے بجائے بجلی کی مد میں عوام کو ریلیف دینا چاہ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف کچھ نہیں کہنا، آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی انہوں نے کئی سو فیصد کمایا ہے، آئی پی پیز سے بات چیت میں کہا کہ آپ نے کئی گنا کمایا اب قوم کو فائدہ دیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کا گردشی قرضہ 2393 ارب روپے ہے، اس گردشی قرضے کا مستقل بندوبست کرلیا گیا ہے، گردشی قرضہ اب گردش نہیں کرے گا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے گردشی قرضے کا پکا بندوبست کرلیا گیا ہے، اگلے 5 سال یہ گردشی قرضہ دوبارہ گردش نہیں کرے گا، آئندہ 5 سال میں گردشی قرضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔