وفاقی کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی۔
حکومت نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی ہے، اب سرکاری آئی پی پیز کی درخواست نیپرا میں آئے گی۔
ذرائع پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ مزید 21 سے زائد سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، مذاکرات سے 34 ارب روپے کی بچت ہوگی، ان مذاکرات کے نتیجے میں فی یونٹ 27 پیسے بجلی کی بنیادی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
پاور ڈویژن کے اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ آئی پی پیز 21 ہزار میگاواٹ سے زائد کیپسٹی کے حامل ہے اور ان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس سمیت آر ایل این جی، گیس، ہائیڈل، کوئلے، فرنس آئل اور سولر پاور پلانٹس شامل ہیں۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے سرکاری ا ئی پی پیز کے ساتھ
پڑھیں:
سابق نگراں وفاقی وزیر کی امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز
سابق نگراں وفاقی وزیر کی امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
سلام آباد (آئی پی ایس )سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز دے دی اور کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں۔اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت دے سکتا ہے، امریکا کے ساتھ پاکستانی برآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کے لیے مذاکرات کیے جائیں، امریکا کا بڑا اعتراض ہے کہ پاکستان نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگائے ہوئے ہیں
، امریکا کو شکایت ہے کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو اپنی مارکیٹ میں اجازت نہیں دے رہا، امریکی مصنوعات کو پاکستان کی مارکیٹ تک کھلی اجازت دینا فائدہ مند ہے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان اپنی مارکیٹ کھول کر امریکا کا تجارتی خسارہ کم کر سکتا ہے، پاکستان کا امریکا کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کا تجارتی سرپلس ہے، امریکا پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، ٹرمپ ٹیرف پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع ہیں۔سابق نگراں وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان امریکی مصنوعات کو ترجیح دے سکتا ہے،
پاکستان امریکا سے کاٹن کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز زیرو کر سکتا ہے، پاکستان امریکا سے مشینری کی درآمد پر ڈیوٹیز کی چھوٹ دے سکتا ہے، امریکا کی لیدر اور جوتوں کی مارکیٹ کو دیگر سپلائیرز سے دھچکا لگا ہے، پاکستان امریکہ کی لیدر اور فٹ ویئر مارکیٹ میں جگہ بنا سکتا ہے، پاکستان 9.5 سینٹ بجلی کے نرخ اور 100 ڈالر لیبر پر عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکتا ہے۔