دنانیر مبین نے احد رضا میر سے شادی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اداکارہ اور ٹک ٹاک اسٹار دنانیر مبین نے اداکار احد رضا میر سے شادی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ان دونوں کی جوڑی ڈرامہ سیریل میم سے محبت میں نظر آرہی ہے اور آن اسکرین کیمسٹری دیکھ کر مداحوں نے حقیقی زندگی میں بھی ان کے رشتے کے قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں حال ہی میں دنانیر مبین نے اپنی گریجویشن مکمل کی جس پر احد رضا میر اور ان کے والد سینئر اداکار آصف رضا میر نے انہیں مبارکباد دی آصف رضا میر نے دنانیر کے لیے میٹھائی بھیجی جبکہ احد رضا میر نے ڈرامے کے سیٹ پر انہیں نوٹوں کا ہار پہنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی مداحوں نے اس ویڈیو کو شادی کی تیاریوں کا اشارہ سمجھ لیا اور افواہیں مزید پھیلنے لگیں تاہم ایک انٹرویو میں دنانیر مبین نے واضح کیا کہ یہ سب صرف ان کے گریجویشن مکمل ہونے کی خوشی میں کیا گیا تھا اور اس کا شادی سے کوئی تعلق نہیں احد رضا میر کی والدہ نے بھی ان کے لیے گھر سے کھانا بھیجا تھا جبکہ احد اور ان کے والد نے انہیں سیٹ پر ہار پہنایا تھا دنانیر کا کہنا تھا کہ وہ ایک اداکارہ ہیں اور خوش ہیں کہ لوگ ان کے کرداروں کو پسند کرتے ہیں لیکن وہ چاہتی ہیں کہ مداح ان کی ذاتی زندگی کو ان کے آن اسکرین کرداروں سے الگ رکھیں انہوں نے مزید کہا کہ ناظرین کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک اداکارہ ہیں اور ان کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا کام محض کردار ادا کرنا ہے اور حقیقت میں وہ اپنی زندگی کو کسی اور انداز میں گزارتی ہیں
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور ان
پڑھیں:
اپنی کایا پلٹنا
سنسنی خیز کہانیاں خوب بکتی ہیں۔ جو چیزیں ہمارے وجود میں جتنی تھرتھلی مچاتی ہیں وہ ہمیں اتنا ہی زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کے اثرات ہم پر تادیر قائم رہتے ہیں، بلکہ کچھ چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ وہ زندگی بھر ہمارے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسی کہانیاں اور حکایات وغیرہ لکھنے والے مصنفین ان سے ذاتی طور پر گزرے ہوتے ہیں یا ان کا تخیل اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ ایسی کہانیاں خود تخلیق کر لیتے ہیں۔
یہ کہانیاں زندگی کا ایسا تجربہ بیان کرتی ہیں کہ جس سے لکھنے اور پڑھنے والے دونوں کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ کایا پلٹنے کو انگریزی زبان میں ’’ٹرانسفارم‘‘ (Transform) کہتے ہیں۔ انگریزی کا لفظ ٹرانسفارم بہت خوبصورت اور متاثرکن ہے جس کا مطلب یکسر تبدیل ہو جانا ہے یعنی ایک چیز یا رویئے کا کسی دوسری چیز یا رویئے میں بدلنا ٹرانسفارم کہلاتا ہے۔ اس انگریزی لفظ کا متبادل لفظ ’’کنورٹ (Convert)‘‘ بھی ہے جس کا مفہوم بھی کسی چیز یا فرد کے تبدیل ہونے جیسا ہی ہے مگر جو تاثر سننے اور پڑھنے والے پر لفظ ٹرانسفارم قائم کرتا ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
ٹرانسفارم یا کایا پلٹنے کے الفاظ کو قسمت کے بدلنے کے اصطلاحی معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ٹرانسفارم یا کایا پلٹنے کا عمل چند ایسے خاص واقعات اور تجربات سے جڑا ہوتا ہے کہ جس کے بعد انسان ناچاہتے ہوئے بھی خود کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جن کے گہرے اثرات اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتے ہیں۔ ایسے واقعات یا تجربات ان لوگوں کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہوتے جو ان کے لئے کوئی ’’انقلابی تبدیلی‘‘ لے کر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ بری عادات کا شکار ہوتے ہیں یا ان کی زندگی منفی اور غیرتعمیری سرگرمیوں سے بھری پڑی ہوتی ہے مگر ایک دن یا لمحہ ایسا آتا ہے کہ کبھی ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے، وہ کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں، ان کی ملاقات کسی متاثرکن شخصیت سے ہوتی ہے یا خود ہی کسی موڑ پر ان کی سوچ ایسی بدلتی ہے کہ مستقبل میں ان کی زندگی ایک نیا جنم لے کر ابھرتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے اچانک ان کی کایا پلٹ گئی ہو۔
اپنی روزمرہ کی زندگی میں آپ نے بہت سے ایسے برے، ظالم اور نشہ وغیرہ کے عادی لوگوں کو دیکھا ہو گا اور ان میں سے بعض کو یکسر بدلتے بھی دیکھا ہو گا۔ ہمارے کچھ شوبز کے لوگ، گلوکار اور کھلاڑی وغیرہ دینی خدمت کے کام کرنے لگے تو خود ان کی زندگی ٹرانسفارم ہو گئی یعنی ان کی کایا (اور قسمت) پلٹ گئی۔ وہ زندگی کے ایک شعبے سے نکل کر زندگی کے دوسرے شعبے میں آ گئے اور خوب نام اور عزت کمائی۔ تاریخ میں ایسی بے شمار شخصیات کا ذکر ملتا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی کی مصروفیات اور معمولات کو مکمل طور پر تبدیل کیا۔ اس میں ایک شخصیت بنو امیہ کے اسلامی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی بھی ہے جو شہزادے تھے تو مکمل طور پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے اور جب ’’اسلامی خلافت‘‘ کا بوجھ کندھوں پر آن پڑا تو بالکل سادہ زندگی اختیار کر لی اور پوری زندگی ایک ہی لباس میں گزار دی۔
اسی طرح بدھ مت کا بانی بدھا بھی ایک شہزادہ تھا جس کو کسی ایک واقعہ نے ایسا تبدیل کیا کہ اس کی’’کایا پلٹ گئی‘‘ اور اس نے شہزادگی کو چھوڑ کر اپنی بقیہ پوری زندگی غوروفکر اور انسانوں کی خدمت کرتے ہوئے گزار دی۔ تصوراتی دنیا کا ایک اپنا الگ ہی رنگ ہوتا ہے۔ سنی سنائی کہانیوں میں الجھنے کی بجائے اپنے من کی دنیا میں ڈوبنا ایک زیادہ بہتر اور گہرا ’’روحانی تجربہ‘‘ ہے جس کے بارے علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ، ’’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی، تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔‘‘ انسان کے اندر کی دنیا ایک مکمل جہاں ہے۔ مجھے ایسی کیفیات بہت اچھی لگتی ہیں جو مجھے خود سے بیگانہ کر دیتی ہیں اور مجھے میرے اندر کی دنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ ایسی کیفیات خود کو بدلنے اور اپنی کایا پلٹنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ میں بچپن میں خود کو ٹرانسفارم کرنے کے لئے بزرگوں اور عالم فاضل لوگوں کی محفل میں بیٹھا کرتا تھا یا سوچنے اور غوروفکر کرنے کے لئے ویرانے میں نکل جایا کرتا تھا۔ اس وجہ سے میں تنہائی کو بھی بہت پسند کرتا ہوں۔ اس دوران میں خود کو وقت دیتا ہوں، اپنے ماضی اور حال سے باتیں کرتا ہوں اور ان کی روشنی میں اپنے مستقبل کی کچھ پرچھائیاں دیکھ لیتا ہوں۔
تنہائی کا ایک حیرت انگیز فائدہ یہ ہے اس سے بھرپور تجسس اور پراسراریت پیدا ہوتی ہے۔ اس دوران ہمارے ذہن میں عجیب و غریب قسم کی جستجو ابھرتی ہے کہ انسان خود ہی سوالات کرتا ہے اور خود ہی ان کے جوابات ڈھونڈتا ہے جس سے بعض اوقات اس کی دنیا بدل جاتی ہے یعنی وہ ٹرانسفارم ہو جاتا ہے اور اس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ خود کو تبدیل کرنے والے ایسے نایاب لوگ نہ صرف اپنی کایا پلٹتے ہیں بلکہ کچھ قابل گوہر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی قسمت بھی بدل دیتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی زندگی کی کایا خود پلٹتے ہیں۔ کایا پلٹنا یا خود کو ٹرانسفارم کرنا ایسا خوبصورت عمل ہے جس کے بعد انسان کو ’’اطمینان قلب‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ آپ مطالعہ کریں، مجبور لوگوں کی خدمت کریں اور اچھے لوگوں سے دوستی کریں آپ کی کایا پلٹنا شروع ہو جائے گی۔ دنیا کے عظیم الشان لوگ وہی ہیں جو خود کو وقت دیتے ہیں جس سے انہیں پتہ چلتا رہتا ہے کہ ان کی زندگی کس طرف جا رہی ہے۔ ان کی زندگی کی سمت درست ہے یا غلط ہے؟ ایسے خوش نصیب لوگ نا صرف اپنی زندگی میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لاتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کی زندگیاں بھی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوری پوری زندگیاں اس نیک مقصد کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔