سعود شکیل کا پی سی بی پر طنز : مستقل کوچ کی تقرری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے ٹیسٹ کرکٹر سعود شکیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر طنز کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیم کے لیے تین سال کے لیے مستقل کوچ مقرر کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ پی سی بی کے چیئرمین بنے تو سب سے پہلے یہی فیصلہ کریں گے تاکہ کوچنگ اسٹاف میں استحکام لایا جا سکے سعود شکیل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے کوچنگ اسٹاف میں مسلسل غیر یقینی صورتحال برقرار ہے حالیہ برسوں میں کئی غیر ملکی کوچز مستعفی ہو چکے ہیں جن میں مورکل گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی شامل ہیں بار بار تبدیلیوں کے باعث ٹیم کی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور میدان میں پاکستانی ٹیم نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی امور پر پہلے ہی شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اس پر غیر یقینی پالیسیوں کا الزام لگایا جا رہا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کوچنگ اسٹاف میں استحکام ضروری ہے اور بار بار کی تبدیلیوں سے کھلاڑیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے
ادھر نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے ہیملٹن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں گرین شرٹس کو 84 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد نیوزی لینڈ نے سیریز دو صفر سے اپنے نام کر لی اب ہفتے کے روز ماؤنٹ مانگونئی میں ہونے والے تیسرے ون ڈے میں کیویز کلین سویپ مکمل کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ وقار بحال کرنے کا آخری موقع ہوگا
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
جماعت اسلامی نے بجلی کے بعد پیٹرول بھی سستا کرنے کا مطالبہ کر دیا
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہم نے احتجاج کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر کم سے کم ٹیکس ہونا چاہئے، ہم نے حکومت کو بھاگنے نہیں دیا، پُرامن احتجاج کیا اور معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان آئی پی پیز کو فکس کیا جائے اور ان با اثر لوگوں کے نام سامنے لائیں، یہ چند سو لوگ ہیں جو ہزاروں ارب کما چکے ہیں، ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا، 2019 تک ان کا ریکارڈ آتا تھا، پی ٹی آئی کی حکومت میں ریکارڈ آنا بند ہو گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں زیادہ ریلیف ملنا چاہئے تھا، 7 اپریل کو مشاورت کے بعد ایک لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بجلی قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر یہ آغاز ہے اختتام نہیں، دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت میں گزشتہ روز بھی 7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، تیل کی قیمت 5،6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے ہاں قیمت کو کم نہیں کیا جا رہا بلکہ ایک طرف پٹرول کی قیمت، پھر اس پر ٹیکس اور پھر ایک لیوی جو پہلے 60 روپے تھی، پھر 70 روپے کر دی اور اب کہتے ہیں 80 روپے کریں گے، اس طرح تو آپ ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے سے لینے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پٹرول سستا نہیں ہوگا، جب تک بجلی کی قیمت مزید کم نہیں ہوگی تو صنعتیں کیسے چلیں گی اور عام آدمی کیسے پنپ سکے گا۔ ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا اس میں ہر حکومت شامل رہی، ن لیگ، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم سمیت تمام حکومتوں نے آئی پی پیز کو مدد فراہم کی، پاکستان کیساتھ کھلواڑ کرنیوالوں کو قوم کے سامنے لانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ جاگیر دار طبقہ خود اپنی مراعات میں اضافہ کر رہا ہے، عام آدمی اور تنخواہ دار لوگ سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے احتجاج کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر کم سے کم ٹیکس ہونا چاہئے، ہم نے حکومت کو بھاگنے نہیں دیا، پُرامن احتجاج کیا اور معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان آئی پی پیز کو فکس کیا جائے اور ان با اثر لوگوں کے نام سامنے لائیں، یہ چند سو لوگ ہیں جو ہزاروں ارب کما چکے ہیں، ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا، 2019 تک ان کا ریکارڈ آتا تھا، پی ٹی آئی کی حکومت میں ریکارڈ آنا بند ہو گیا، خود حکمران طبقے کا اعمال نامہ سامنے آئے گا، اس لئے ایسا نہیں کیا جاتا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے، تنخواہ دار طبقہ 500 ارب روپے ٹیکس جمع کرا ئے گا جبکہ جاگیر دار طبقہ صرف 5 ارب روپے ٹیکس جمع کرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنے میں یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ٹیکس سلیب کو ریوائز ہونا چاہئے، آئی پی پیز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، آئی پی پیز کو ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا جاتا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ آئی پی پیز والے کون لوگ ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ حکومت کو پٹرول کی قیمت بھی کم کرنی چاہئے، عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت میں کمی کا فائدہ پاکستان کے عوام کو ملنا چاہئے تاہم حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کر دیتی ہے جو قابل قبول نہیں۔