پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کے آل راؤنڈر سکندر رضا نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کے میچز شروع ہونے کا شدت سے انتظار ہے، ہمیں لگتا ہے کہ اس سیزن میں ہم اچھا کریں گے۔پریکٹس سیشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر رضا نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے لیے منتظر اور پرجوش ہیں، پچھلے ایڈیشن میں ہم سے غلطیاں ہوئیں اب غلطیوں پر قابو پانا ہے۔سکندر رضا کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کھلاڑی اکٹھے کھیل رہے ہیں اسی وجہ سے کلچر اور ماحول بڑا اچھا ہے، سب ایک فیملی کی طرح ہیں جس سے ڈریسنگ روم میں فائدہ ہوتا ہے، گراؤنڈ اور گراؤنڈ سے باہر اچھے کلچر کی وجہ سے بیک ٹو بیک ٹرافی جیتی ہیں۔لاہور قلندرز کے آل راؤنڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ راشد خان ہمارے لیے ایک فیملی کی طرح ہیں، ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں، راشد خان کی کمی پوری نہیں کی جا سکتی تاہم ان کی جگہ جو سپنر لیا ہے وہ بھی باصلاحیت ہے۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

عید کی تعطیلات کے بعد افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ

دنیا میں کوئی اور ملک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو اتنے طویل عرصے تک پناہ نہیں دے سکا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں اور بہنوں کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان نے کبھی بھی افغان مہاجرین سے منہ نہیں موڑا اور ان کی عزت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے عید کی تعطیلات کے بعد سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 40 سال سے زائد عرصے تک، پاکستان افغان مہاجرین کیلئے ایک مضبوط سہارا رہا ہے، انہیں پناہ، روزگار اور تعلیم فراہم کی، حالانکہ خود پاکستان کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا تھا۔ دنیا میں کوئی اور ملک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو اتنے طویل عرصے تک پناہ نہیں دے سکا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں اور بہنوں کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان نے کبھی بھی افغان مہاجرین سے منہ نہیں موڑا اور ان کی عزت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا۔ پاکستان نے افغان تنازعے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھایا، ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور اربوں ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود ان مہاجرین کو تنہا نہیں چھوڑا۔

عالمی برادری پاکستان کی مہاجرین کیلئے بے مثال خدمات کو سراہتی ہے، لیکن حقیقی ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ ایک منظم، قانونی اور منصفانہ وطن واپسی کا عمل یقینی بنایا جائے۔ دنیا صرف مہاجرین کے حقوق کی بات کرتی ہے، لیکن پاکستان نے عملی اقدامات کرکے لاکھوں افغان مہاجرین کو سہارا دیا، یہاں تک کہ جب عالمی امداد بھی ناکافی تھی۔ پاکستان کی سخاوت بے مثال رہی ہے، لیکن طویل المدتی استحکام کیلئے پائیدار حل ضروری ہے، وقت آگیا ہے کہ دنیا پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کو تسلیم کرے اور افغان مہاجرین کی محفوظ اور باوقار واپسی کو یقینی بنانے میں مدد کرے، بجائے اس کے کہ ایک خودمختار ملک کو اس کے اپنے قوانین پر عمل درآمد کرنے پر ناحق تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سلمان خان کا جادو چل گیا؟ فلم ’سکندر‘ بزنس کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آگئی
  • پاکستان سپر لیگ کے دوران اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نوٹیفکیشن جاری
  • راشد خان کی اسپن بولنگ میں جادوگری کم ہونے لگی
  • جلد تیسری جنگِ عظیم شروع ہونے والی ہے، برازیلین نجومی کی پیش گوئی
  • کیا سوزوکی کمپنی مہران گاڑی کی پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے؟
  • سلمان خان کی فلم ’سکندر‘ تیسرے دن ہی سینما سے کیوں اتار دی گئی؟
  • لائف کی سب سے خراب فلم، سلمان خان کی فلم سکندر بُری طرح فلاپ، کتنا کما سکی؟
  • پاکستان کرکٹ بورڈ میں مینٹور کی تنخواہیں کتنی ہیں؟ شعیب ملک کی وضاحت
  • عید کی تعطیلات کے بعد افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ