کیا سوشل میڈیا الگورتھمز ہماری دنیا محدود کر رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اپریل 2025ء) میں نے چند سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ میں اب وہاں پوسٹ کرنے کی بجائے بس سکرول کرتی ہوں اور دوسروں کا پوسٹ کیا ہوا مواد دیکھتی ہوں۔ میری سوشل میڈیا فیڈز مجھے میری پسند کے موضوعات پر ایک کے بعد ایک پوسٹ دکھاتی رہتی ہیں جنہیں میں کبھی لائک کرتی ہوں تو کبھی اپنے کسی دوست کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔
اس دوران اگر کسی جاننے والے کی کسی واقعے کی مناسبت سے پوسٹ سامنے آئے تو مجھے اس کا سیاق و سباق سمجھ ہی نہیں آتا۔ مجھے گوگل پر اس واقعے کی تفصیلات جاننا پڑتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر روزانہ گھنٹوں گزارنے کے باوجود بھی مجھے اس واقعے کے متعلق پہلے سے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
میرے ساتھ ایسا سوشل میڈیا کے الگورتھمز کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
(جاری ہے)
یہ الگورتھمز میری سوشل میڈیا فیڈ کو میرے لیے پرسنلائز بنانے کے چکر میں اسے محدود کرتے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا الگورتھمز قواعد اور حسابات کا ایک پیچیدہ مجموعہ ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا مواد دیکھنے والے کی فیڈ پر ظاہر ہو گا۔ ان الگورتھمز کا بنیادی مقصد صارفین کو طویل مدت تک ان پلیٹ فارمز پر مصروف رکھنا ہوتا ہے۔
ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنے الگورتھمز کو وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرتا رہتا ہے۔
اس ضرورت کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ ایک تو اپنے صارفین کو اچھا تجربہ دینا، دوسرا، اپنے پلیٹ فارمز کو منفی استعمال جیسے کہ سائبر کرائمز، جعلی خبروں، غلط معلومات اور ہراسانی سے محفوظ رکھنا اور تیسرا، اپنے پلیٹ فارم کے مالیاتی ماڈل کو مزید مضبوط کرنا۔ان تمام عناصر کے ملاپ کے بعد یہ الگورتھم صارفین کی فیڈز کو ان کے پسند کے مواد کا لیبل دیتے دیتے بالکل محدود کر دیتے ہیں۔
وہ ان کے سامنے سے ایسا مواد بھی ہٹا لیتے ہیں جو شاید ان کی دلچسپی کا ہو لیکن اس مواد کو بغیر اشتہار کے اس تک پہنچانے میں اس پلیٹ فارم کا نقصان ہو رہا ہو۔فیس بک کی مثال لے لیں۔ 2006 میں فیس بک کا کمرشل استعمال شروع ہوا تھا۔ اس وقت فیس بک صارفین کے پیج پر تازہ ترین پوسٹ سب سے پہلے دکھاتا تھا۔ آہستہ آہستہ فیس بک پر صارفین کی تعداد بڑھی تو اسے اپنا الگورتھم بہتر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
2009 میں فیس بک نے ایج رینک نامی الگورتھم کا استعمال شروع کیا۔ اس کا مقصد صارف کی نیوز فیڈ کو اس کی پسند ناپسند کے مطابق ترتیب دینا تھا۔ وہ صارفین کو ان کے ایسے دوستوں یا عزیزوں کی پوسٹ دکھاتا تھا جن کے ساتھ وہ اکثر فیس بک پر رابطے میں رہتے تھے۔ اس میں بھی وہ مواد کو فلٹر کرتا تھا۔ ٹیکسٹ پوسٹ کے مقابلے میں تصاویر یا ویڈیوز والے مواد کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔ اور وہ یہ سارا مواد تازہ ترین سے پرانے ترین کی ترتیب میں دکھاتا تھا۔2013 میں فیس بک نے ایج رینک کو مشین لرننگ سے بدل دیا تھا۔ یہ ہزاروں عوامل کی بنیاد پر صارف کی نیوز فیڈ کو ترتیب دیتا تھا۔ یہ صارف کے فیس بک استعمال کو تفصیل سے دیکھتا تھا، وہ کب لاگ ان ہوتے ہیں، کتنی دیر نیوز فیڈ دیکھتے ہیں، کس پوسٹ کو لائک کرتے ہیں، کس پر تبصرہ کرتے ہیں، کس پر تبصروں کو پڑھتے ہیں، کس کو شیئر کرتے ہیں اور بہت کچھ۔
فیس بک وقت کے ساتھ ساتھ اپنے الگورتھم کو مزید بہتر کرتا گیا۔ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر صارفین کے لیے ”میننگ فُل سوشل انٹریکشنز" بڑھانے کے لیے اپنے الگورتھم میں مزید تبدیلیاں کیں۔ ان میں دوستوں اور خاندانوں کی طرف سے مواد کو فروغ دینا، فیس بک پر مکالمے کو فروغ دینا اور ایسے مواد میں کمی لانا شامل تھا جسے صارفین بس دیکھتے تھے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا انٹریکشن نہیں کرتے تھے۔
اس سے صارفین کی نیوز فیڈ سے بہت سا مواد غائب ہو گیا۔ ہم میں سے شاید بہت سوں کو اس بات کا احساس ہی نہ ہوا ہو۔ اس کے ساتھ اصل زندگی میں لوگوں سے کم میل جول، ہر قسم کی معلومات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار اور وہاں ان الگورتھمز کی وجہ سے محدود مواد تک رسائی نے لوگوں کی معلومات، سمجھ بوجھ اور تخلیقی صلاحیتوں کو کافی حد تک متاثر کیا۔
فیس بک نے اپنے الگورتھم کے ذریعے برانڈز کے لیے آرگینک ریچ بھی کم کر دی ہے۔ اب برانڈز کو اپنی پوسٹس فیس بک صارفین تک پہنچانے کے لیے پہلے سے زیادہ اشتہار خریدنے پڑتے ہیں۔ پھر فیس بک پر اس کے الگورتھم کی وجہ سے جذباتی یا متنازعہ پوسٹ زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ لوگ ایسی پوسٹس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ تعامل کرتے ہیں۔
لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا الگورتھم صارفین کی دلچسپی کے بغیر مکمل کام نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا الگورتھمز فلٹر ببلز بناتے ہیں جبکہ صارفین ایکو چیمبرز بناتے ہیں جہاں انہیں ایک ہی طرح کے نظریات سننے کو ملتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا الگورتھمز صارفین کےرویوں کو صرف بڑھاتے ہیں لیکن خود سےکمیونٹیز یا ایکو چیمبرز نہیں بناتے تاہم یہ ایکو چیمبرز فلٹر ببلز کے سہارے کے بغیر نہیں بن سکتے۔
لوگوں سے پوچھا جائے تو انہیں سوشل میڈیا الگورتھم کی بنیادی سمجھ ہوتی ہے لیکن وہ اس سمجھ کو سماجی اثرات پر لاگو نہیں کر سکتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مواد فلٹر کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں "پوری کہانی" دکھائی جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ الگورتھمز کو "ٹرین" کر سکتے ہیں لیکن اصل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے انہیں بس یہ خیال دیا ہوتا ہے۔
اصل میں صارفین کے پاس سوشل میڈیا پر محدود اختیارات ہوتے ہیں۔ہمیں سوشل میڈیا الگورتھمز کی نوعیت کو سمجھ کر ان کے اثرات کا شعوری طور پر تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہمیں مخصوص قسم کے مواد تک محدود کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی دنیا وسیع کرنے کے لیے خود اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے دائرے سے باہر نکل کر حقیقی دنیا میں لوگوں سے ملیں، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اپنی میڈیا خواندگی کو بہتر بنائیں۔
اس طرح ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنا سکیں گے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھ بھی سکیں گے۔نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔
.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پلیٹ فارمز پلیٹ فارم صارفین کے صارفین کی فیس بک پر نیوز فیڈ کرتے ہیں مواد کو کر سکتے کرنے کی کے ساتھ ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے متعلق سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرنے پر پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج
صدر مملکت سے متعلق سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرنے پر پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق پولیس افسر کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت سکھن تھانے کے ڈیوٹی افسر یعقوب کی مدعیت میں درج کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایس آئی او ابرار شاہ کو گرفتار کر لیا، صدر مملکت کے خلاف پوسٹ کرنے والا افسر ایس آئی او ابراہیم حیدری میں تعینات ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق ایس آئی او ابرار شاہ نے 2 اپریل کو سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ پوسٹ کئے، ابرار شاہ کی پوسٹ سے میری اور دیگر شہریوں کی دل آزاری ہوئی۔