ٹرمپ کا مارین لی پین کی حمایت میں بیان، فرانس میں “سیاسی سازش” کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کی دائیں بازو کی سیاستدان مارین لی پین کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا، جس میں فرانس کی عدالت کی جانب سے انہیں یورپی یونین کے فنڈز میں خردبرد کے جرم میں سزا دی جانے کو “وچ ہنٹ” قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا، “فری مارین لی پین” اور اس فیصلے کو ایک سیاسی سازش قرار دیا۔
لی پین، جو نیشنل ریلی پارٹی کی رہنما ہیں، کو پیرس کی ایک عدالت نے پانچ سال کے لیے سیاستی عہدوں سے نااہل قرار دیا تھا اور انہیں 100,000 یورو کا جرمانہ اور چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، ان میں سے دو سال کی سزا معطل کر دی گئی ہے اور انہیں گھریلو حراست میں رکھا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ “یہ ایک چھوٹے الزام پر مارین لی پین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک ‘بک کیپنگ’ کی غلطی ہو سکتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام فرانس اور اس کے عوام کے لیے نقصان دہ ہے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔
ٹرمپ کی حمایت میں ایلون مسک بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ “جب بائیں بازو کی جماعتیں جموکری طریقے سے نہیں جیت پاتیں تو وہ مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے قانونی نظام کا غلط استعمال کرتی ہیں۔”
مارین لی پین نے اس فیصلے کو “سیاسی فیصلہ” اور “قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے اور اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق، لی پین اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کریں گی۔
یہ تنازعہ فرانس میں دائیں بازو کی سیاست کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر 2027 کے فرانسیسی صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ، جہاں مارین لی پین کو اہم امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔
اس کیس کی عالمی سطح پر توجہ اور ٹرمپ اور مسک کی حمایت سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یورپ میں دائیں بازو کے سیاستدانوں کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیاں صرف سیاسی نوعیت کی ہیں یا یہ درحقیقت قانونی نظام کا ایک جواز بن چکا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارین لی پین قرار دیا کی حمایت کے لیے
پڑھیں:
وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، غلام محی الدین میر
نیشنل کانفرنس کے اسمبلی ممبر نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقف بل پر نظرثانی کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ وقف ترمیمی بل جسے پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا۔ جموں و کشمیر کے رکن اسمبلی غلام محی الدین میر نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ ایم ایل اے راج پورہ نے بل کو مسلم مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کی حرکت ناقابل قبول ہے کیونکہ ایسا مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بل کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا۔ محی الدین میر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس حکومت وقف ترمیمی بل کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ بل کو متعارف کرانے سے حکومت کو ایسا ہتھیار مل جائے گا جسے وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کرے گی۔
محی الدین میر نے اس بل کو غیر آئینی اور مسلم مخالف قرار دیا۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ جموں و کشمیر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی ریاستی درجہِ بحال کرنے کے حوالے سے اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ نے ریاستی درجہ بحال کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ اسے فوری طور پر پورا کیا جائے۔