مارشل لا کا نفاذ، جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
مارشل لا کا نفاذ، جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
سیئول:جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے صدر یون سک یول کو عہدے سے فارغ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے یون سک یول کے مواخذے کی توثیق کردی۔
رپورٹ کے مطابق عدالت کے آٹھ ججوں نے متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مارشل لاء کے اعلان اور فوج کو پارلیمنٹ بھیجنے سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ صدر یون سک یول کی غیرآئینی اور غیر قانونی کارروائیاں جمہوریت کے لیے خطرہ تھیں.
رپورٹ کے مطابق جنوبی کرین عدالت کی جانب سے ملک میں 60 روز میں نئے صدارتی انتخابات کرانے کا بھی حکم جاری کردیا گیا ہے۔
وزیرِاعظم ہان ڈُک سُو نئے صدر کی حلف برداری تک قائم مقام صدر کے طور پر خدمات انجام دیں گے ۔ فیصلے کے حق میں عوام نے یون سک یول کے خلاف مظاہرہ کیا۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کو ملک میں مختصر مارشل لا لگایا تھا جس کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی، بعد ازاں اپوزیشن جماعت کی صدر کے مواخذے کی پہلی تحریک ناکام ہو گئی تھی جس پر اپوزیشن اتحاد نے دوسری مرتبہ صدر کے مواخذے کی تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا اور صدر کو عہدے ہٹا دیا گیا۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کی ا ئینی عدالت نے صدر یون سک یول کو عہدے
پڑھیں:
وقف ترمیمی بل غیرآئینی اور مسلمانوں کی توہین ہے، اسد الدین اویسی
مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا کہ بی جے پی مندروں اور مساجد کے نام پر اس ملک میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ تاریخ پڑھیں، تو آپ دیکھیں گے کہ مہاتما گاندھی نے سفید فام جنوبی افریقہ کے قوانین کے بارے میں کہا تھا کہ میرا ضمیر اسے قبول نہیں کرتا، انہوں نے اس قانون کو پھاڑ دیا۔ اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ جس طرح مہاتما گاندھی نے کیا اسی طرح میں بھی اس بل کو پھاڑ رہا ہوں۔ اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بل پر بحث کے دوران اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کی تذلیل کرنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں مہاتما گاندھی کی طرح وقف بل کو پھاڑ دوں گا۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر آپ تاریخ پڑھیں تو جب افریقہ میں مہاتما گاندھی کے سامنے ایسا قانون پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اسے نہیں مانتا۔ انہوں نے اس قانون کو پھاڑ دیا تو میں مہاتما گاندھی کی طرح اس قانون کو پھاڑ دوں گا، یہ غیر آئینی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا کہ بی جے پی مندروں اور مساجد کے نام پر اس ملک میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بل کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد مسلمانوں کو نیچا دکھانا اور مندر و مسجد کے نام پر تنازعہ کھڑا کرنا ہے۔ اسد الدین اویسی نے وقف ترمیمی بل کو لے کر پارلیمنٹ میں مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کو ناانصافی کا سامنا ہے اور یہ آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔