شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی آج ملک بھر کی طرح گڑھی خدا بخش بھٹو میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاری ہے، جہاں پیپلزپارٹی کی جانب سے جلسہ عام کا اعلان کیا گیا ہے جس سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اہم خطاب کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ملک بھر سے قافلوں کی گڑھی خدا بخش بھٹو آمد کا سلسلہ جاری ہے، جلسے کا باضابطہ آغاز سہہ پہر 2 بجے ہوگا جس میں ملک بھر سے آئے شعرا اپنی شاعری کے ذریعے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سمیت کئی رہنما گڑھی خدا بخش پہنچ گئے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹو میں جلسے کے لیے بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے، اسٹیج پر پارٹی پرچموں، رہنماؤں کی تصاویراور بینرز آویزاں کر دیے گئے۔ جلسہ گاہ کو پارٹی پرچموں اور بینرز سے سجاتے ہوئے بڑی اسکرینز نصب کی گئی ہیں، جلسہ گاہ میں ملک بھر سے آئے کارکنان کے لیے فرشی نشست کا بندوبستی کرتے ہوئے پنڈال تک داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں جہاں سے کارکنان کو جامعے تلاشی کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں محکمہ صحت سمیت مختلف محکموں کی جانب سے کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی انتہائی سخت کرتے ہوئے 32 ایس ایس پیز کی زیر نگرانی 7 ہزار سے زائد پولیس نفری کو نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش بھٹو میں تعینات کیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں آج ہی کے دن راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سٹیل ملز اور قومی پیداواری ادارے بنے۔ سپریم کورٹ پچھلے سال مارچ میں یہ فیصلہ دے چکی کہ ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمے میں ٹرائل منصفانہ نہیں تھا، صدارتی ریفرنس پر ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا اور رواں سال 23 مارچ کو انہیں نشان پاکستان عطا کیا گیا جو ان کی بیٹی صنم بھٹو نے وصول کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہید ذوالفقار علی بھٹو کی گڑھی خدا بخش بھٹو پارٹی کے ملک بھر
پڑھیں:
بھٹو کی برسی؛ پاکستان کو رول ماڈل مسلم ملک بنائیں گے
سٹی42: پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی پر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے، ہم مل کر پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے غیر متزلزل عزم سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک رول ماڈل مسلم ملک بنائیں گے۔
سوشل پلیٹ فارم ایکس پر بلاول بھٹو نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر اپنی خصوصی پوسٹ میں لکھا، عدالت نے 45 برس بعد اعتراف کیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے۔
افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟
انہوں نے لکھا کہ 46 سال قبل آج کے دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کو رات کے اندھیروں میں جعلی مقدمے میں پھانسی دی گئی، جبکہ دورانِ ٹرائل انصاف کے تقاضوں تک کو پورا نہیں کیا گیا جسں کا اعتراف 45 سال کے بعد سپریم کورٹ نے بھی کیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے۔
بلاول نے مزید لکھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ عہد ساز شخصیت ہیں، جو سیاست کو محلات سے نکال کر ملک کی عوام کے درمیان لائے، طاقت کا سر چشمہ عوام کو بنایا اور ایک جمہوری پاکستان کے لیے ان کے وژن اور قربانی کی کوئی مثال نہیں ملتی، ملک کے متفقہ آئین کی تشکیل سے لے کر جوہری پروگرام اور زرعی و صنعتی اصلاحات قائدِ عوام کے تحائف ہیں۔
صدر پاکستان کبڈی فیڈریشن کی اہلیہ کا انتقال،نواز شریف تعزیت کے لئے گھرپہنچ گئے
بلاول بھٹو نے پاکستان کو امتِ مسلمہ کا رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ آئیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 46 ویں یومِ شہادت کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم مل کر پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے غیر متزلزل عزم سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک رول ماڈل مسلم ملک بنائیں گے۔
تاریخ کی درستگی
پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کو الگ ادارے کی قانونی حیثیت حاصل
ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی 46 ویں برسی آج منائی جارہی ہے ۔ انہیں 4 اپریل 1979 کو علی الصبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک متنازعہ قتل کیس میں انتہائی نقاص سماعت کے نتیجہ میں سنائی گئی انتہائی متنازعہ سزا پر نام نہاد عملدرآمد کرنے کے نام پر پھانسی دی گئی تھی، پاکستان کے عوام، قانون دانوں اور تاریخ کے سٹوڈنٹس نے ہمیشہ اس پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا اور 2024 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اپنے تاریخی فیصلہ میں اس عمل کو عدالتی قتل ہی قرار دے کر تاریخ کی درستگی کر دی۔ جس ڈکٹیٹر کی طالع آزمائی کی ہوس نے بھتو کو تختہِ دار پر شہید کیا اس کا اب نام کوئی نہیں لیتا لیکن زیڈ اے بھٹو کا نام اب بھی آب و تاب کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کے ایک درخشاں باب کا عنوان ہے۔
آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی کارروائی, ناجائز اسلحہ سپلائی کرنے والا گروہ گرفتار
Waseem Azmet