نئی دہلی: بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد حکومت کا متنازع وقف ترمیمی بل اب راجیہ سبھا سے بھی منظور کرلیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق، بل کی منظوری کے لیے 236 ارکان میں سے 119 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ 

لوک سبھا میں اس بل کی کانگریس نے سخت مخالفت کی تھی، اور اب ایوان بالا میں بھی مخالفت کا سلسلہ جاری رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ سخت گیر ہندو تنظیم شیوسینا بھی بل کے خلاف بول پڑی ہے۔ 

مہاراشٹرا سے راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’بی جے پی مسلمانوں کی اتنی فکر کر رہی ہے، جتنا شاید محمد علی جناح بھی نہ کرتے!”

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کا مسلمانوں کی وقف جائیدادیں بیچ کر مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لیے فنڈ بنانے کا اعلان ایک کھلا سیاسی دھوکہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہی حکومت مسلمانوں کو کبھی دہشتگرد تو کبھی غدار کہتی رہی ہے، اور اب انہی کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقف ترمیمی بل کو بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جائیدادوں پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مختلف مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مودی کی مسلم دشمنی، وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش

 

کانگریس سمیت مودی کی اتحادی جماعتوں نے بھی بل کی شدید مخالفت کی ہے
تمام مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم کا اعلان

مودی سرکار نے بھارت میں مسلمانوں کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل مذہبی آزادی پر ایک اور قدغن لگانے کی تیاری کرلی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومتی رکن نے بل لوک سبھا میں وقف املاک سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا ہے ۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے تاکہ املاک پر قبضے ، وراثت اور دیگر معاملات میں ابہام کو دور کیا جاسکے ۔تاہم مسلمان رہنماؤں اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو مسلمانوں کی وقف املاک ہڑپنے کی حکومتی سازش قرار دیا۔بل پر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مرکزی حکومت سے فوری طور پر بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا کہ اکثریت کے نام پر مودی سرکار اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں لوک سبھا میں تیسری بڑی جماعت سماج وادی پارٹی، ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، کشمیر کی نیشنل کانفرنس، این سی پی (شرد پوار)، لالو پرساد کی آر جے ڈی، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ان تمام جماعتوں نے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ اس بل پر متحدہ اپوزیشن کے حق اور حکومت کے خلاف ووٹ کاسٹ کریں۔دریں اثنا بھارت کی تقریباً تمام ہی مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیشی رہنما ڈاکٹر یونس اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی ملاقات ہوگئی
  • بھارت: متنازع وقف بل منظور، اب صرف صدر کی توثیق باقی
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، غلام محی الدین میر
  • مودی سرکار نے مسلمانوں کی اوقاف ہتھیانے کے لیے ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا 
  • بھارت: اسد الدین اویسی نے احتجاجاً متنازع وقف ترمیمی بل پھاڑ دیا
  • بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور
  • مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور
  • مودی کی مسلم دشمنی، وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں مداخلت ہے، مولانا طارق قاری