پاکستان کا سلامتی کونسل سے غزہ پر خاموشی توڑ کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ پر خاموشی توڑ کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فلسطینی مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان، روس، چین، صومالیہ کی حمایت سے الجزائر نے طلب کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یو این قراردادوں، جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، سلامتی کونسل غزہ پر خاموشی توڑ کر اپنا کردار ادا کرے، فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے، ہم ایسے ادارے کاحصہ نہیں بن سکتے جو خاموش تماشائی بنا رہے۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کی سکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ بنانے کی ہدایت
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس اخلاقی دیوالیہ پن کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں، سلامتی کونسل اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سبکدوش ہونے والے مستقل مندوب منیر اکرم کے اعزاز میں الوداعی استقبالیہ
نیو یارک:اقوام متحدہ میں پاکستان کے سبکدوش ہونے والے مستقل مندوب، منیر اکرم کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ان کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
نئے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا بھی پُرتپاک استقبال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں کی سرپرستی کر رہا ہے، منیر اکرم
سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا منصب سنبھالتے ہوئے کہا کہ وہ منیر اکرم کی بطور سفیر خدمات کو ہمیشہ سراہتے رہیں گے اور ان کے کام سے حاصل کردہ تجربات کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں گے۔
اس تقریب میں پاکستان کے مختلف سفارتی عہدیداران اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور منیر اکرم کی خدمات کی تعریف کی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی اقوام متحدہ میں مزید فعال اور مضبوط نمائندگی کے لیے کام کریں گے۔