اقتصادی خودمختاری، پابندیوں کا مؤثر جواب یا محض خواب؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
اگر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ پرنظردوڑائیں تواس میں دو ٹوک اورسخت پاندیاں لگاتے ہوئے کہاگیاہے کہ ان چاروں کمپنیوں کے امریکا میں موجودیا امریکی افرادکی تحویل میں موجود تمام تراثاثے منجمد کردئیے جائیں گے۔ان کمپنیوں کی ملکیت رکھنے والے افرادکے امریکامیں داخلے پربھی پابندی لگادی جائے گی اورامریکی شہریوں کوان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیاجائے گا۔
چین کی42کمپنیاں ہیں جوجدیدالیکٹرانک اورمیزائل ٹیکنالوجی سے منسلک ہیں جن میں اہم نام ہوائے کلاڈ،سینوٹیک الیکٹرانکس اورچینجڈو ایروسپیس ہیں۔ان کمپنیوں پریہ الزامات ہیں کہ یہ چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی جدید ڈرون ٹیکنالوجی سپلائی کرنے میں ملوث ہے اور2018ء میں بیلاروس کی منسک ڈیفنس سلوشن سمیت7انجینئرنگ کمپنیوں کوبھی اس فہرست میں شامل کرلیاگیاجس پر پابندیاں عائدکردی گئیں۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کی چارکمپنیاں ڈیزرٹ فالکن ٹیکنالوجیز،سکائی لائن ڈیفنس سلوشن کونامزدکیاگیاہے جوایران کو شہاب تھری میزائل کے جائرو اسکوپس پرزے اورڈرونز کے پرزے سپلائی کررہی ہیں۔یوکرین کو امریکی ہتھیار فراہم کرنے والی کمپنیوں نے رپورٹ کیا کہ روس ایرانی ساختہ ڈرونزکے ذریعے یوکرین پرحملے کررہاہے جن کے پرزے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے سپلائی کئے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا، لیکن ایران کے ساتھ تجارت میں کمی کردی ہے لیکن ایک اطلاع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے غیرسرکاری سطح پر پرزے سپلائی کرنے والی کمپنیوں کوبندکردیا ہے۔اس کے ساتھ ہی یو اے ای کی تجارتی برادری میں شدیدتشویش پائی جاتی ہے۔
چین کاجے ایل تھری سب میرین میزائل منصوبہ بھی سست روی کاشکارہے جس میں سینوٹیک الیکٹرانکس کاکردارتھا۔چین کی کمپنی ہووائے کلاڈکے شئیرزمیں15فیصد کمی آگئی ہے جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو20بلین ڈالرتک گرگئی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں جب امریکا نے پاکستان یا دیگر ممالک کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہوں۔ اپریل 2004 ء میں چین کی3اوربیلاروس کی ایک کمپنی پرپابندی عائدکی گئی جوپاکستان کے میزائل پروگرام میں مدددے رہی تھیں۔ 2018ء میں پاکستان کی7اورانجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیاگیاتھا۔
2018 ء میں کراچی انجیئرنگ ورکس پر ’’روٹرز‘‘ سنٹری فیوج کی غیر قانونی فروخت کی بنا پر پابندی لگا دی گئی تھی اسی طرح دسمبر2021ء میں پاکستانی کمپنیوں پرجوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ مددکے الزام میں پابندیاں لگائی گئی تھیں اور اب 2021ء میں سپارکوپرراڈارسے بچنے والے اسٹیلتھ میٹریل ڈیسٹومیں ترقی حاصل کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے اورڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن ’’ڈیسٹو‘‘پر غوری4میزائل کے لئے ڈیجیٹل گائیڈنس سسٹم کی تیاری کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے اور ’’گڈز‘‘گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشن پرجے ایف تھنڈر 17 طیاروں کے لئے ایل ای ڈی ایویونکس کوتیارکرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی انجینئرنگ ورکس پریورینیم افزودگی میں استعمال ہونے والے ’’پی ٹوسنٹرفیوج‘‘کے پرزے تیارکرنے کے الزام میں پابندی لگادی گئی ہے۔پاکستانی کمپنی ’’واہ نوبل گروپ‘‘ کو جوہری ری ایکٹرزمیں استعمال ہونے والے’’ڈی ٹواو‘‘ ہیوی واٹرکی غیرقانونی فروخت کاالزام لگاکرپابندی لگادی گئی ہے۔
اپریل2024 ء میں چین کی چینجڈوایروسپیس پریہ الزام لگاکرپابندی عائدکردی گئی کہ یہ پاکستان کے بابرتھری کروزمیزائل کے لئے کمپوزٹ میٹریل سپلائی کرتی ہے جومیزائل کوایک ہزارکلومیٹرتک رینج فراہم کرتے ہیں اوربیلا روس کی منک ڈیفنس سلوشن پر اس لئے پابندی عائد کی گئی کہ وہ پاکستان کے شاہین تھری میزائل کے لئے سٹیلتھ کوٹنگ کی ترقی میں مدددے رہی ہے۔
امریکی مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں امریکی پالیسی کاحصہ ہیں جوحساس ٹیکنالوجیزکی منتقلی روکنے کے لئے بنائی گئی ہیں لیکن عالمی ماہرین کو اس دہرے معیارپربہت تحفظات ہیں کہ خطے میں بھارت برملاان عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کررہاہے لیکن اس کے باوجودامریکااوراس کے اتحادی’’سول ایٹمی ٹیکنالوجی معاہدے‘‘کی آڑمیں نہ صرف بھارت کی مدد کررہے ہیں بلکہ اس پراپنی آنکھیں بھی بندکرکے مکمل خاموش ہیں۔
امریکی پابندیوں کے جواب میں مختلف ممالک کاردعمل سامنے آیاہے۔چین نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے’’امریکی یکطرفہ کارروائی ‘‘ قرار دیا ہے اورعالمی تجارتی تنظیم ’’ڈبلیوٹی او‘‘میں اس کی شکائت درج کرانے کا عندیہ دیاہے۔چین نے جوابی پابندیوں کااعلان کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قراردیاہے جبکہ پاکستان نے امریکاسے ان پابندیوں کی وضاحت طلب کرتے ہوئے اسے سفارتی سطح پراٹھانے کے لئے داخلی سطح پرایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جواس پرفوری مناسب اقدامات اٹھائے گی جبکہ ان پابندیوں کے رد عمل میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ یہ پابندیاں ہمارے دفاعی حق پرحملہ ہیں،ہم اپنے دفاعی پروگرامز پرکسی کوٹوکنے نہیں دیں گے اورہم اپنے میزائل پروگرام کوجاری رکھیں گے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے آئی اے ای اے کوخط لکھ کرامریکی پابندیوں کوغیرمنصفانہ قراردیاہے۔امریکاپاکستان کوجوہری عدم پھیلاؤ’’این ٹی پی‘‘کے معاہدے پردستخط کرنے پر مجبور کرناچاہتاہے جبکہ پاکستان کامؤقف ہے کہ ہماری ایٹمی صلاحیت دفاعی ہے اورکسی کو کوئی خطرہ نہیں۔
پاکستان کے لئے ٹیکنالوجی کا مقامی حل یہ ہے کہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوسیمی کنڈکٹرریسرچ لیب قائم کرنے کے لئے فنڈزمہیا کئے جائیں۔
اقوام متحدہ میں جوہری عدم پھیلاکے معاہدے پربین الاقوامی مذاکرات شروع کئے جائیں جہاں نئی شرائط پربات چیت کرکے تیسری دنیاکے ممالک کوایسی نارواپابندیوں کے عذاب سے محفوط کیاجائے۔
عالمی تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ تمام متاثرہ ممالک مل کرجوابی پابندیوں سے امریکاکوبہترین جواب دے سکتے ہیں جس کی ایک مثال تویہ ہے کہ امریکاکی مائیکروچپ صنعت کاچین پر80 فیصد انحصارکرتی ہے اورچین ان پابندیوں کے جواب میں اس کااعلان کرچکاہے کہ وہ ان بیجااورناروا پابندیوں کاضرورجواب دے گا۔اب امریکاکے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے ان پابندیوں پروضاحت طلب کی جائے۔
بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت امریکاکے فیصلے کوچیلنج کیاجائے۔ اقوام متحدہ یاعالمی تجارتی تنظیم میں ان غیرقانونی پابندیوں کے خلاف اپیل دائرکی جائے۔ قانونی اقدامات اٹھاتے ہوئے متاثرہ کمپنیوں کے لئے قانونی چارہ جوئی کے راستے تلاش کئے جائیں۔ امریکی پابندیوں سے متاثر ممالک فوری طورپرمتبادل تجارتی راستے اختیار کرتے ہوئے اقدامات اٹھائیں۔ چین، روس، ترکی اورمشرق وسطی کے دیگرممالک کے ساتھ تجارت کوفروغ دیں۔ اپنی دفاعی اورصنعتی صلاحیتوں کوبڑھانے کے لئے اندرونی وسائل پر توجہ دیں۔ اپنی کمپنیوں کے تجارتی طریقوں کوعالمی قوانین کے مطابق شفاف بنانے کے لئے اندرونی نگرانی کے عمل کوفروغ دیں۔ جوہری اورمیزائل پروگرامزکے بارے میں بین الاقوامی ایجنسیوں آئی اے ای اے کی رپورٹنگ کوبڑھانے کی ضرورت پرزوردیں ۔ امریکاکی جاسوسی سے بچنے کے لئے خفیہ کمیونیکیشن نیٹ ورکس قائم کرکے سائبرسیکورٹی کے نظام کومزیدمضبوط بنایا جائے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہاکہ ہرصورت سی پیک کوکسی بھی بیرونی دباؤسے محفوظ رکھاجائے گا۔ پاکستان اورچین سی پیک کی حفاظت کے لئے گورڈن گارڈزفورس کوجدیدسیکورٹی ٹیکنالوجی سے لیس کریں گے۔ امریکی پابندیوں کامقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مستقل بنیادوں پرمستقبل کی حکمت عملی کالائحہ عمل تیارکیاجائے۔
جدیدٹیکنالوجی کے دورمیں آئی ٹی نے تمام ٹیکنالوجیزپرسبقت حاصل کرلی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں سائبرجنگ کی تیاری کے لئے اے آئی آرٹیفشل ٹیکنالوجی سے پاکستان کے سیکورٹی کمانڈ کو جدید ترین نیشنل سائبرٹولزسے لیس کیاجائے۔ تمام متاثرہ ممالک روس،چین اورترکی کے ساتھ ٹیکنالوجی شیئرنگ معاہدوں کاآغازکریں اور مضبوط بنیادوں پرسیکورٹی ٹولزکا تبادلہ کیاجائے۔
امریکی پابندیاں عالمی تجارتی نظام اورسفارتی تعلقات پرگہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان ، چین ،اور دیگرمتاثرہ ممالک کواپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عالمی سطح پراپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگریہ ممالک سفارتی اور تجارتی سطح پرمؤثرحکمت عملی اختیارکرتے ہیں،تووہ ان پابندیوں کے ممکنہ منفی اثرات کوکم کرسکتے ہیں ۔ امریکاکی یہ پابندیاں جیوپولیٹیکل کشمکش کاحصہ اورطاقت کے نئے عالمی توازن کی عکاس ہیں،جس میں چین کوروکنے کیلئے پاکستان جیسے اتحادی کونشانہ بنا کر دبائو میں لیا جارہا ہے ۔
متاثرہ ممالک کوچاہیے کہ ان چیلنجزسے نمٹنے کے لئے مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی،بین الاقوامی سفارت کاری، اقتصادی خودمختاری کوترجیح دیں کیونکہ اقتصادی خودکفالت ہی ان تمام مسائل کی کلیدہے اورعلاوہ ازیں بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاعی حقوق کاتحفظ کریں۔
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پابندی لگادی گئی ہے متحدہ عرب امارات امریکی پابندیوں متاثرہ ممالک بین الاقوامی ان پابندیوں پابندیوں کے پاکستان کے پر پابندی میزائل کے کرتے ہوئے کے ساتھ ہے اور چین کی کے لئے
پڑھیں:
جرمن اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے بانیوں میں خواتین کی شرح کم کیوں؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 اپریل 2025ء) ایک حالیہ مطالعے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کہ جرمنی میں اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے بانیوں میں خواتین کی شرح پچھلے سال کچھ کم ہوئی اور اب صرف 19 فیصد ہے۔ یعنی ہر پانچ میں سے چار اسٹارٹ اپس کے قیام کے وقت ان کمپنیوں کے مالکان مرد ہوتے ہیں۔
یہ سروے اسٹارٹ اپ ایسوسی ایشن کی جانب سے بیرٹلزمان فاؤنڈیشن کے لیے کیا گیا، جس میں 1800 اسٹارٹ اپس کے مالکان اور 1000 طلبہ نے حصہ لیا۔
اس جائزے میں اسٹارٹ اپس کے بانیوں میں خواتین کی کم شرح کی مختلف وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے، جیسے کہ رول ماڈلز کا نہ ہونا اور معاشرے میں ان کے کردار کا روایتی تصور یا اسٹیریوٹائپس۔ اس اسٹڈی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاروبار چلانے اور گھریلو زندگی میں توازن رکھنا خواتین کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اب بھی گھر اور بچوں کا خیال رکھنے کی زیادہ تر ذمہ داریاں خواتین ہی کے حصے میں آتی ہیں اور بچوں کی پیدائش کے ساتھ کاروبار کا آغاز ان کے لیے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
(جاری ہے)
اس مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مردوں کی نسبت خواتین زیادہ بڑی عمر میں کاروبار شروع کرنے کا سوچتی ہیں۔ اس سروے میں شامل اسٹارٹ اپ مالکان میں سے دو تہائی مردوں نے نوجوانی یا طالب علمی میں ہی کاروبار شروع کرنے کا سوچ لیا تھا، جبکہ اکثر خواتین نے اس بارے میں زیادہ بڑی عمر میں سوچا کیوں کہ اس سے قبل ان کی ترجیحات دوسری تھیں۔
سروے کے جواب دہندگان میں سے 60 فیصد طالبات نے مستقبل میں ایسی ملازمت کرنے کی خواہش ظاہر کی جو اپنے دورانیے کے لحاظ سے محفوظ ہو۔ تاہم یہی پہلو ایک تہائی سے بھی کم مرد طلبہ کی ترجیح تھا۔
نتیجتاﹰ نوجوانی میں چند ہی خواتین اسٹارٹ اپس کا آغاز کرتی ہیں اور اس حوالے سے ان کی سوچ آگے جا کر تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس مطالعے کے مطابق اسٹارٹ اپس کے بانیوں میں سے صرف ایک تہائی خواتین نے اپنا کیریئر شروع کرنے کے پہلے سال میں کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایک چوتھائی نے یہ فیصلہ اس کے بھی بعد کیا۔
اس مطالعے کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ کاروبار کے شعبے میں خواتین کی شمولیت ان کی عدم دلچسپی کے باعث نہیں بلکہ دیگر عوامل کی وجہ ہے اور اس سلسلے میں حالات کو خواتین کے لیے بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اسٹارٹ اپ ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرمنی خواتین کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، بالخصوص معاشی جمود کے دور میں کیونکہ اسٹارٹ اپس اس جمود کو کم کرنے اور معیشت میں جدت کا سبب بنتی ہیں۔
م ا / م م (ڈی پی اے)