Daily Ausaf:
2025-04-05@01:21:19 GMT

اپنے مادی جسم سے باہر پرواز کا تجربہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

لاتعداد ایسے علمی موضوعات ہیں جن پر لکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے عنوانات میں الجھایا گیا ہے کہ جن پر جتنے مرضی صفحات کالے کر لیں ان سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ مذہب، سیاست اور عصری مضامین پر لکھنے سے قارئین کا علمی اور شعوری معیار بڑھتا ہے مگر جب مذہبی مضامین میں تفرقہ ہو اور جمہوریت و سیاست صرف ایک شریف اور بھٹو فیملی یا عمران خان جیسے معروف مگر متنازعہ رہنما کے گرد گھوم رہی ہو تو اس سے علم و آگاہی یا شعور کشید کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہو جاتا ہے۔
دنیا کی کسی بھی ملک اور حکومت میں ایک طبقہ ایسا ہونا چایئے کہ جو دنیا و مافیہا اور غم روزگار سے الگ ہو کر ایسے جدید ترین علمی اور سائنسی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتا رہے کہ جس سے عوام الناس کی ’’شعوری آگہی‘‘ مسلسل پروان چڑھنے لگے۔
جدید ترین علوم میں عصر حاضر کے مضامین کے علاوہ کچھ ایسے ذاتی تجربات پر مشتمل مضامین بھی شامل ہیں جن کا تعلق ’’خرق عادات‘‘ (Para Normal) یا قبل از وقت کے واقعات (Foreseen Happenings) وغیرہ سے ہوتا ہے۔ روحانی پرواز کرنا بھی انہی مضامین میں سے ایک ہے جسے آپ اپنے مادی جسم سے نکل کر باہر سفر کرنے کا تجربہ (Traveling Out of Your Material Body) بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ ایسے کسی تجربے کا تعلق صرف اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے مگر اسے دوسروں تک پہنچانا اور متعارف کروانا ایک حیران کن علمی، حسیاتی اور محسوساتی تجربہ ہے۔ لیکن اس لحاظ سے یہ موضوع انتہائی حیران کن، دلچسپ اور سنسنی خیز ہے کہ ایک شخص اپنے اصل مادی جسم سے باہر نکل کر کیسے دور دراز کی چیزوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے یا انہیں عین اپنے سامنے ان کی اصلی حالت میں دیکھ سکتا ہے؟
یہ سوال ان چند منتخب افراد کے لیئے قطعا مشکل نہیں ہے جن کو اپنے مادی جسم سے واقعی باہر نکلنے کا تجربہ ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کا اپنے حسیاتی نظام کو اپنے شعور سے منسلک کرنے کا حیرت انگیز تجربہ ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کو عام حالات میں بھی روزانہ کی بنیاد پر تخیلاتی یا روحانی پرواز کرنے کا موقعہ ملتا ہے کہ جب ہم دور دراز کے مقامات اور افراد کے بارے میں سوچتے اور محسوس کرتے ہیں۔
لیکن ہم در حقیقت دور کی چیزوں کو صرف اپنی باطنی آنکھ سے دیکھتے اور محسوس وغیرہ کرتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسلام آباد، لندن، پیرس یا نیویارک وغیرہ میں ہوں مگر وہاں اپنی مادی موجودگی کے باوجود اپنے جسم سے نکل کر شنگھائی، یروشلم یا کسی دوسرے سیارے پر بغیر کوئی وقت ضائع کیئے اتنی ہی جلدی پہنچ کر چیزوں کو دیکھنے، چھونے اور محسوس کرنے لگیں جس طرح ہم اپنے پہلے اصل مقام پر چیزوں کو دیکھتے، چھوتے اور محسوس کرتے ہیں؟اگر کسی غیرمعمولی ماورائی صلاحیت کے حامل شخص کو ایسا تجربہ ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت نزدیک اور دور کی چیزوں کو اپنے حسیاتی دائرہ میں لا سکتا ہے تو اسے ہم ’’مادی جسم سے باہر پرواز‘‘ (Flight Out of Body) کا نام دیں گے۔
دنیا میں کچھ لوگ ٹائم ٹریول کا دعوی بھی کر چکے ہیں کہ جو بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل میں سفر کرنے اور مشاہدات کرنے کے بارے میں ہے۔ اس بنیاد پر وہ وقت کے تینوں زمانوں ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کچھ سچی پیش گوئیاں بھی کرتے ہیں۔ انسان کو وقت میں سفر کرنے پر عمومی عبور حاصل ہو تو وہ ابتدائے آفرینش اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کی عین درست پیش گوئی بھی کر سکتا ہے جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے انسانی اپنے موجودہ مادی جسم سے باہر نکلنا اور پھر اپنی ان پانچویں مادی حسوں کو اپنے مادی جسم کے بغیر استعمال کرنا سیکھ لے۔دنیا میں بہت سے ایسے غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک انسان گزرے ہیں جنہیں خرق عادات یا مافوق الفطرت (Super Natural) مظاہرے کرنے پر عبور حاصل تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اسی جگہ پروان چڑھتی ہے جہاں متنوع فکری ماحول اور سوچنے، غوروفکر کرنے اور سوال کرنے کی پوری آزادی ہو۔ ایسے گوہر نایاب خوبصورت علمی و فکری ماحول کے بغیر پیدا کرنا ممکن نہیں ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک و معاشرے میں نہ تو ایسا منفرد اور فکری تعلیمی نظام ہے اور نہ ہی ہمیں اپنے اردگرد ایسا ماحول میسر ہے جہاں ایسی تخلیقی سوچ کو پروان چڑھایا جا سکے۔ آنے والے ادوار ایسے نئے اور جدید علوم کے حیران کن ادوار ہیں جن میں ممکن ہے انسان اپنے اس ناقص مادی جسم سے بھی آزادی حاصل کر لے۔ ان روائتی مذہبی اور سیاسی زنجیروں کو توڑنے کا واحد ذریعہ ایسے ہی جدید علوم کو فروغ دینے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر وطن عزیز میں بھی ایسی جدید طرز کی فکر کو رائج کیا جائے تو ہم بھی جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں، جس کے بارے ایک حدیث مبارکہ ہے کہ،’’ایک لمحہ کی فکر دو جہانوں کی عبادت سے افضل ہے‘‘۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مادی جسم سے باہر اپنے مادی جسم اور محسوس کرتے ہیں چیزوں کو ہوتا ہے کے بارے کو اپنے سکتا ہے ہیں جن

پڑھیں:

اولی اسٹون گھٹنے کی انجری کے باعث انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز سے باہر

لندن:

انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی اسٹون گھٹنے کی انجری کے باعث اس سال زمبابوے اور بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچز سے باہر ہوگئے۔

اولی اسٹون نے دائیں گھٹنے کی سرجری کرائی ہے اور انہیں 14 ہفتے کی بحالی درکار ہوگی۔  

اسٹون نے گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف دو ہوم ٹیسٹ میچز میں سات وکٹیں حاصل کیں اور انہیں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے دوروں کے لیے منتخب کیا گیا لیکن وہ کسی میچ میں شامل نہ ہو سکے۔

گزشتہ ماہ ابوظہبی میں ناٹنگھم شائر کی پری سیزن ٹریننگ کے دوران ان کے گھٹنے میں تکلیف بڑھ گئی جس کے بعد مزید اسکینز کے نتیجے میں سرجری کی ضرورت پیش آئی۔  

اس انجری کے باعث اسٹون 22 مئی سے ٹرینٹ برج میں زمبابوے کے خلاف واحد ٹیسٹ اور بھارت کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز سے محروم رہیں گے تاہم وہ اگست میں لندن اسپرٹ کی جانب سے دی ہنڈریڈ میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔  

یہ اسٹون کے کیریئر میں ایک اور دھچکہ ہے جو گزشتہ سال تین سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس آئے تھے۔ انہوں نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف ڈیبیو کیا تھا لیکن مسلسل کمر کی چوٹوں کے باعث اگلے تین سال میں صرف دو ٹیسٹ میچز (نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف 2021 میں) اور 11 محدود اوورز کے میچز کھیل سکے۔  

اسٹون کی غیر موجودگی میں انگلینڈ کی فاسٹ بولنگ لائن اپ دباؤ میں آچکی ہے۔ مارک وُڈ پہلے ہی گھٹنے کی سرجری کے باعث چار ماہ کے لیے باہر ہو چکے ہیں جبکہ ان کے ساتھی بریڈن کارس پیر کی انجری سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کپتان بین اسٹوکس بھی ہیمسٹرنگ سرجری کے بعد بحالی کے عمل میں ہیں اور زمبابوے کے خلاف دستیابی کے لیے کوشاں ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اولی اسٹون گھٹنے کی انجری کے باعث انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز سے باہر
  • مارک چیپ مین پاکستان کیخلاف تیسرے ون ڈے سے بھی باہر
  • اپنی کایا پلٹنا
  • مشہور ڈرامہ ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ
  • پاراچنار پریس کلب کے باہر 5 ہفتے سے احتجاج جاری
  • 100 مسلمانوں کو مارنے کا خواہشمند 17 سالہ نوجوان گرفتار
  • بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟
  • غیبت امام ’’خیرالماکرین‘‘ کی حکمت عملی
  • آج کا دن کیسا رہے گا؟