Daily Ausaf:
2025-04-05@01:16:56 GMT

Darkness at Noon

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

فریڈرک نطشے ایک جرمن فلاسفر اور استاد گزرا ہے جو 1844 ء میں پیدا ہوا اور 1900 ء میں وفات پا گیا۔ فلسفہ کے علاوہ اس کے دوسرے اشغال میں نثری شاعری، ثقافتی تجزیہ نگاری وغیرہ کا بھی کافی غلبہ رہا لیکن جس تندہی سے اس نے جدید فلسفہ پر کام کیا اس کی بدولت اس کے اقوال آج بھی زریں اقوال کے طور پر quote کیے جاتے ہیں۔
فریڈرک نطشے جب یونیورسٹی میں پروفیسر تھا تو اس وقت جرمنی کی یہ حالت تھی کہ وہ تقریباً سولہ حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔فرانس، بیلجئم آسٹریا اور یورپ کے دوسرے ممالک جرمنی کے علاقوں کو لوٹ کا مال سمجھ کر اپنی ریاست کا حصہ بنا چکے تھے ۔ وہ جرمنی کی اس حالت پر جب بھی کلاس میں بات کرتا ہے تو نوجوان نسل اس کو قسمت پر ڈال دیتی ہے اور خدا کا کام کہہ کر معاملے سے جان چھڑاتی ۔ نطشے طالبعلموں کے اس رویے سے ایک نفسیاتی کرب کا شکار ہو جاتا۔ خدا کی قدرت ایک دن اسی کرب میں وہ یونیورسٹی کے گرائونڈ میں دن کے وقت لالٹین لے کر کھڑا ہو گیا۔ یونیورسٹی کے دیگر طالب علموں نے اسکی اس حرکت پر کافی حیرانگی اور تعجب کا اظہار کیا اور نطشے سے پوچھا کہ دن کے وقت یہ لالٹین لئے کیوں کھڑے ہو جس کے جواب میں نطشے کہتا ہے Darkness at Noon ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔طلبا نے حیران ہو کر کہا پروفیسر صاحب آپ کو کیا ہو گیا ہے سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے اندھیرا کہاں ہے۔ نطشے جواب دیتا ہے بالکل اس طرح جیسے تمہیں اپنی حالت نظر نہیں آ رہی تم اپنے لہو لہان اور ٹکڑوں میں بٹے ملک کو نہیں دیکھ پا رہے اس سے بڑھ کر جرمن قوم کیلیئے اندھیرا کیا ہو گا ! اندھیرا تمہاری عقلوں پر پڑ چکا۔ نطشے کے یہ الفاظ اسکے طالبعلموں کیلیئے بیداری کی ایک شمع جلاتے ہیں۔ نطشے کا ایک طالب علم آگے بڑھتا ہے اوراونچی آواز میں کہتا ہے ہم بدلیں گے جرمنی کی یہ حالت اور یوں نطشے کے دکھائے راستے پر وہ قوم جوق در جوق چلنا شروع کر دیتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جرمنی نہ صرف ایک دفعہ پھر اپنی اکائی حاصل کر لیتا ہے بلکہ اسی یورپ میں کمانڈنگ پوزیشن بھی حاصل کر لیتا ہے ۔
قارئین آپ جانا چاہیں گے کہ جس طالبعلم نے نطشے کی بات کو ایک نعرہ دیا کہ ہم بدلیں گے جرمنی کی یہ حالت، اس جرمن طالب علم کا کیا نام تھا ۔ اس کا نام بسمارک تھا اور جرمنی کی تاریخ میں اسے Iron man of Germany کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ ہے وہ کہانی جو ہمیں بتاتی ہے کہ ٹکڑوں میں بٹی جرمن قوم نے کس طرح اپنا سفر شروع کیا۔ اس وقت جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو خاکسار کو لیاقت باغ کے جلسے میں گرجتی برستی شیرنی بینظیر کے وہ کلمات یاد آ رہے ہیں کہ ہم سنبھالیں گے پاکستان ہم بچائیں گے پاکستان۔ کاش اسکے ساتھ زندگی وفا کر جاتی اور تاریخ میں اسکا نام بھی بطور Iron Lady of Pakistan لکھا جاتا۔ وطن اج پھر اس شخص کی تلاش میں ہے جو قوم کو بتا سکے کہ یہ صوبائیت اور قومیت کے چکروں میں ہم کونسے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم کن اندھیروں کے سفر پر چل نکلے ہیں۔ میرا پاکستان اس وقت جس سب سے بڑے المیہ سے گزر رہا ہے وہ ہے اس کی وہ بدنصیبی کہ علم و شعور سے محروم طبقہ تو آسانی سے گمراہ ہو سکتا ہے لیکن ہماری بدنصیبی ان انتہائوں کو چھو رہی ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی ففتھ جنریشن وار کا حصہ بن کر دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع ہو گیا ہے اور انھے جب اس امر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور سچائی بتائی جاتی ہے تو وہ کسی کی بات سننا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ان دنوں ہمارے سماج کا یہ دستور بن گیا ہے کہ جو وہ کہتے اور سمجھتے ہیں وہی سچ ہے دوسرے الفاظ میں وہ اپنی مرضی کا سچ سننا چاہتے ہیں۔ ہمارے اس سماجی روئیے پر اپنی قوم کو یکجہتی کا راستہ دکھانے والا نطشے کا ایک قول بڑا قابل غور ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ بعض اوقات لوگ سچ سننا نہیں چاہتے کیونکہ وہ اپنے وہم کو بکھرتے دیکھنا نہیں چاہتے۔
قارئین آپ نے دیکھا ہو گا کہ راقم جب بھی کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو وہ عجز کی انتہائوں کو چھوتے ہوئے اپنے لیے لفظ خاکسار استعمال کرتا ہے اور اپنے آپکو طفل مکتب سے تشبیہہ دیتا ہے لیکن آج نطشے کے اس قول پر بات شروع کرنے سے پہلے از راہ مذاق وہ نطشے کو بتانا چاہتا ہے کہ بھائی تم ہو گے بڑے فلاسفر اپنے دور کے ہمارے اس دور میں آج کل ہم جیسے کئی تم سے بھی بڑے بناسپتی فلاسفر بیٹھے ہیں اور ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگے اور تم نے اپنے قول میں جہاں یہ لکھا ہے کہ بعض اوقات میری سرکار یہ بعض اوقات کا صیغہ استعمال ہوتا ہو گا تمہارے زمانے میں ہمارے ہاں آج کل کے زمانے میں تو اکثر اوقات بلکہ مسلسل یہ ہو رہا ہے کہ لوگ سچ سننا نہیں چاہتے اور وہ اپنے وہم کو اس طرح سینے سے لگائے بیٹھے ہیں جیسے وہ ان کا کوئی ذہنی تخیل نہیں بلکہ اس نے انکی کوکھ سے جنم لیا ہو۔ سنجیدگی سے سوچیں کہ نطشے کس وہم کی بات کرتا ہے تو دانش کدہ کے مکیں سمجھتے ہیں کہ یہ وہم وہ وہم ہے جو آج کل ہمارے معاشرہ کی اکثریت کے ذہنوں میں پیوست ہو چکا ہے کہ ہم سے بڑا اس دنیا میں پارسا کوئی اور نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایناں دی منجی تھلے ڈانگ پھیرو تے ایناں توں وڈا گناہ گار کوئی نہیں۔ ایسے اشخاص کے متعلق کسی نے کیا سچ لکھا ہے کہ ہر دیوار پہ تیرا نام لکھا ہے۔ کہیں صاحب، کہیں محترم ، کہیں جناب لکھا ہے۔ اوپر تلاش گمشدہ نیچے ذہنی توازن خراب لکھا ہے ۔ میرے وطن کہاں سے لاں نطشے اور کہاں سے لاں بسمارک۔ میرے پاس تو جو میسر ہیں وہ کچھ وڈیرے باقی لٹیرے ہیں باقی رہی بات ملک کی تو وہاں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نہیں چاہتے جرمنی کی لکھا ہے ہے اور

پڑھیں:

تھیٹرز کے نام پر کسی کو فحاشی ‘ بے حیائی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: عظمیٰ بخاری 

لاہور+شیخو پورہ (نوائے وقت رپورٹ+نمائندہ خصوصی) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کے کہ تھیٹرز کے نام پر کسی کو فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ تھیٹرز مالکان اپنی انڈرٹیکنگ کے مطابق تھیٹرز کو چلانے کے پابند ہیں۔ جو تھیٹرز مالکان انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی کریں گے ان کو تھیٹر چلانے کی اجازت نہیں ملے گی۔ عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ اسٹیج اداکار اور اداکارائیں تھیٹرز کو فیملی تھیٹرز بنانے میں اپنا رول ادا کریں۔ عید کے موقع پر شہریوں کو تھیٹرز مالکان اچھی اور معیاری تفریح فراہم کریں۔ وفاقی وزیر نے انتباہ دیا کہ غیر قانونی اور بغیر لائسنس کسی کو تھیٹرز چلانے کی اجازت نہیں۔ پنجاب میں جو بھی غیر قانونی اور بغیر لائسنس تھیٹرز چلائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ تمام اضلاع کے ڈی سی اور ضلعی انتظامیہ پنجاب آرٹ کونسل کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ جو تھیٹرز پالیسی اور ایس او پیز کی خلاف کرے اس کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تھیٹرز کے نام پر کسی کو فحاشی اور بے حیائی پھلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جلد خود بھی پنجاب کے مختلف اضلاع کے تھیٹرز کے سرپرائز وزٹ کروں گی۔شیخوپورہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابقصوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے تمام تر پراجیکٹ حقیقی معنوں میں عوامی مفادات کیلئے ہیں۔ گراس روٹ لیول تک عوام کو حقیقی ریلیف کی فراہمی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کوششیں اورکاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شیخوپورہ میں صفائی ستھرائی کے انتظامات دیکھ رشک ہو’’ستھراپنجاب ‘‘ پروگرام کی کامیابی کی یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ بعدازاں وہ اپنے آبائی گھر گئیں جہاں پر اپنے چچا مرکزی انجمن تاجران کے رہنما سید واجد بخاری اور دیگر عزیز واقارب سے ملاقاتیں کیں اور اپنے والد سید زاہد بخاری کی قبر پر جاکر فاتحہ خوانی بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • آئیں مل کر اپنی آوازیں تلاش کرتے ہیں!
  • کارکن تیاری پکڑ لیں، اس دفعہ گولیاں کھانے نکلیں گے
  • لاہور کا گولڈن کنگ، ایک آرٹسٹ کی جدوجہد اور کامیابی کی داستان
  • کراچی کی مجرم پیپلز پارٹی ہے جو وسائل کو اپنے اوپر استعمال کرتی ہے، آفاق احمد
  • میراکوئی باپ نہ بنے ،مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا،نازیبا ویڈیو لیک کے بعد مناہل ملک نے ڈھٹائی کی حد کردی
  • مقبولیت کا زعم احتسابی شکنجے میں
  • وہ عیدیں اب کہاں تلاش کریں؟
  • تھیٹرز کے نام پر کسی کو فحاشی ‘ بے حیائی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: عظمیٰ بخاری 
  • عید الفطر کا تیسرا روز، مزدور عید کی خوشیوں سے محروم سڑکوں پر موجود