محکمہ خزانہ پنجاب نے پیف کے سکول ٹیچرز کی تنخواہوں کا بجٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
قیصر کھوکھر: محکمہ خزانہ پنجاب نے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے سکول ٹیچرز کی تنخواہوں کے لیے 3 ارب روپے کا بجٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ بجٹ اگلے تین ماہ کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ پیف کے سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں بروقت ادا کی جا سکیں۔
محکمہ خزانہ نے اس کے ساتھ ساتھ "اپنی چھت، اپنا گھر" سکیم کے لیے 5 ارب روپے بھی جاری کیے ہیں۔
محکمہ خزانہ پنجاب نے اس تمام بجٹ کو آن لائن کر دیا ہے تاکہ متعلقہ اداروں اور عوام کو اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازحکومت کا ایک اورسنگ میل
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجلی 25روپے یا 65روپے فی یونٹ سے کم کی، مزمل اسلم کاسوال
بنیادی افراط زر اب بھی 8فیصد سے اوپر ہے ، نااہل حکومت مہنگائی میں کمی کا جشن منا رہی ہے
وزیراعظم کا بجلی سستی کرنے کا اعلان، مشیر خزانہ کے پی اصل اعدادوشمار سامنے لے آئے
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی سستی کرنے کے اعلان پر مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم اصل اعداد و شمار سامنے لے آئے ۔ردعمل دیتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ ایک طرف اعلان کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی 7.41روپے فی یونٹ کم کر دی گئی ہے جبکہ دوسری طرف ادارہ شماریات کے مطابق بجلی کی قیمت 6 روپے فی یونٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مطلب اب حکومت بجلی استعمال کرنے کا 1.41پیسے الٹا صارف کو دے گی۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دوسری طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں جب تیل $124 فی بیرل تھا بجلی ٹیکس سمیت 25 روپے فی یونٹ تھی اور آج بجلی کی قیمت 65 روپے فی یونٹ ہے ۔ وزیر اعظم بتائیں کیا 25 روپے سے قیمت میں کمی کی یا پھر 65 روپے سے ؟قبل ازیں، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے اوپر ہے جبکہ نااہل حکومت مہنگائی میں کمی کا جشن منا رہی ہے ۔ملکی مہنگائی اور معیشت بارے ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این اور پی ڈی ایم کی معاشی ویژن ہمیشہ کی طرح فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے ۔ پی ایم ایل این نجی شعبے والے افراد کو کابینہ میں شامل کرتے پھر وہی حالات رہتے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ کوئی حکمت عملی نہیں پرانے خیالات کے مالک اسحاق ڈار اور احسن اقبال پی ایم ایل این کی بقا کی قیادت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں شہباز شریف کو شرح نمو کی نشاندہی کروائی، پانچ سال کے تخمینے میں اوسط نمو 4 فیصد سے کم ہے جبکہ اگلے سال تخمینہ اہم فصلوں کے لیے منفی ہے ۔مزمل اسلم نے کہا کہ میں نے پوچھا اس ویژن کے ساتھ بے روزگاری اور غربت پر قابو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا اور شہباز شریف نے معاملہ پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کی طرف موڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے بتا رہا ہوں کہ پاکستان کساد بازاری کا شکار ہے ، زراعت اور صنعت کے شعبے منفی میں ہے جبکہ حکومت اس کو کساد بازاری نہیں بلکہ استحکام کہتے ہیں۔ شہباز شریف کی ٹیم ڈیٹا کو پڑھنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے مہنگائی کم کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔مشیر خزانہ کے پی نے کہا کہ قیمت میں تبدیلی کو قیمتوں میں کمی نہیں کہتے حکومت ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے ۔ اشیا کی طلب و قوت خرید میں کمی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے قیمتیں نہیں بڑھ رہی۔ پاکستان کے معاملے میں مہنگائی میں کمی پیداواری ترقی کی وجہ سے نہیں ہے ۔