غیر قانونی رہائش پذیر افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
غیرقانونی رہائش پذیر افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر بلال شاہد راؤ کے مطابق غیرقانونی رہائش پذیر افغانیوں کو طورخم بارڈر پہنچایا جا رہا ہے۔ غیرملکیوں کو پنجاب سمیت اسلام آباد سے طورخم بارڈر لایا جا رہا ہے۔
جس ضلع میں غیرملکی رہائش پذیر تھے وہاں کے نادرا سے تصدیق کرکے طورخم منتقل کیا جاتا ہے۔ طورخم بارڈر منتقلی کے وقت متعلقہ ضلع کے نادرا عملہ بھی ساتھ تعینات ہوتے ہیں۔ طورخم بارڈر پر قانونی کارروائی کے بعد غیر ملکیوں کو افغانستان ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان مہاجرین کی بے دخلی کا عمل شروع نہ ہوسکا
ڈی سی کے مطابق غیرملکیوں کو فی الحال لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ غیرملکیوں کے انخلاء میں اضافہ ہوجائے تو لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 104 افراد پر مشتمل 6 خاندان ڈی پورٹ کیے گئے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہائش پذیر
پڑھیں:
ڈیڈ لائن ختم، افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار
---فائل فوٹورضاکارانہ طور اپنے ملک واپسی کی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
لنڈی کوتل میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے قائم کیے گئے کیمپ میں کام جاری ہے۔
عید کے تیسرے روز صرف 105 افراد پر مشتمل 5 خاندان واپس جا سکے۔
یاد رہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا عمل یکم اپریل سے شروع ہونا تھا۔
افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن ختم...
دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 7 لاکھ 9 ہزار سے 278 ہے، یہاں افغان مہاجرین کے 43 کیمپس ہیں۔
دستاویز کے مطابق کیمپوں میں 3 لاکھ 44 ہزار 908 افغان رہائش پذیر ہیں، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار647 ہے۔
واضح رہے کہ 2013ء سے اب تک 4 لاکھ 65 ہزار افغان مہاجرین طورخم کے راستے واپس اپنے وطن جا چکے ہیں۔