نئی دہلی: بھارت کی لوک سبھا میں 12 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد بی جے پی حکومت نے متنازع وقف ترمیمی بل کو 288 ووٹوں سے منظور کروا لیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے بل کو اقلیتوں کے خلاف اقدام اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

بل کے مطابق، ریاستی حکومتوں کو وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین شامل کرنے اور ضلعی کلیکٹر کو متنازع وقف جائیدادوں پر فیصلہ دینے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بل وقف املاک پر حکومتی کنٹرول بڑھانے اور مسلمانوں کے مذہبی و سماجی حقوق محدود کرنے کی سازش ہے۔

راہول گاندھی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، جو مستقبل میں دیگر برادریوں کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ سونیا گاندھی نے بل کو "آئین پر کھلا حملہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقلیتوں کو دبانے اور ملک کو مستقل تقسیم میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

متنازع بل کو جلد راجیہ سبھا میں بھی پیش کیا جائے گا، جہاں مزید سخت بحث اور احتجاج متوقع ہے۔ ادھر بھارت کے مختلف شہروں میں بل کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں مسلم تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں بی جے پی حکومت کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔

 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کینالز کی تعمیر پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت کے بیک ڈور رابطے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

نجی ٹی وی سما نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم خود سرگرم ہوئے۔ پی پی قیادت اور وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا۔ شہبازشریف نے کہا معاملہ افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم سی سی آئی میں اکثریت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، وزیراعظم مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس پر صوبوں کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔

لاہور :38سالہ خاتون کے قتل کا معمہ حل، آشنا سمیت دو ملزمان گرفتار

خیال رہے کہ جنوری 2024 کے بعد سے مشترکہ مفادات کونسل کا کوئی بھی اجلاس نہیں ہوا، صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم بطور چیئرمین فوری نوعیت کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔

 دوسری جانب پیپلز پارٹی نے متنازع 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ بھر میں احتجاجی مشعل بردار ریلیاں نکالی جائیں گی، سندھ بھر کی تحصیل سطح کی تنظیمیں عوامی قوت کے ساتھ مشعل بردار ریلیاں نکالیں، پانی کا مسئلہ ایک دن کے احتجاج کرنے سے حل نہیں ہو گا، کینالز کے مسئلے پر مسلسل احتجاج کر کے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

ایس پی عائشہ بٹ ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈ 2025 کیلئے منتخب

ان کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ سندھ کے مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، 6 کینالوں کا منصوبہ سندھ کے نقصان میں ہے سندھ کے لوگوں کو یہ منصوبہ قبول نہیں ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کینالوں کے خلاف پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام کا احتجاج اپنے حق کے لیے ہے، ہماری پارٹی کینالوں کے خلاف احتجاج جاری رکھ کر اپنا جمہوری حق استعمال کرتی رہے گی۔

صدر پیپلزپارٹی سندھ کا کہنا تھا کہ جب تک 6 کینالوں کے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان نہیں ہوگا احتجاجی تحریک جاری رہے گی، کینال منصوبے کے خلاف سب مل کر جدوجہد کر کے سندھ کی حفاظت کریں گے، سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا گیا تو مزاحمت کریں گے۔

بھارت میں نوجوان کی ایک ہی منڈپ میں دو لڑکیوں سے شادی نے ہنگامہ برپا کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وقف ترمیمی بل کے خلاف بھارتی مسلمان نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا
  • بھارت: متنازع وقف بل منظور، اب صرف صدر کی توثیق باقی
  • بھارت: اسد الدین اویسی نے احتجاجاً متنازع وقف ترمیمی بل پھاڑ دیا
  • بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور
  • مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور
  • مودی کی مسلم دشمنی؛ وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
  • وقف بل سازش کیساتھ لایا گیا اسکے خلاف ملک گیر احتجاج ہوگا، مسلم پرسنل لاء بورڈ
  • بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش، بحث جاری
  • کینالز کی تعمیر پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت کے بیک ڈور رابطے