’فلم ریلیز نہیں ہونے دیں گے‘، فواد خان کی بالی ووڈ فلم ریلیز سے قبل تنازعات کا شکار کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستانی اداکار فواد خان بالی وڈ میں واپسی کے لیے تیار ہیں وہ انڈین اداکارہ وانی کپور کے ساتھ فلم ’عبیر گل‘ میں نظر آئیں گے لیکن ٹیزر ریلیز ہونے کے ساتھ ہی یہ فلم تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔
فلم کا ٹیزر جاری ہوتے ہی بھارت میں انتہا پسند تنظیموں نے فلم پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے۔ مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) نے ملک میں فواد خان کی فلم کی ریلیز کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا موقف بہت واضح ہے۔ ہم ایسی کسی بھی فلم کو قبول نہیں کریں گے جس میں پاکستانی فنکار ہوں۔ اور اگر ایسی فلم ریلیز کی گئی تو ہم ایم این ایس کے طریقے سے احتجاج کریں گے‘۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ ریدھی ڈوگرا نے فواد خان کے ساتھ فلم کرنے سے پہلے کونسی تحقیقات کیں؟
ایم این اس کے رہنما امے کھوپکر کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی اداکاروں یا پاکستانی فلموں کی مخالفت ہم پہلے سے کرتے آ رہے ہیں اور آگے بھی کریں گے۔ پاکستانی اداکار کو لے کر یہاں کوئی بھی فلم ریلیز نہیں ہو گی اور میں تو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ہمت ہے تو کوئی اسے ریلیز کر کے دکھائے‘۔
واضح رہے کہ فلم ’عبیر گلال‘ کی کہانی 2 ایسے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو زندگی میں کئی جذباتی مشکلات سے گزر چکے ہیں اور اچانک ایک دوسرے سے مل کر غیر متوقع طور پر ایک دوسرے کے زخموں کو بھرنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ محبت میں نکلتا ہے۔ فلم میں ردھی ڈوگرا، فواد خان اور وانی کپور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’فواد خان کو شرم آنی چاہیے‘، سوشل میڈیا پر اداکار کے بائیکاٹ کی مہم کیوں؟
فلم ’عبیر گُلال‘ رواں برس 9 مئی کو ریلیز ہو گی۔ اس میں فلم میں لیزا ہیڈن، رِدھی ڈوگرا، فریدہ جلال اور پرمیت شیٹھی سمیت متعدد انڈین اداکار کام کر رہے ہیں۔
فواد خان نے 2014 میں فلم ’خوبصورت‘ سے بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا تھا جس میں ان کے ساتھ سونم کپور کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ بعدازاں فواد خان فلم ’کپور اینڈ سنز‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ میں بھی جلوہ گر ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ بھارت نے 18 ستمبر کو کشمیر میں اڑی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) نے پاک۔ بھارت کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فنکاروں اور ٹیکنیشنز پر بالی ووڈ میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اور ہندو انتہا پسند گروہوں نے بھی بالی ووڈ میں کام کرنے والے پاکستانی اداکاروں کو دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اداکارہ سونم کپور کو فواد خان کی یاد کیوں ستانے لگی؟
ہندو گروپ ایم این ایس نے پاکستانی فنکاروں کو بھارت سے نکل جانے کا کہا تھا جس کے بعد پاکستانی فنکار وطن واپس آگئے تھے۔
پابندی سے پہلے کئی پاکستانی فنکاروں نے بالی ووڈ میں کامیابی حاصل کی۔ جن میں فواد خان اور ماہرہ خان بھی شامل ہیں۔ فواد خان نے ’کپور اینڈ سنز‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا، ماہرہ خان نے شاہ رخ خان کے ساتھ ’رئیس‘ میں اداکاری کی جبکہ علی ظفر نے ’تیرے بن لادن‘ اور ’ڈیئر زندگی‘ میں اپنی پہچان بنائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین فلمیں بالی ووڈ عبیر گل فواد خان.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈین فلمیں بالی ووڈ عبیر گل فواد خان پاکستانی فنکاروں پاکستانی اداکار بالی ووڈ میں فلم ریلیز فواد خان کے ساتھ
پڑھیں:
کابل فال کے وقت افغان ایئر فورس طالبان کے خلاف امریکی ایئر کرافٹس کیوں استعمال نہیں کرپائی؟
سنہ 2021 میں افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے وقت امریکا اربوں ڈالر کے اپنے جنگی ہتھیار بشمول متعدد طیارے اور بلیک ہاکس ہیلی کاپٹرز اسی سرزمین پر چھوڑگیا تھا اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ سامان حرب واپس لینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکا کو مطلوب دہشتگرد کیسے پکڑا؟
جہاں تک اپنے ہتھیار اور جہاز و ہیلی کاپٹرز افغانستان میں ہی چھوڑ کر جانے کا سوال ہے تو اس وقت امریکا کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ سامان اور جہاز ملک میں ہر شہر پر اپنا قبضہ جماتے ہوئے تیزی سے کابل کی جانب بڑھتے طالبان سے نمٹنے کے لیے افغان فوج کے کام آئیں گے جبکہ اس وقت ایک رائے یہ بھی تھی کہ امریکا نے وہ اسلحہ جان بوجھ کر طالبان کے لیے چھوڑ دیا تھا اور اس کو یہ بھی پتا تھا کہ افغان فوج طالبان جنگجوؤں سے نہیں لڑ سکے گی۔یاد رہے کہ طالبان اور امریکا کے مابین کامیاب معاہدے کے بعد امریکا نے اعلان کردیا تھا کہ وہ 11 ستمبر 2021 کو افغناستان چھوڑ جائے گا لیکن پھر اس کی فوجیں پہلے ہی ملک چھوڑ گئیں اور 15 اگست کو طالبان نے کابل پر اپنا قبضہ جمالیا اور امریکا کی اتنی تربیت لینے والی افغان فوج دیکھتی ہی رہ گئی۔
واضح رہے کہ امریکا 20 سال افغانستان میں رہا اور اس دوران طالبان کو امریکا اور نیٹو کی زمینی افواج سے تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن اگر انہیں کوئی مشکل پیش آتی تھی تو وہ خصوصاً دشمنوں کے فائٹر جہازوں کی وجہ سے آتی تھی جن کے حملوں کا ان کے پاس کوئی توڑ نہیں ہوتا تھا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت افغان ایئرفورس کے پاس 170 کے قریب طیارے اور بلیک ہاکس تھے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا نے وہ تمام وہیں چھوڑ دیے یا کچھ ساتھ لے گیا۔ لیکن چھوڑے جانے والے جہازوں اور ہیلی کاپٹرز بہرحال بہت زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں امریکا نے جو حربی سامان افغانستان میں چھوڑا اس کی کل مالیت 7 ارب ڈالر سے 10 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں زلمے خلیل زاد کی واپسی ایک نیا گیم پلان جس کا نشانہ پاکستان ہے: برگیڈئیر آصف ہارون
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب افغان فوج کے پاس جنگی ایئر کرافٹس موجود تھے تو انہوں نے کابل کی جانب بڑھتے ہوئے طالبان جنگجوؤں پر کیوں نہیں استعمال کیا اور بغیر لڑے ہی میدان خالی کرگئے۔ تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے موقعے پر فائٹر جہازوں کے جتنے بھی غیر ملکی ٹیکنیشنز تھے وہ بھی افغانستان سے نکل گئے۔ حالاں کہ پہلے امریکی حکام نے افغان ایئر فورس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جہاز اور ماہرین کچھ عرصہ افغانستان میں ہی رہیں گے۔
اس صورتحال پر ہکا بکا ہوکر افغان ایئر فورس نے امریکی حکام سے پوچھا کہ جب جہازوں کی دیکھ بھال کرنے والے ٹیکنیشن ہی نہیں ہوں گے تو ان کے پائلٹس جہاز کیسے استعمال کریں گے۔
مزید پڑھیں: سی آئی اے کی معلومات پر کابل دھماکے کا ماسٹر مائنڈ شریف اللہ گرفتار
اس پر امریکی حکام نے کہا کہ چوں کہ ہماری سیکیورٹی بھی اب افغانستان میں نہیں رہے گی اس لیے جہازوں کی مینٹیننس اور دیکھ بھال کی ذمے دار غیر ملکی کمپنی نے بھی کہہ دیا ہے کہ ان کے ٹینکیشن یہاں نہیں رہیں گے۔ تاہم پھر کمپنی نے یہ پیغام دیا کہ اگر افغان فوج کو جہازوں کے لیے ٹیکنیکل مدد چاہیے ہوگی تو وہ ویڈیو لنک پر کمپنی سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہے یہ افغان ایئر فورس کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ فائٹر جہازوں کی مینٹیننس ویڈیو لنک پر دیکھ دیکھ کر کرپائیں اور پھر اس حوالے سے انہیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بھی کوئی باقائدہ معاونت نہ مل سکی جس کے باعث جہاز ہوتے ہوئے بھی وہ انہیں طالبان کے خلاف استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ علاوہ ازیں جب طالبان 15 اگست کو کابل فتح کرنے پہنچے تو عین اسی وقت افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی چپ چاپ ملک چھوڑ گئے تھے نتیجتاً طالبان کو دارالخلافے کے کنٹرول کے حصول اور ایوان صدر میں گھستے وقت کسی افغان فوجی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشرف غنی افغان ایئرفورس امریکی اسلحہ امریکی افواج امریکی جنگی جہاز طالبان کابل فال نیٹو افواج