امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ٹیرف معاملے پر امریکا سے مذاکرات شروع کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہی امریکی معاون نمائندہ برائے تجارت سے ان کی ملاقات طے ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہم امریکی خدشات کا ازالہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے زیادہ تجارت امریکا سے ہے، امریکا ہمیشہ سے ہمارا اہم تجارتی شراکت دار رہا ہے، امید ہے کہ ٹیرف کے معاملے پر سفارتی عمل کے مثبت نتائج آئیں گے۔

امریکا کی ممکنہ سفری پابندیوں پر رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ ویزوں کے معاملے پر امریکا کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، اس حوالے سے بھی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے امریکی حکام کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور سفارتی لوازمات پورا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی سے بھی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک کی درآمدی مصنوعات پر کم ازکم 10 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد اور بھارت پر 26 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: معاملے پر کہا کہ

پڑھیں:

ٹیرف لڑائی، پاکستان کا مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی لڑائی کے جواب میں پاکستان نے مصالحتی راستہ اختیار کرنے اور29 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دے دیا، کیونکہ پاکستانی برآمدات پر امریکا میں پہلے سے زائد اوسط ٹیرف عائد ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس جس میں ڈبلیو ٹی او کے پاکستان میں نمائندے بھی شریک ہوئے، پاکستانی موقف کی وضاحت کیلئے امریکی تجارتی نمائندے سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا، واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اور ان کے ٹریڈ منسٹر رواں ہفتے امریکی حکام سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھیں: دُنیا کے غیر آباد علاقے بھی صدر ٹرمپ کے ٹیکس سے بچ نہ سکے

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام کو صدر ٹرمپ کی اضافی ٹیرف کے حوالے سے 60 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کی شمولیت کی توقع نہیں تھی کیونکہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف پہلے ہی پاکستان کی نسبت زیادہ ہے۔

وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق امریکی مصنوعات پر پاکستان میں ٹیرف 7.3 فیصد جبکہ پاکستانی برآمدات پرامریکا میں9.9 فیصد ٹیرف عائد ہے، نیز پاکستان ان ملکوں کی فہرست میں33ویں نمبر پر ہے جن سے امریکا کو تجارتی خسارہ کا سامنا ہے۔

وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران امریکا کو پاکستانی برآمدات کا حجم3.9 ارب ڈالر جبکہ اس دوران امریکا سے 933 ملین ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔امریکا کیساتھ فاضل تجارت 3 ارب ڈالر ہے جوکہ دیگر 32 ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلیے موقع

حکام کوامید ہے کہ وہ 29 فیصد اضافی ٹیرف کے امریکی فیصلے پر نظرثانی کا مضبوط کیس تیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے امریکی فیصلے سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف 49 فیصد تک بڑھ سکتا ہے،جن میں سرفہرست گارمنٹس اور چمڑے کی مصنوعات ہیں۔

پاکستان امریکا سے سویابین، کاٹن اور گوشت درآمد کرتا ہے، کاٹن پر ٹیرف صفر، گوشت پر5 سے10فیصد، سویابین پر3.25 ٹیرف عائد ہے، البتہ آئرن و اسٹیل کی درآمدات پر 20 فیصد ٹیرف ہے جوکہ مقامی کارخانوں کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔

حکام نے بتایا کہ چین، ویتنام، کمبوڈیا اور سری لنکا پر عائد زائد ٹیرف پاکستان کیلئے ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کا موقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کےساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں،اعجاز گوہر
  • امریکن ٹیرف، وزیراعظم نے مذاکرات کیلئے اسٹئیرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ قائم کردیا
  • امریکی ٹیرف عائد ہونے پر پاکستان کی حکمت عملی تیار
  • امریکی ٹیرف عائد ہونے پر پاکستان نے موثر حکمت عملی تیار کرلی
  • پاکستان ٹیرف کے معاملے پر امریکا سے مذاکرات کرے گا: سفیر رضوان سعید
  • ٹیرف لڑائی، پاکستان کا مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ
  • ٹیرف معاملہ، امریکا سے سفارتی عمل شروع کریں گے، سفیر پاکستان
  • امریکی اضافی ٹیرف گلوبل اکنامی کیلئے منفی ہے: ملیحہ لودھی
  • ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟