تین اپریل کے دن کو امریکی صدر ٹرمپ نے امریکا کا یوم آزادی قرار دیا ہے، گزشتہ روز انہوں نے دنیا بھر پر ٹیرف بم گرا کر ایک بڑا بھونچال پیدا کردیا۔ دنیا بھر میں حکومتیں، معاشی ادارے اور ماہرین مسلسل غور وفکر اور اندازے لگا رہے کہ گلوبل اکانومی پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے اور جن جن ممالک پر یہ ٹیرف لگائے گئے، ان کو کیا نقصان ہوگا؟
معیشت پر لکھنا مشکل کام ہے کہ یہ میرا بنیادی موضوع نہیں۔ ویسے عام قاری کو معیشت کے بارے میں سمجھانا بھی آسان نہیں۔ تاہم کل سے اس پورے ایشو کو سمجھنے میں خاکسار نے اپنے بہت سے قیمتی گھنٹے ضائع کیے اور اب اس محنت کو کسی کام تو لگانا چاہیے ۔ اسی لیے آسان اور عام فہم انداز میں اس پورے ایشو کا نچوڑ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
درآمدات پر ٹیرف کیوں، کس لیے لگائے؟اس ٹیرف سے مراد وہ ٹیکس ہے جو امریکا میں غیر ممالک سے آنے والے درآمدی مال پر لگایا جائے گا۔ یہ ایک طرح کا ڈائریکٹ ٹیکس ہے اور اسے وہ کمپنی ہی ادا کرے گی جس نے باہر سے مال امریکا منگوایا۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلے سال امریکا نے 3 کھرب ڈالر سے زیادہ کی مصنوعات درآمد کیں اور ان پر محصولات کے زمرے میں اسی(80) ارب ڈالر ٹیکس جمع ہوا۔ اب ٹیرف بڑھنے سے یقینی طور پر یہ ٹیکس کولیکشن بہت زیادہ بڑھ جائے گی، شاید دوگنا یا اس سے بھی زیادہ۔
عام طور سے اس قسم کے ٹیکس کے 3 ہی نتائج نکلتے ہیں۔ وہ کمپنی جس نے چیزیں امپورٹ کیں، زیادہ ٹیرف لگنے کے بعد وہ اس کی قیمت بڑھا دے گی، پورا ٹیکس یا اس کا کچھ حصہ شامل ہوجانے سے امریکی صارفین کو وہ چیز مہنگی ملے گی۔ جیسے 100 ڈالر کی پراڈکٹ 125 ڈالر میں ملے۔ دوسرا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کمپنی وہ خسارہ خود برداشت کرے اور چیز مہنگی نہ کرے، مگر ایسی صورت میں پھر ان کمپنیوں کامنافع کم ہوجائے گا، تیسرا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ جو غیر ملکی کمپنی مال بھیج رہی ہے، وہ اپنا منافع کم کرکے قیمت کچھ کم کر دے تاکہ ٹیکس لگنے کے بعد وہ چیز مہنگی نہ ہو۔
زیادہ امکانات یہی ہیں کہ وہ چیزیں مہنگی ہو کر امریکی عوام کو ملیں۔ پھر یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر باہر سے آنے والی چیزیں ٹیرف کے بعد مہنگی ہو جائیں گی تو پھر مقامی امریکن وہ چیزیں نہیں خریدیں گے اور یوں ان ممالک کی اکانومی پر منفی اثر پڑے گا۔
صدر ٹرمپ ایکسپورٹ ٹیرف کے حامی کیوں؟کہا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ان ٹیرف کے حامی رہے ہیں، وہ ہمیشہ سے فری ٹریڈ ایگریمنٹس کے شدید مخالف رہے ہیں۔ پچھلے 30 سے 40 برس سے ان کی یہ سوچ ہے کہ اگر امریکہ کو اپنی معیشت بہتر بنانی ہے تو باہر سے آنے والے مال پر ہیوی ٹیرف لگائے جائیں تاکہ امریکا میں بننے والی (مینو فیکچرڈ) چیزوں کو فائدہ ہو۔
ٹرمپ پچھلی بار صدر بنے تو انہوں نے ایلومینیم اور سٹیل پراڈکٹس پر 25 فی صد کے قریب ٹیرف لگا دیا تھا۔ تب صدر ٹرمپ اتنی طاقتور پوزیشن میں نہیں تھے، اس بار ان کی پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ہے، ٹرمپ اس بار اپنے ہم خیال لوگوں کی کمیٹڈ ٹیم کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں۔ اس لیے وہ کھل کر اپنے دیرینہ نظریات پر عمل درآمد کرا رہے ہیں۔
ویسے ایک حد تک تو صدر ٹرمپ کی بات ٹھیک ہے کیونکہ بہت سے ممالک کا امریکا کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ وہ امریکا اپنی مصنوعات تو بھیج دیتے ہیں، مگر امریکی چیزیں لینے سے گریز کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں امریکا کو بہت بڑے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے سال امریکا اور یورپ کے باہمی تجارت میں امریکا کو 213 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی یورپی یونین نے امریکا کو جتنی ایکسپورٹ کیں اس سے 213 ارب ڈالر مصنوعات امریکا سے خریدیں۔ صدر ٹرمپ اسے نہایت ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہیں۔
کینیڈا سے امریکا کا تجارتی خسارہ بھی 60 ارب ڈالر کے قریب ہے، چین سے یہ اور بھی زیادہ ہے۔ میکسیکو سے بھی خاصا زیادہ ہے۔ اب ان ٹیرف سے یہ تجارتی خسارہ بہت زیادہ کم ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ بار بار اس کا گلہ کرتے ہیں کہ جنوبی کوریا جو کاریں بناتا ہے وہ 80 فیصد کوریا میں استعمال ہوجاتی ہیں، کورین امریکا سے نہیں منگواتے، اسی طرح 90 فیصد جاپانی مقامی مصنوعات ہی لیتے ہیں، امریکا سے نہیں منگواتے۔ ٹرمپ کو یہ بھی شکوہ ہے کہ آسٹریلیا امریکی گوشت تک نہیں لیتا۔ ٹرمپ اسے زیادتی کہتے ہیں کہ یہ ممالک امریکا کا خون چوس کر امیر ہو گئے ہیں۔ اب امریکا کی باری ہے کہ وہ بھی خوشحال ہو۔
بعض ممالک پر زیادہ ٹیرف کیوں؟فارمولا یہ بنایا گیا ہے کہ 10 سے 20 فیصد ٹیرف تو ہر ملک پر جڑ دیا گیا ہے۔ جبکہ باقی جوابی ٹیرف کے نام سے ہر ملک پر الگ الگ لگایا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق جس ملک نے امریکی مصنوعات پر مختلف ٹیرف اور ڈیوٹیاں عائد کر رکھی ہیں، ان پر اسی حساب سے ہم نے بھی جوابی ٹیرف لگایا۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے ہم پر 58 فیصد ٹیرف لگا رکھا ہے، اس لیے ہم جوابی طور پر 29 فیصد ٹیرف لگا رہے ہیں۔ جبکہ یہ ٹیرف کچھ ممالک پر بہت زیادہ ہے ۔ جیسا کہ چین پر یہ ٹیرف 50 فیصد سے بھی بڑھ چکا ہے۔ 34 فیصد ابھی لگا، جبکہ 20 فیصد پہلے سے لگ چکا ہے۔ کمبوڈیا پر 49 فیصد، ویت نام پر 46 فیصد، تھائی لینڈ پر 34 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ پچھلی بار ٹرمپ نے چین سے آنے والے سولر پلیٹس پر 25 فیصد ٹیکس لگایا تو چینی کمپنیوں نے اپنا مال کمبوڈیا، ویت نام، تھائی لینڈ، ملائشیا وغیرہ بھیج کر وہاں سے امریکا سپلائی کرائی اور ٹیرف سے بچ گئے۔ اس بار امریکا نے ان ممالک پر بھی ہیوی ٹیرف عائد کیا ہے تاکہ چین ہر طرح سے پھنس جائے۔
امریکی اتحادی بھی نشانہ بنے ہیںہمارے ہاں بعض لوگ ان ٹیرف کو صرف چین کے اینگل سے دیکھ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ چین کو یقینی طور پر کاونٹر کرنا چاہتے ہیں، مگر اس بار امریکا کے قریبی دوست ممالک اور روایتی اتحادی بھی ان ہیوی ٹیرف کی زد میں آئے ہیں۔ جیسے جاپان، جنوبی کوریا اور انڈیا، امریکا کی اینٹی چین پالیسی کا بہت اہم حصہ ہیں، مگر ان پر بھی ہیوی ٹیرف لگے۔
جاپان پر 24 فیصد ٹیرف جبکہ بھارت پر 26 فیصد اور جنوبی کوریا پر پچیس فیصد ٹیرف لگا ہے۔ برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور آسٹریلیا پر 10 فیصد ٹیرف لگا، یورپی یونین پر 20 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا۔ حتیٰ کہ اسرائیل پر 17 فیصد ٹیرف جڑ دیا گیا۔ اب یہ سب ممالک تلملا رہے ہیں اور بے بسی سے صدر ٹرمپ کو دیکھ رہے ہیں کہ یو ٹو بروٹس۔
جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ سری لنکا پر 44 فیصد، بنگلہ دیش پر 37 فیصد جبکہ پاکستان پر 26 فیصد ٹیرف لگا ہے۔ افغانستان بھی نہیں بچ پایا۔
عالمی سطح پر ردعمل کیا ہوگا؟اس ٹیرف گیم کا ردعمل تو خاصا شدید ہونے کی توقع ہے۔ بعض ممالک صاف کہہ چکے ہیں کہ ہم جواب میں امریکا پر بھی سخت ٹیرف لگائیں گے۔ کینیڈا، میکسیکو اور چین اس کا اعلان کرچکے ہیں۔ یورپی یونین بھی اپنا لائحہ عمل طے کر رہا ہے۔ برطانیہ البتہ احتیاط سے کام لے رہا ہے اور ان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اٹلی کی وزیراعظم نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ اعلان غلط ہے، مگر ہم امریکا سے مذاکرات کریں گے۔ بہرحال ایک بڑی گلوبل ٹریڈ وار کا خطرہ پوری طرح موجود ہے۔
امریکیوں کو کیا فائدہ ،کیا نقصان ہوگا؟کہا جارہا ہے کہ امریکی صارفین کے لیے چند چیزیں مہنگی ہوجائیں گی۔ خاص کر کاریں کیونکہ ہر غیر ملکی کار پر فلیٹ 25 فیصد ٹیرف لگ چکا ہے، اس لیے کئی گاڑیوں کی قیمت میں 4 سے 6 ہزار ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ امریکا میں بننے والی گاڑیاں بھی مہنگی ہوں گی، کیونکہ ان کی سپلائی لائن اور پرزے وغیرہ کینیڈا، میکسیکو سے جڑے ہوئے ہیں۔
پیٹرول بھی مہنگا ہوجائے گا، کیونکہ زیادہ تر کروڈ آئل کینیڈا سے امریکا جاتا ہے۔ کینیڈا کا مشہور میپل سیرپ اور بعض دیگر کھانے پینے کی اشیا بشمول ایواکیڈو بھی مہنگا ہوجائے گا۔ کئی قسم کی میکسیکن، کینیڈین اور یورپی شرابیں بھی مہنگی ہوجائیں گی، امریکی گھروں میں استعمال ہونے والی لکڑی کینیڈا سے جاتی ہے، اس لیے مکان کی تعمیر بھی مہنگی ہونے کا امکان بتایا جا رہا ہے اور بھی بہت کچھ مہنگا ہوسکتا ہے۔
تاہم ایک بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ امریکی مینوفیکچررز کو ایڈوانٹیج ملے گا۔ باہر والوں کی چیزیں مہنگی، ان کی سستی ہوں گی تو ان کی پراڈکٹس کی سیل بڑھ جائے گی۔ جن امریکی سرمایہ کاروں کے پلانٹ چین وغیرہ میں ہیں، انہیں اب وہ واپس امریکا میں منتقل کرنے پڑیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جن ممالک پر ٹیرف لگائے گئے، ان کی بعض کمپنیاں اپنی پرڈاکٹس مینوفیکچرنگ امریکا میں شروع کر دیں کیونکہ ایسی صورت میں ان پر کوئی ٹیرف نہیں لگے گا۔ شروع میں مسائل بڑھیں گے، مگر ممکن ہے اگلے مرحلے میں امریکا میں زیادہ انویسٹمنٹ ہو اور زیادہ ملازمتیں نکلیں۔
پاکستان پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟پاکستان اور امریکا کی باہمی تجارت 7 ارب ڈالر کے قریب ہے، ہماری 5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس امریکا جاتی ہیں۔ ان پر 29 یا 30 فیصد ٹیرف کا مقصد ہے ان ایکسپورٹس پر زک لگانا۔ بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ پاکستان امریکا پر جوابی ٹیرف تو قطعی نہیں لگائے گا کہ ہم امریکا سے ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے رعایتیں لینے کی کوشش کریں گے۔
ایک اور پہلو جو بہت اہم ہے، وہ یہ کہ اس شر میں سے خیر برآمد ہوسکتی ہے۔ وہ یوں کہ پاکستان کی زیادہ تر ایکسپورٹس ٹیکسٹائل کی ہیں ، امریکا نے دوسرے بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ممالک پر بھی ہیوی ٹیرف لگائے ہیں اور پاکستان سے بھی زیادہ۔ جیسے چین پر 50 فیصد کے قریب ٹیرف لگے ہیں۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ہے۔ دوسرے نمبر پر ویت نام ہے۔ اس پر امریکہ نے 46 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ تیسرے نمبر پر بنگلہ دیش ہے، اس پر بھی پاکستان سے 8 فیصد زیادہ یعنی 37 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ چوتھے نمبر پر بھارت ہے، اس پر پاکستان سے معمولی سا کم ٹیرف لگا ہے یعنی 26 فیصد۔
اس کا یہ مطلب ہوا کہ امریکا جانے والی پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس مہنگی ہوں گی تو چینی، ویت نامی، بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل مصنوعات زیادہ مہنگی ہوجائیں گی، جبکہ بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات بھی لگ بھگ پاکستان جتنی ہی مہنگی ہوں گی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ویڈنگ ڈریسز میں بھی سپیشلٹی رکھتے ہیں اور یہاں سے لہنگے، ساڑھی، شیروانیاں وغیرہ امریکا ایکسپورٹ ہوتے ہیں۔
اگر پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز تیزرفتاری کے ساتھ پلان بنائیں اور ہمت کرکے اپنی مصنوعات کی کچھ کوالٹی بہتر کریں اور ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس پر فوکس کریں تو ہم بجائے اپنی ایکسپورٹس کم کرنے کے لیے اس میں اچھا خاصا اضافہ کرسکتے ہیں۔
امریکہ میں بکنے والی چینی، ویت نامی، بنگلہ دیشیٹیکسٹائل مصنوعات میں کئی ارب ڈالر کی کمی ہوگی تو اس کا فائدہ بھارت تو اٹھائے گا ہی، پاکستان بھی کچھ نہ کچھ شیئر لے سکتا ہے۔ اس کے لئے مگر انڈسٹری کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی پلان بنانا ہوگا، انہیں کچھ سہولتیں فراہم کی جائیں، کچھ کاسٹ لیول بھی کم ہو تاکہ قدرے مناسب پرائس پر پراڈکٹس بیچی جا سکیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلا ہے۔ ماہرین اسے ایک صدی میں ہونے والا سب سے بڑا اور گیم چینجر فیصلہ بھی کہہ رہے ہیں۔ یہ امریکا کو بنا سکتا ہے یا پھر بہت زیادہ نقصان سے دوچار کرے گا۔ ہمیں البتہ اس سب میں اپنا مفاد اور اپنے امکانات دیکھنے چاہئیں یہی سمارٹ موو ہوگی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان ٹرمپ ٹیرف وی نیوز فیصد ٹیرف لگا امریکا میں کہ پاکستان ٹیرف لگایا میں امریکا ٹیرف لگائے ہوجائے گا بہت زیادہ ہیوی ٹیرف امریکا سے امریکا کو ممالک پر ارب ڈالر مہنگی ہو جائے گا ٹیرف کے کے قریب ویت نام رہے ہیں کے ساتھ ہوں گی سے بھی اس لیے ہیں کہ پر بھی اور ان رہا ہے
پڑھیں:
امریکی صدر کا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران یوم آزادی کے موقع پر نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے امریکا ایک نئے سنہری دور کا آغاز کرے گا اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو اقتصادی طور پر خوشحال بنایا جائے۔
ٹرمپ کے مطابق ان نئے ٹیرف کی مدد سے امریکا میں غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کو ختم کیا جائے گا، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جنہوں نے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف سے دنیا تجارتی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ٹیرف امریکا کے کسانوں اور کاشتکاروں کے حق میں ہیں، جنہیں دنیا بھر میں دیگر ممالک کی جانب سے ظلم کا سامنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اب غیر ملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرے گا اور کہا کہ جو ممالک امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگاتے ہیں انہیں اب اس کا جواب دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان پر 58 فیصد، چین پر 34 فیصد اور بھارت پر 24 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا یو ٹرن، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کردہ ٹیرف ایک دن بعد ہی مؤخر کر دیا
اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ حاصل شدہ محصولات کو امریکا میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کینیڈا کی جانب سے دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات پر 200 سے 250 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا نے امریکی مصنوعات کے لیے غیر منصفانہ قیمتیں رکھی ہیں۔
ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو سبسڈی فراہم کرتا ہے اور یہ امداد گزشتہ 30 برسوں سے جاری رہی ہے۔