وزیر آباد کے چاقو اور چھریاں پوری دنیا میں مشہور کیوں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیرآباد پاکستان کا ایک تاریخی اور معروف شہر ہے جو اپنی خنجر، چاقو، اور تلواروں کی صنعت کے لیے مشہور ہے۔ یہ شہر صدیوں سے دھات کی مصنوعات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔
وزیر آباد کی تلواروں اور چاقوؤں کی عالمی سطح پر مانگ ہے، جو اپنی خوبصورتی، کاریگری اور مضبوطی کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔ یہ صنعت نہ صرف مقامی معیشت کا اہم حصہ ہے، بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔
اس صنعت کے بارے میں مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وزیر آباد.ذریعہ: WE News
پڑھیں:
اسکوئیڈ گیم کے مشہور اداکار کو جنسی زیادتی کے جرم میں ایک سال قید کی سزا
نیٹ فلکس سیریز ’اسکوئیڈ گیم‘ میں پلیئر 001 کے کردار سے شہرت پانے والے جنوبی کوریائی اداکار او یونگ سو کو جنسی زیادتی کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
80 سالہ اداکار پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ دو مواقع پر نازیبا حرکتوں کا ارتکاب کیا، جبکہ وہ اپیل ٹرائل کے دوران بھی اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
3 اپریل کو پیش ہونے والے حتمی دلائل میں پراسیکیوشن نے او یونگ سو کو تھیٹر کے ایک تجربہ کار اداکار کے طور پر پیش کیا جس نے ’’تھیٹر ٹروپ کے ایک کمزور رکن کے ساتھ جنسی ہراسانی کی‘‘۔
کوریائی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون واقعات کے بعد سے ’’کام اور روزمرہ کی زندگی میں خوف میں مبتلا رہی‘‘۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اداکار نے متاثرہ سے معافی مانگنے کے بجائے یہ کہہ کر مزید نقصان پہنچایا کہ ’’میں نے یہ ایک باپ کے دل سے کیا تھا‘‘۔
او یونگ سو کے وکلاء نے تمام الزامات کو چیلنج کیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ متاثرہ کا بیان ہی ان کے خلاف واحد ثبوت ہے اور ان کا بیان ’’خصوصیت، استحکام اور منطقی ہم آہنگی سے محروم ہے‘‘۔ ان کے وکلاء نے یہ بھی تجویز کیا کہ جب الزامات سامنے آئے تو او یونگ سو کو ’اسکوئیڈ گیم‘ کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے صرف رسمی طور پر جواب دیا تاکہ ڈرامے پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
عدالت میں بات کرتے ہوئے او یونگ سو نے اپنی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس عمر میں عدالت میں کھڑے ہونے پر شرمندہ ہوں۔ اگر میرے الفاظ یا اعمال غلط تھے تو میں نتائج قبول کروں گا۔ تاہم، غور کرنے کے بعد بھی مجھے یقین نہیں کہ میں نے کوئی ایسا عمل کیا جسے زیادتی سمجھا جا سکے۔‘‘
اداکار نے مزید کہا، ’’اگر میرے لاپرواہ الفاظ اور اعمال نے ہماری مختصر واقفیت میں کسی کو تکلیف پہنچائی تو مجھے اس پر افسوس ہے۔ میری 80 سال کی زندگی ایک لمحے میں تباہ ہوگئی ہے، اور میں خالی محسوس کر رہا ہوں۔ میں صرف اپنی جگہ واپس جانا چاہتا ہوں۔‘‘
یہ الزامات 2017 سے متعلق ہیں جب او یونگ سو پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے قریب متاثرہ کو زبردستی گلے لگایا اور چوما، جسے انہوں نے مسترد کیا تھا۔
ابتدائی طور پر او یونگ کو آٹھ ماہ قید اور دو سال کی پروبیشن کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن تازہ فیصلے میں ان کی سزا بڑھا کر ایک سال قید کر دی گئی ہے۔ اس اپیل کیس کا حتمی فیصلہ 3 جون کو سنایا جائے گا۔