نائب وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری منصوبوں کی تجاویز پر بین الوزارتی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمعرات کو یہاں دوست ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے منصوبے کی تجاویز پر چوتھے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹریز برائے خارجہ امور، پٹرولیم، آئی ٹی اور اقتصادی امور، چیئرمین این ایچ اے، سپیشل سیکرٹری خزانہ اور پٹرولیم اور خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، وزارت خارجہ، مواصلات اور دیگر محکموں کے سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ کمیٹی نے انفراسٹرکچر، پٹرولیم، تجارت اور آئی ٹی میں ممکنہ سرمایہ کاری کے بارے میں بریفز کا جائزہ لیا۔ نائب وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منتخب تجاویز کو حتمی شکل دی جائے اور دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی ترجیحات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سٹرٹیجک شراکت داری کو بڑھانے اور کراس سیکٹر تعاون کو فروغ دینے پر حکومت کی غیر متزلزل توجہ دینے کا بھی اعادہ کیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
ویزا دینے سے پہلے امریکا درخواست دہندگان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی چیک کرے گا
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دوسرے ممالک میں موجود اپنے سفیروں سے ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسٹوڈنٹ یا کسی اور ویزا کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو امریکا یا اسرائیل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا روزانہ ہزاروں گولڈ ویزے جاری کررہا ہے
واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک بدری کی کوششوں میں توسیع کر رہے ہیں جن میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع کرنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کرنے کے نو ہفتے بعد سامنے آیا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بنیادی اصولوں کے حوالے سے ’دشمنی پر مبنی رویہ‘ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر چکے ہیں جو ان کے مطابق ’یہود مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے جس میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیے: وزیر خارجہ کو گرین کارڈ یا ویزا منسوخی کا اختیار حاصل ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس
مارکو روبیو کی ہدایات میں کہا ہے کہ فوری طور پر قونصلر آفیسر کو بعض طلبہ اور وزیٹر ویزا میں تبدیلی کی درخواست دینے والوں کو لازمی سوشل میڈیا جانچ‘ کے لیے ’فراڈ پریوینشن یونٹ‘ بھیجنا ہوگا۔
سفارت خانے یا قونصل خانے کے قونصلر امور کے سیکشن کا فراڈ پریوینشن یونٹ، جو ویزا جاری کرتا ہے، درخواست دہندگان کی اسکریننگ میں مدد کرتا ہے۔
مارکو روبیو کے کیبل میں ان وسیع قواعد کی وضاحت کی گئی ہے جو سفارت کاروں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آیا ویزا سے انکار کرنا ہے یا نہیں۔
امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں ایسے لوگ نہیں چاہتے جو جرائم کا ارتکاب کریں اور ہماری قومی سلامتی یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔
مزید پڑھیں: ممکنہ امریکی سفری پابندی افواہ یا حقیقت؟ ترجمان محکمہ خارجہ نے بتادیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین حامی غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنا چاہتے ہیں اور ان پر حماس کی حمایت، یہود مخالف ہونے اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ بننے کے الزامات لگائے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد طلبہ اور مظاہرین کے ویزے منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 300 سے زیادہ ویزے منسوخ کر چکی ہے۔
اس لہر کا آغاز کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ محمود خلیل کی ملک بدری کے حکم نامے سے ہوا تھا۔
وہ کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاجی تحریک میں نمایاں رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا امریکی ویزا امریکی ویزا خواہشمند فلسطین