پہلے سے قائل بانی کو قائل کرنے والی بات مضحکہ خیز ہے، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) اڈیالہ جیل کی لمبی لمبی ملاقاتوں میں بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر قائل کرنے کے بجائے گنڈا پور اْن کو قائل کریں جن سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں عمران خان تو پچھلے ڈیڑھ سال سے چھت پر کھڑے ہو کر اسٹیبلشمنٹ کو آوازیں دے رہے ہیں خدا کے لئے میری بات سن لو لیکن اْدھر سے ایک ہی جواب آرہا ہے سیاست دان، سیاستدانوں سے بات کریں۔ اس طرح کے بیانات کا کوئی تعلق نہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے نہ حکومت سے، یہ سب کچھ پی ٹی آئی کی اندرونی کھینچا تانی کا شاخسانہ ہے۔ جس کی بھی اڈیالہ جیل تک رسائی ہوتی ہے وہ اپنی اہمیت بنانے کے لئے کوئی نیا شوشا چھوڑ دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینیٹر عرفان صدیقی نے پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ کسی کو نہ بانی سے ہمدردی ہے نہ پارٹی سے، ہر ایک اپنا ذاتی ایجنڈا لئے پھرتا ہے۔ اس وقت پارٹی کے معاملات ایک بڑے سرکس کا تماشا بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا پہلے سے قائل بانی کو قائل کرنے والی بات مضحکہ خیز ہے۔ گنڈا پورا نہیں قائل کریں جن سے بات چیت کا راستہ تلاش کرنے کیلئے عمران خان ڈیڑھ سال سے جتن کر رہے ہیں۔مزید براںانہوں نے چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کو بین الاقوامی پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کا بانی چیئرمین مقرر ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف یوسف رضا گیلانی کا نہیں، پوری سینٹ بلکہ پورے ملک کا اعزاز ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کرپشن، قبضے، سسٹم والی پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس جماعت ہے، حافظ نعیم
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 اپریل2025ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی پر کرپشن، قبضے، سسٹم چلنے سمیت دیگر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔... پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر شہر میں کرپشن، بدامنی اور لوٹ مار کو فروغ دے رہی ہے۔ کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کراچی میں ظلم، کرپشن اور قبضہ مافیا کا راج بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی نوکریوں کی بندر بانٹ ہو رہی ہے اور سسٹم صرف اسلام آباد میں بیٹھا نظر آ رہا ہے۔حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس جماعت بن چکی ہے۔ ماضی میں اعلیٰ حکام کی جانب سے نظام کی درستگی کے دعوے کیے گئے تھے، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان سناتے ہیں۔(جاری ہے)
امیر جماعت نے کہا کہ اس شہر کے عوام کے پاس اب صرف سوشل میڈیا اور میمز بنانے کا آپشن رہ گیا ہے، مگر حالات اب صرف سوشل میڈیا سے نہیں سنبھلیں گے، بلکہ عوام کو میدان میں نکل کر آواز بلند کرنا ہوگی۔انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد کراچی میں باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ سے ہوگا۔ اگر حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتی تو سڑکوں پر نکلنا ناگزیر ہوگا۔حافظ نعیم نے مزید کہا کہ ہمیں باہر نکلنے کا شوق نہیں، مگر جب عوام مر رہے ہوں، جب روزگار چھن رہا ہو اور جب لوٹ مار عام ہو، تو پھر خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔آخر میں انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم محبت سے نہیں، عوامی دباؤ سے ریلیف لیں گے۔ حکومت اگر بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں، وگرنہ عوامی طاقت سے حق چھیننا پڑے گا۔