اسلامی ملک میں عمران خان کو نماز عید نہیں پڑھنے دی گئی، عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں
اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں، انتظامیہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہ ہونے کا اقرار کر رہی ہے
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں؟ جہاں بانی بانی پی ٹی آئی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جمعرات کی ملاقات کی لسٹ بانی خود فائنل کرکے وکلا کے حوالے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کس کے کہنے پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی کی اڑھائی ماہ سے بچوں سے بات نہیں ہونے دی گئی،بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آیہ کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں ؟جہاں بانی کو عید کی نماز نہ پڑھنے دی تو پیچھے کیا چیز رہ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بار بار توہین عدالت کر رہے ہیں،امید کرتے ہیں جج صاحبان اپنے احکامات پر عملدرآمد کروائیں، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ رکوا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وفد بلوچستان گیا ہوا ہے،مشکل سے وہ اختر مینگل کے قافلے سے جا کرملے۔عمر ایوب نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت نے انکا راستہ روکا ہم اسکی مذمت کرتے ہیں، ہم کہتے رہے کہ 8اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں ہے، محسن نقوی نے کہا بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے کہاں ہے وہ ایس ایچ او، انتظامیہ خود اعلان کر رہی ہے کہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو صرف بانی پی ٹی آئی اکھٹا کر سکتے ہیں۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کو عید کی نماز نہ اپنے احکامات پر انہوں نے کہا کہ نہیں پڑھنے
پڑھیں:
بلوچستان نیشنل پارٹی کا لکپاس کے قریب دھرنا جاری
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کا مستونگ کے علاقے لکپاس کے قریب احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بی این پی مینگل کے دھرنے میں شرکت کی۔
اس موقعے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی این پی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سیاست میں مداخلت کرکے ملک کو ترقی کی جانب گامزن نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عام انتخابات جتنے والے جیل میں جبکہ ڈاکو ملک پر قابض ہیں۔
نیشنل پارٹی کے رہنما کبیر محمد شہی نے کہا کہ حکومت کے پاس مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کا 6 اپریل تک وقت ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ 76 سالوں سے بلوچستان کی تاریخ آج تک نہیں بدلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں نے آئین کو صرف کاغذ کا ٹکڑا سمجھ رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بی این پی کے لانگ کو کوئٹہ آنے کی اجازت دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی دھرنا بی این پی مینگل