Juraat:
2025-04-04@20:06:47 GMT

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

 

سردار اختر مینگل کی جانب سے احتجاج کے دوران 3 مطالبات رکھے گئے ہیں
دھرنے میں بی این پی قیادت، سیاسی و قبائلی رہنما، لاپتا افراد کے لواحقین شریک

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل) کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف دھرنا ساتویں روز بھی جاری ہے جب کہ پارٹی سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے احتجاج کے دوران 3 مطالبات رکھے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مستونگ میں جاری دھرنے میں بی این پی قیادت، سیاسی و قبائلی رہنماؤں کے علاوہ لاپتا افراد کے لواحقین شریک ہیں جب کہ گزشتہ روز گرینڈ اپوزیشن کے رہنماؤں نے بھی دھرنے میں شریک ہوکر سردار اختر مینگل سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے کہ سردار اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف 25 مارچ کو وڈھ سے کوئٹہ تک ‘لانگ مارچ’ کا اعلان کیا تھا۔26 مارچ کو بی این پی-مینگل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جب کہ مارچ کے شرکا مستونگ کے قریب پہنچے تھے تو ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا تھا، تاہم سردار اختر مینگل اور دیگر محفوظ رہے تھے ۔دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی – مینگل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت طاقت کے استعمال کا شوق پورا کر لے ، امن وامان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ختم ہونے کے باوجود ڈیڈلاک تاحال برقرار ہے جب کہ ہمارے 3 مطالبات ہیں جن میں خواتین سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام اسیران کی رہائی یا پھر ہمیں کوئٹہ جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم وہاں پرامن دھرنا دے سکیں یا ہمیں گرفتار کر لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کی جانب سے صوبائی وزرا میر ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور پارلیمانی سیکریٹری عبید للہ گورگیج کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ زاہد سلیم اور کمشنر قلات ڈویڑن پر مشتمل حکومت کے وفد کے سامنے یہ مطالبات رکھے ہیں۔اختر مینگل نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مطالبہ ہے اور نہ ہی کوئی آپشن ہے ، درمیانی راستے اور مصلحت کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا ہم پہلے دن سے ہی اپنا واضح موقف حکومت کو پیش کر چکے ہیں اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے صلاح مشورے کے لیے وقت مانگا ہے اور حکومت سے دوسرا مذاکراتی راؤنڈ ختم ہونے پرتاحال ڈیڈلاک برقرار ہے جب کہ میں نے انہیں 2 دن کی ڈیڈلائن دی ہے جو آج رات تک ختم ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین سمیت تمام اسیران کو رہا نہ کیا گیا تو ہم کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیں گے ۔بی این پی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر ثنا بلوچ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ بلوچستان کے تمام قومی شاہراہیں حکومتی نااہلی کی وجہ سے بند ہیں جب کہ ہمارا دھرنا مستونگ قومی شاہراہ کے ایک طرف جاری ہے اور ہم نے کوئی قومی شاہراہ بند نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت دنیا کی واحد حکومت ہے جو شاہراؤں کو بند کرکے عوام کو اذیت میں مبتلا کررہی ہے ، صوبائی حکومت نے لکپاس ٹنل، مستونگ، کولپور سمیت کوئٹہ جانیوالی تمام چھوٹی بڑی شاہراؤں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا ہے ۔ثنا بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کو روکنے کے بعد شرکا کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ اپنے پیاروں کی بازیابی چاہتے ہیں اور اس لیے لوگ جوگ درجوگ دھرنے میں شریک ہورہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو امید ہے کہ سردار اختر مینگل نہ صرف بلوچ خواتین اور بچوں کو رہا کرائیں گے بلکہ لاپتا افراد کی بازیابی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے جب کہ اختر مینگل ہی وہ سیاسی لیڈر ہیں جو پرامن سیاسی جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ اور مستونگ سے صوبے کے مختلف علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی بندش سے نہ صرف عوام مشکلات میں مبتلا ہے بلکہ حالات مزید خراب ہوں گے ۔ دوسری جانب، گزشتہ 7 دن سے شاہراؤں کی بندش کے باعث کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ سمیت کوئٹہ کا صوبے کے دیگر 12 اضلاع سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہے ۔

.

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان کردیا

بلوچستان نیشنل پارٹی۔مینگل (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔

مستونگ میں اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کودی گئی ڈیڈلائن ختم ہوگئی، دھرنے کے شرکاء کل کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔

دوسری جانب بی این پی قافلے کو کوئٹہ میں داخلے سے روکنے کیلئے انتظامیہ کے اقدامات جاری ہیں، قومی شاہراہ لکپاس اور دشت میں مختلف مقامات پر خندقین کھودی جارہی ہیں جبکہ مستونگ اور مختلف مقامات کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا جارہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان نیشنل پارٹی کا لکپاس کے قریب دھرنا جاری
  • اختر مینگل کے بعد جمہوری وطن پارٹی نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر دیا
  • اختر مینگل کا چھ اپریل کو مستونگ سے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان
  • وزیراعلیٰ بلوچستان خوفزدہ ہیں کہ ہم انکی کرسی نہ چھین لیں، اختر مینگل
  • مستونگ، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اختر مینگل کے دھرنے میں شرکت
  • حکومت کودی گئی ڈیڈ لائن ختم، اخترمینگل کا مستونگ سے کوئٹہ کیجانب لانگ مارچ کا اعلان
  • بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ
  • بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان کردیا
  • بی این پی اور حکومت کے مذاکرات پھر ناکام