ہم پانی کے مسئلے پر سیاسی کشمکش دیکھ رہے ہیں،عابد سلہری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما پیپلزپارٹی شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ جیسے ہی ارسا کی این او سی سامنے آئی اس کے بعد یہ ایشو سینیٹ میں اور نیشنل اسمبلی میں اس پر بحث مباحثہ ہوا بلکہ پیپلزپارٹی نے اس پر ایک موشن موو کی جس پر پونے تین گھنٹے یک بحث جاری رہی، اس وقت مصدق ملک ہمارے منسٹر تھے اور وہ بھی وہاں موجود تھے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ آئین میں ہے کہ ای سی سی کا اجلاس تین مہینے میں ہو لیکن اس وقت 14واں مہینہ چل رہا ہے کہ موجودہ گورنمنٹ اجلاس ہی نہیں بلا رہی۔
ماہر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ ہم پانی کے مسئلے پر سیاسی کشمکش دیکھ رہے ہیں، وجہ یہی ہے کہ جب کسی چیز کی شارٹیج آتی ہے تو حصہ اور بٹوارہ کرنے پر لڑائی ہوتی ہے یا اختلافات آتے ہیں، دنیا کے سترہ بدترین آبی قلت والے ممالک جو ایرڈ کنٹریز ہیں جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں پانی کی شدید قلت ہے میں پاکستان کا نمبر 14واں ہے، ہمارے پاس پانی کے تین ذرائع ہیں، ایک گراؤنڈ واٹر، دوسرا گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں کے ذریعے حاصل ہونے والا پانی اور تیسرا بارش سے حاصل ہونے والا پانی ہے۔
کلائمٹ چینج ایک حقیقت ہے، بارشیں کم ہونا شروع ہو گئیں،پانی کے تینوں ذرائع برے طریقے سے کم ہو رہے ہیں اور ہم اس کے مطابق اپنی تیاری نہیں کر رہے۔
ماہر واٹر اینڈ ڈیم انجنیئر سلمان نجیب نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا بہت ہی سادہ جواب ہے اور میں حیران ہوں اپنی قوم پر اپنے دوستوں پر کہ ہمیں اس کی سمجھ کیوںنہیں آ رہی، ہمیں تو زیریں ریپیرین بنایا گیا ہے، دشمن اپر ریپیرین ہے اور ہم زیریں ریپیرین ہیں، انگریز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کے پاس پچاس یا ساٹھ سال کی شیلف لائف ہو۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریقی ہے پہلے جو لوگ اپنے آپ کو پاکستان کی کانگریس پارٹی کہتے ہیں وہاں سے شروع ہوا چارسدہ سے پھر کچھ سندھی بھائیوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا، ہم تو چاہتے ہی نہیں ہیں کہ پانی کے ذخیرے بنیں، اس وقت ہمارے پاس کم ازکم50 ایم اے ایف یعنی 65 مربع کلومیٹرپانی کا ذخیرہ ہونا چاہیے، یہ ہماری اپنی نالائقیاں ہیں، کچھ لوگ غداریاں بھی کر رہے ہیں، ہمیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی بات کی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ رہے ہیں پانی کے
پڑھیں:
بچیوں کی گرفتاری سے بلوچستان کے مسائل خراب ہو رہے ہیں، مالک بلوچ
ایک انٹرویو میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ حالات مزید خراب ہونگے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو سرکار اور بی این پی مینگل حل کرے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سے کہہ دیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا حل یہی ہے کہ بچیوں کو رہا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کے بعد ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ سرفراز بگٹی نے ان سے بلوچستان کی صورتحال پر مشاورت کی کہ آپ کی کیا رائے ہے، اس مسئلے کو کیسے ڈیل کرے۔ جس پر ہم نے کہا کہ آپ ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر بچیوں کو چھوڑ دیں۔ جتنی آپ کی کپیسیٹی ہے، یا پھر آپ آگے بات کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بچیوں کی گرفتاری سے مسئلے خراب ہو رہے ہیں۔ آج دیکھیں اندرون بلوچستان میں ہر جگہ جلوس ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر مالک بلوچ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ حالات مزید خراب ہونگے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو سرکار اور بی این پی مینگل حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ کل ہماری سردار اختر مینگل سے ملاقات ہوئی تھی، آج وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے ہوئی ہے۔ ہماری ان دونوں سے گزارش ہے کہ آپس میں بیٹھ کر مسئلے کو حل کرے اور جو بچیاں گرفتار ہیں، انکو رہا کرے۔ انہوں نے کہا کہ تھری ایم پی او زورآوروں کا دفعہ ہے، ان سے فرق نہیں پڑتا ہے۔ بلوچستان میں ڈائیلاگ شروع کرنی چاہئے، یہاں اصلاحات کریں، گورننس کو اچھا کریں، کرپشن کم، بے روزگاری ختم کریں۔ تب حالات بہتر ہونگے۔