Express News:
2025-04-04@16:10:45 GMT

چینی پر عوام دشمن پالیسی

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

وفاقی حکومت نے چینی کی قیمتوں میں کمی پر اطمینان کا اظہارکیا ہے جب کہ تاجروں نے حکومت سے چینی 164 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ناانصافی جاری رہی تو دکاندار چینی کی فروخت بند کرنے کر دیں گے اور بے بس عوام یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہیں کہ رمضان المبارک سے قبل ملک میں جو چینی 135 روپے سے 140 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی وہ موجودہ حکومت کی پالیسی سے رمضان میں 190 روپے کلو تک فروخت ہونے والی چینی کی قیمت حکومت نے رمضان میں 164 روپے مقرر کی جس پر تاجروں نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور چینی کی فروخت بند کرنے کی دھمکی دی ہے ۔

ہمیشہ دیکھا ہے کہ تاجر چینی کی قلت پیدا کرکے چینی کی بلیک میں قیمت پہلے سے زیادہ تک پہنچا دیتے ہیں۔یہ بھی خبر آئی تھی کہ حکومت گھریلو صارفین کے لیے الگ اور چینی کاروباری فروخت کے لیے خریدنے والوں کے لیے الگ قیمت مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام کو چینی کچھ سستی مل سکے۔

اس تجویز کے محرک کی پلاننگ حیران کن ہے ۔ حکومت اگر عوام کو ایک سے پانچ کلو تک چینی 180 روپے تک فروخت کرانے کا فیصلہ کرے گی تو حکومت کے نزدیک عوام پر اس کا احسان ہوگا اور اگر منوں کے حساب سے کاروباری طور چینی خریدنے والے اداروں اور بڑے تاجروں کے لیے حکومت اگر 200 روپے کلو بھی قیمت مقرر کرے گی تو اس کا نقصان بھی سراسر عوام کا ہی نقصان ہوگا کیونکہ چینی سے شربت، مٹھائیاں، بیکری مصنوعات، کمپنیوں کے بسکٹ و دیگر اشیا بنانے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا خواہ چینی انھیں ڈھائی سو روپے کلو بھی ملے تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ فوراً اپنی چینی سے تیارکردہ مصنوعات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیں گے اور اضافی قیمت عوام پر منتقل کر دیں گے اگر انھیں چینی بیس روپے کلو مہنگی ملے گی تو وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کم ازکم پچاس روپے اضافہ کر دیں گے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ چینی کی قیمت حکومت اگر کم بھی کرے تو بھی مٹھائیوں، بیکری مصنوعات، شربت و دیگر اشیا کی قیمت کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ ان کا کام صرف قیمتیں بڑھانا، عوام کا کام مجبوری میں یہ مہنگی اشیا خریدنا اور حکومت کا کام صرف تماشائی بن کر یہ تماشا دیکھنا اس لیے رہ گیا ہے کہ یہ تماشا حکومت خود ہی شروع کراتی ہے۔

چینی تماشا برسوں سے حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث جاری ہے کیونکہ شوگر ملز مالکان ہر حکومت میں نہ صرف خود شامل رہے ہیں بلکہ حکومت کرنے والے خود چینی کا کاروبار کرتے آ رہے ہیں اور یہ لوگ جان بوجھ کر ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے اس لیے یہ تاثر دے کر حکومت سے چینی باہر بھیجنے کی اجازت یہ کہہ کر لے لیتے ہیں کہ اضافی چینی باہر بھیجنے سے حکومت کو زرمبادلہ حاصل ہوگا اور ملک میں چینی کی قلت بھی نہیں ہوگی۔

یہ منصوبہ بند چونکہ حکومت کا خود حصہ ہیں، اس لیے ہر حکومت انھیں چینی باہر بھیجنے کی اجازت دے دیتی ہے اور یہی 2024 میں بھی (ن) لیگ کی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کیا اور حکومت نے 2024 میں ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی باہر بھجوا کر زرمبادلہ کمایا اور چینی باہر بھیجنے والے دہرے فائدے میں رہتے ہیں۔

وہ چینی باہر بھیج کر اضافی نفع کماتے ہیں اور بعد میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ملک کی مارکیٹوں سے چینی غائب کرا دیتے ہیں اور لوگوں کو دکانوں پر چینی نہیں ملتی تو وہ دکاندار کی خوشامد بھی کرتے ہیں اور بلیک میں چینی اضافی قیمت دے کر مہنگی بھی خریدتے ہیں کیونکہ گھریلو استعمال کے لیے چینی مہنگی خریدنا ان کی مجبوری اور یہ تماشا ہر آئے سال کرنا حکومت اور شوگر مافیا کے لیے شغل ہوتا ہے جس میں فائدہ حکومت اور شوگر مافیا کا اور ہمیشہ نقصان عوام کا ہوتا ہے ۔

پی ٹی آئی حکومت نے اپنی حکومت بنوانے والی شوگر مافیا کو اس سلسلے میں بڑا فائدہ پہنچایا تھا جس کے نتیجے میں چینی کی مہنگائی کا ریکارڈ قائم ہوا تھا جس کے بعد چینی مسلسل مہنگی ہی ہو رہی ہے۔ شوگر مافیا اس حکومت میں بھی طاقتور ہے جس نے رمضان میں چینی 200 روپے کلو تک فروخت کرا کے اپنی طاقت دکھا دی ہے اور حکومت نے چینی کی قیمت میں کمی پر اطمینان کا اظہار اور چینی مافیا پر مصنوعی برہمی دکھا رہی ہے۔

رمضان میں چینی کی کھپت بڑھ جاتی ہے اور گرمیاں بھی آ رہی ہیں جس میں چینی کی مانگ مزید بڑھے گی جس کا نقصان عوام نے ہی اٹھانا ہے اور ہر بار چینی مہنگی کرانے کے لیے پہلے چینی باہر بھیجنے،کبھی کبھی قلت پر چینی باہر سے مہنگی خریدنا اور ملک میں چینی مزید مہنگی کرانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چینی باہر بھیجنے چینی کی قیمت میں چینی کی کر دیں گے حکومت نے اور چینی روپے کلو ملک میں ہیں اور ہے اور کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم کی جانب سے عوام کو بڑا ریلیف، گھریلو اور صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سے تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، خواجہ آصف، رانا ثنا اللّٰہ اور دیگر وزرا بھی شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔ بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بل آنے پر لوگوں کے گھروں میں غصہ اور افسردگی کا عالم تھا، ہمیں عام آدمی کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے، قوم کے لیے عید کا تحفہ پیش کر رہا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تمام گھریلو صارفین کو اوسطاً فی یونٹ بجلی 34 روپے 37 پیسے میں فراہم کی جائے گی، اس وقت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 45 روپے 5 پیسے پر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ء میں صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58 روپے 50 پیسے تھی، آگے بڑھتے ہوئے ماضی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے، ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کوششیں کی گئیں، منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹک رہی تھی، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، آرمی چیف اور ان کے رفقا کا معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون رہا، معاشی استحکام کی راہ میں پہاڑ جیسی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی پاکستان میں سب سے کم ہیں، شرح سود 22 فیصد سےکم ہو کر 12 فیصد ہوچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معشیت کی بہتری کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، ملکی معیشت اندھیروں کے بجائے اجالوں کی طرف آ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان میں معاشی استحکام آچکا ہے، اب اڑان بھرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے انکار کردیا تھا، آئی ایم ایف سے بات چیت کی اور بتایا کہ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے بجائے بجلی کی مد میں عوام کو ریلیف دینا چاہ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف کچھ نہیں کہنا، آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی انہوں نے کئی سو فیصد کمایا ہے، آئی پی پیز سے بات چیت میں کہا کہ آپ نے کئی گنا کمایا اب قوم کو فائدہ دیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کا گردشی قرضہ 2393 ارب روپے ہے، اس گردشی قرضے کا مستقل بندوبست کرلیا گیا ہے، گردشی قرضہ اب گردش نہیں کرے گا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے گردشی قرضے کا پکا بندوبست کرلیا گیا ہے، اگلے 5 سال یہ گردشی قرضہ دوبارہ گردش نہیں کرے گا، آئندہ 5 سال میں گردشی قرضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی ٹیرف پالیسی غنڈہ گردی اور عالمی دشمنی ہے، چینی میڈیا سروے
  • وزیراعظم سے بجلی کی قیمت مزید 6 روپے کم کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے،فاروق ستار
  • قوم کو 15 روپے فی یونٹ بجلی دینے والا پابند سلاسل ہے، بیرسٹر سیف
  • قوم کو 15 روپے فی یونٹ بجلی دینے والا آج پابندِ سلاسل ہے: بیرسٹر سیف
  • امریکی سرکاری ملازمین پر چینی شہریوں کے ساتھ ’رومانوی تعلق‘ رکھنے پر پابندی
  • بجلی نرخ میں تاریخی کمی حکومت کا عوام سے کیا وعدہ وفا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ،اویس لغاری
  • سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمت نئی ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی
  • وزیر اعظم کی جانب سے عوام کو بڑا ریلیف، گھریلو اور صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
  • امریکا نے چین میں موجود اہلکاروں پر چینی شہریوں کے ساتھ رومانی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کردی