Express News:
2025-04-04@16:10:45 GMT

شاعری ، عظیم یونانی اساتذہ کی نظر میں

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

تمام اصنافِ ادب میں شاعری سب سے ممتاز ہے۔ یہ وہ صنفِ ادب ہے جس میں تخیل اور وجدان کا بہت عمل دخل ہے ،سقراط،افلاطون ،ارسطو، سوفوکلیز،ہومر اور لان جائے نس فکرِ انسانی کی تاریخ میں علم و دانش کے عظیم شارح سمجھے جاتے ہیں۔ افلاطون تمام فلسفیوں میں بہت ممتاز مقام کا حامل تھا۔وہ 17سال کی عمر میں عظیم فلاسفر و استاد سقراط کا شاگرد بنا۔

اس کے بعد اس نے ایتھنز میں اپنی اکیڈمی بنائی جہاں اس نے کوئی 40سال تک علوم فلسفہ کا درس دیا۔ اکیڈمی میں ارسطو اس کا شاگرد رہا۔81سال کی عمر میں افلاطون کی موت ایک شادی میں شرکت کے دوران ہوئی۔اس کی وفات پر تمام ایتھنز نے ماتم کیا۔افلاطون ایک بہت اچھے کردار کا حامل فلاسفر تھا۔وہ اخلاق سے گری ہوئی ہر چیز کا مخالف تھا۔اس نے اپنے استاد سقراط کے خیالات کو بے پناہ وسعت دی۔اس کی کتاب ری پبلک ایک مثالی ریاست سے متعلق ہے۔

 افلاطون کی نثر بالکل شاعری کی طرح ہے۔وہ خود اعتراف کرتا ہے کہ اسے شاعری اور شاعروں سے محبت ہے، وہ ہومر کی بہت تعریف بھی کرتا تھا۔اس کے باوجود عظیم لوگوں میں وہ پہلا شخص ہے جس نے شاعری کی مخالفت کی اور کہا کہ شاعری جھوٹ اور فریب کی ماں ہے۔اس نے کہا کہ اس کی تجویز کردہ مثالی جمہوری ریاست میں شاعر کے لیے کوئی جگہ نہیں، کیونکہ شاعری اخلاقیات کے منافی ہے۔اس کے خیال میں شاعری جذبات کو بھڑکاتی ہے۔شاعری کسی کو بھی عمدہ شہری نہیں بنا سکتی۔

شاعری میں دروغ گوئی بہت زیادہ ہوتی ہے۔شاعری کی بنیاد نقالی پر ہے اور تمام شاعر نقال ہوتے ہیں۔ شاعر حقیقت سے دور لے جاتے اور سفلی جذبات کو ابھارتے ہیں جس کی وجہ سے نفسِ انسانی کا مضبوط اور پاکیزہ عقلی حصہ کمزور ہو جاتا ہے ،شاعری انسان کے کردار و اخلاق کو تباہ کر دیتی ہے،جب کہ عقلی سچائی سب سے بڑی سچائی ہے۔افلاطون ان شعراء کو قابلِ برداشت سمجھتا ہے جو معلمِ اخلاق ہوں ۔چونکہ شاعری جنون اور دیوانگی کے زیرِ اثر کی جاتی ہے اس لیے شاعری انسان کو جنون کی طرف لے جاتی ہے۔

افلاطون شاعری سے اس لیے بھی الرجک ہے کہ یہ سچائی کی علمبردار نہیں ہے چنانچہ شاعری کو بے اخلاقی کے الزام سے بچانے کے لیے اس کے چاہنے والوںنے Theory of Inspiration کو فروغ دیا۔اس نظریہ کے مطابق شاعری کی زبان لوگوں کی زبان سے جدا ہوتی ہے کیونکہ شاعر صاحبِ جنون ہوتا ہے۔وہ شاعری کو الہامی کیفیت میں لکھتا ہے اور وہ عام اخلاقی اصولوں سے مبرا ہوتا ہے۔

افلاطون نے الہامی نظریہ کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور کہتا ہے کہ شاعر نمود و نمائش کے شکنجے میں جکڑا ہوتا ہے اور اصلیت و عملیت سے بے خبر ہوتا ہے۔حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ عقل ہے جو انسان کو رفعتوں اور بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن شاعر جذبات سے مغلوب ہو کر لکھتا ہے۔ جذبات کا مرکز عقل نہیں بلکہ بدن ہے اور یہ بدن حیوانی و جبلی تحریکات سے بھرا ہوا ہے۔عقل چونکہ بدن سے بالاتر ہے،اس لیے عقل کی ہی رہنمائی میں زندگی کا سفر کرنا چاہیے لیکن اس کا کیا کیجیے کہ شاعری عقل کو ناپختہ اور مصلحت اندیش سمجھتی ہے۔شاعری دماغ میں ہلچل پیدا کر کے عقل ، اور بدن کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔

شاعری گھٹیا انسانی جذبات کو نہ صرف اپیل کرتی ہے بلکہ انھیں استعمال میں لاتی ہے۔اس طرح افلاطون کے مطابق شاعری سفلی جذبات کو بھڑکا کر عملی و عقلی توازن کو بگاڑتی ہے اور عدل و خیر کے تمام راستوں کو بند کر دیتی ہے۔افلاطون کے مطابق انسانی مسرت کے لیے ضروری ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھا جائے اورعقل کو مضبوط کیا جائے۔اس کی مثالی ریاست میں شاعروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ شاعر شہرت حاصل کرنے کی تگ و دو میں جذبات کو بھڑکاتا ہے ۔ شاعری عقل کی Ascendency اور Aristrocracyمیں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

افلاطون کے عظیم شاگرد ارسطو کے شعر و ادب کے بارے میں اپنے استاد سے اختلافات تھے۔تنقید کے میدان میں ارسطو وہ پہلا فرد ہے جس نے بہت گہرا اثر ڈالا تحریکِ احیائے علوم Renissanceسے 19ویں صدی تک اس کی بات کو ادب میں حتمی تصور کیا جاتا تھا ۔بیسویں صدی میں اس کے نظریات پر بہت تنقید ہوئی لیکن اس کے باوجود اس کے مقام اور مرتبہ میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔افلاطون کے برعکس ارسطو نے کہا کہ شعر کارآمد،با اخلاق اور معاشرے کو سنوارنے کے کام آ سکتا ہے۔

ارسطو کے مطابق یہ صحیح ہے کہ فنون کی بنیاد نقالی ہے لیکن یہ کھوکھلی نقالی نہیں۔اس میں شاعر کا اپنا تخیل اور حقائق بھی کارفرماہوتے ہیں اور بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔شاعر کی حقیقت ارسطو اس طرح سامنے لاتا ہے کہ شاعری کا عمل مورخ کے عمل سے زیادہ سنجیدہ اور با مقصد ہے۔ارسطو کہتا ہے کہ شاعر تخلیق کرتا ہے اور مورخ صرف واقعہ بیان کرتا ہے۔تاریخ کو تخیل کی مدد سے جہانِ نو تخلیق کرنے کی اجازت نہیںہے۔مورخ ماضی کے حالات تک محدود ہے جب کہ شاعر ماضی،حال اور مستقبل میں تخیل سے رنگ بھرتاہے۔شاعر وہ واقعات بھی بیان کر سکتا ہے جو تاریخ میں نہ ہوں بالکل فرضی ہوں مگر پھر بھی شاعر کے بیان میں زیادہ چاشنی،شاعرانہ سچائی اور اصلیت ہوتی ہے۔ اس نظریہ کے لیے ارسطو نے لا آف پروبیبلیٹی کو بنیاد بنایا ہے۔

شاعر کا فطرتِ انسانی کا گہرا مطالعہ،اس کا وسیع تر علم اس کو عام حقیقتوں کو نظر میں رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔شاعرکے لیے کسی ایک موضوع کی پابندی ضروری نہیں،اس لیے ارسطو شاعری کو تاریخ سے برتر جانتا ہے۔ارسطو کے شاعری کے بارے میں نظریات نے پوری دنیا پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔بعض دانشوروں نے یہاں تک کہا ہے کہ ارسطو نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے جوش و خروش میں آ کر حد سے تجاوز بھی کر جاتا ہے۔یوںاس نے شاعری اور تاریخ کو خواہ مخواہ حریف بنا دیا ہے۔حقیقت میں یہ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ فن و ادب کے دو الگ الگ دھارے ہیں۔ارسطو کا اختلاف افلاطون کے شاعری سے متعلق نظریے سے تھا۔ارسطو کے موقف کی بنیاد فلسفہ پر ہونی چاہیے تھی۔اس نے شاعری کا تاریخ سے جو موازنہ کیا ہے وہ کسی قدر بے محل لگتا ہے۔

یونان میں سقراط،افلاطون اور ارسطو کے بعد ایک اور عظیم نقاد Longinusلان جائے نس پیدا ہوا۔ اس کی اصل شناخت کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔اتفاقاً اس کا رسالہ زمانے کی دست برد سے محفوظ رہا۔اس کے کام کی بدولت زمانے کو تنقید کے نئے اصول ملے۔اس کے رسالے کا ترجمہOn the Sublimeکے ٹائیٹل سے ہوا۔اس کے مطابق ادب،ادیب اور قاری تینوں ادبی مسئلے کی بحث کے لازمی اجزا ہیں۔لان جائے نس کے بقول اعلیٰ و ارفع ادب سامع و قاری کو تخیل و جذباتی تجربے کی اونچی حد پر لے جاتا ہے۔یہ ایک ایسا شاعر و ادیب کرتا ہے جس کے خیالات بلند ہوں۔

جذبے کی شدت کے علاوہ اسے زبان و بیان پر حد درجہ عبور اور ملکہ حاصل ہو۔ایسا ادب قاری کو وجد میں لا سکتا ہے۔لان جائے نس نے بلاغت کے خطیبانہ وسائل اور شاعری کی جذباتی اساس کو باہم ملا کر ادب اور ادبی مطالعہ کا ایک نیا راستہ وضع کیا۔اسکاٹ جیمز نے اسے پہلا رومانوی نقاد قرار دیا۔لان جائے نس کی وفات کے بعد ادبی تنقید کی دنیا میں بڑا عرصہ خلا رہا،پھر تیرھویں صدی میں دانتے نے اس خلا کو پر کیا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لان جائے نس ارسطو کے شاعری کی کہ شاعری کے مطابق جذبات کو کرتا ہے جاتا ہے ہوتا ہے ہے شاعر کہ شاعر ہے اور اس لیے کے لیے

پڑھیں:

بھارت کے امیرترین مسلمان، جو بڑے تائیکون کی کمائی کے برابر رقم عطیہ کرتے ہیں

MUMBAI:

بھارت کے امیر ترین افراد کی بات ہوتی ہے تو اڈانی، امبانی، ٹاٹا اور برلا کا نام آتا ہے جبکہ بلومبرگ کی ارب پتی افراد کی فہرست میں ایک بھارتی مسلمان بھی شامل ہیں جن کی دولت کا حجم اربوں ڈالر ہے۔

انڈیا ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ممبئی میں 1947 میں پیدا ہونے والے عظیم پریم جی کی دولت کا حجم 27.8 ارب ڈالر ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ اتنے عطیات دیتے ہیں جس کے برابر بھارت کے کئی امیرترین افراد کمانے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عظیم پریم جی کا خاندان روزانہ ایک اندازے کے مطابق 27 کروڑ بھارتی روپے عطیات دیتا ہے۔

انگریزوں سے آزادی سے قبل عظیم پریم جی کے والد محمد پریم جی کا میانمار میں چاول کا کاروبار تھا تاہم آزادی کے بعد وہ اپنا کاروبار بھارت لے آئے اور بھارت کو اپنا مسکن بنالیا۔

عظیم پریم جی مشہور آئی ٹی کمپنی وائپرو کے بانی ہیں اور بھارت کے ممتاز کاروباری خاندانوں میں ان کے خاندان کا شمار ہوتا ہے۔

بھارتی میڈیا نے بتایا کہ ہورون انڈیا فلنتھروپی لسٹ 2021 کے مطابق عظیم پریم جی نے مالی سال 21-2020 کے دوران 9 ہزار 713 کروڑ بھارتی روپے یا روزانہ 27 کروڑ روپے عطیات دیے ہیں۔

فوربز کے مطابق عظیم پریم جی 22 فروری 2025 کو بھارت کے امیر ترین مسلمان شخصیت بن گئے اور ان کی دولت کا حجم 12.2 ارب ڈالر ہے اور بھارت کے امیر ترین افراد میں 19 واں نمبر ہے۔

عظیم پریم جی کا دنیا بھر میں امیر ترین افراد کی فہرست میں 195 واں نمبر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن اعظم ﷺ کا خُلق عظیم
  • جلد تیسری جنگِ عظیم شروع ہونے والی ہے، برازیلین نجومی کی پیش گوئی
  • بلتستان میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بھارت کے امیرترین مسلمان، جو بڑے تائیکون کی کمائی کے برابر رقم عطیہ کرتے ہیں