ٹیرف معاملہ، امریکا سے سفارتی عمل شروع کریں گے، سفیر پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
فائل فوٹو
امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ ہماری سب سے زیادہ تجارت امریکا سے ہے، امریکا ہمیشہ سے ہمارا اہم تجارتی شراکت دار رہا ہے۔
اپنے بیان میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مثبت طریقے سے سفارتی عمل شروع کریں گے، امید ہے کہ ٹیرف کے معاملے پر سفارتی عمل کے مثبت نتائج آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ امریکی انتظامیہ کے خدشات اور تشویش کو سمجھیں۔
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی سے بھی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک کی درآمدی مصنوعات پر کم ازکم 10 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد اور بھارت پر 26 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
امریکی صدر کا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران یوم آزادی کے موقع پر نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے امریکا ایک نئے سنہری دور کا آغاز کرے گا اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو اقتصادی طور پر خوشحال بنایا جائے۔
ٹرمپ کے مطابق ان نئے ٹیرف کی مدد سے امریکا میں غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کو ختم کیا جائے گا، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جنہوں نے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف سے دنیا تجارتی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ٹیرف امریکا کے کسانوں اور کاشتکاروں کے حق میں ہیں، جنہیں دنیا بھر میں دیگر ممالک کی جانب سے ظلم کا سامنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اب غیر ملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرے گا اور کہا کہ جو ممالک امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگاتے ہیں انہیں اب اس کا جواب دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان پر 58 فیصد، چین پر 34 فیصد اور بھارت پر 24 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا یو ٹرن، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کردہ ٹیرف ایک دن بعد ہی مؤخر کر دیا
اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ حاصل شدہ محصولات کو امریکا میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کینیڈا کی جانب سے دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات پر 200 سے 250 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا نے امریکی مصنوعات کے لیے غیر منصفانہ قیمتیں رکھی ہیں۔
ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو سبسڈی فراہم کرتا ہے اور یہ امداد گزشتہ 30 برسوں سے جاری رہی ہے۔