آئین توڑنے والوں کو پھانسی ہونی چاہئے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
پشتین میں پشتونخوامیپ کے زیراہتمام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ انصاف کے قاتل جسٹس منیر کی باقیات وہ ججز، ظالم، قاتل اور ڈاکو جنہوں نے مارشل لاز کو قانونی جواز فراہم کیا، آئین پاکستان کو توڑنے کی سزا، سزائے موت ہے، اگر یہ سزا اس وقت کے آئین شکن جرنیلوں کو دی جاتی تو ملک دولخت نہ ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ پشین بلوچستان میں پشتونخوامیپ کے زیر اہتمام جلسے سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین توڑنے والوں کو پھانسی ہونی چاہئے، انصاف کے قاتل جسٹس منیر کی باقیات وہ ججز، ظالم، قاتل اور ڈاکو جنہوں نے مارشل لاز کو قانونی جواز فراہم کیا، آئین پاکستان کو توڑنے کی سزا، سزائے موت ہے، اگر یہ سزا اس وقت کے آئین شکن جرنیلوں کو دی جاتی تو ملک دولخت نہ ہوتا، آئین پاکستان ہی وہ دستاویز ہے جس نے پورے پاکستان کی اکائیوں کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے، جس میں عوام کے حقوق درج ہیں، لیکن جو بھی آتا ہے وہ آئین کو ہی پامال کرتا ہے، انیس سو ستر میں ہونے والے صاف شفاف انتخابات میں عوامی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا ایک سال بعد ملک ٹوٹ گیا، اس وقت جو اقتدار کے رسیا جرنیل اور ناعاقبت اندیش سیاستدان ملک توڑنے کے ذمہ دار تھے انکی کارستانیاں حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پڑھ سکتے ہیں، اب بھی ملک میں وہی تاریخ دوہرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا، اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی، ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں، اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں، بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں، ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے، ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے، ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پی ٹی آئی راہنماؤں کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات، سلمان راجہ کو اجازت نہ ملی
جیل کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خٹککا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران بانی اور سابق خاتون اول نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے اور وہ دونوں بالکل ٹھیک ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ عید کے دوسرے روز اعظم خان سواتی، مبشر اعوان اور نادیہ خٹک نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات 20 سے 25 منٹ تک جاری رہی جبکہ سلمان اکرم راجہ، شعیب شاہین اور نیازاللہ نیازی کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ جیل کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خٹک نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے اور وہ دونوں بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کانفرنس روم میں اکھٹے بیٹھے تھے، ہم نے ملاقات کی بانی پی ٹی آئی نے ٹراوزر شرٹ پہن رکھی تھی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے۔ نادیہ خٹک نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی بلکل ٹھیک تھے۔