ماہرنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کیساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
چئیرمین ایم ڈبلیو ایم نے سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ میں آپ کے سامنے ہوں، میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے رہے ہیں کے خلاف کے ساتھ کے عوام اور ان کے لیے
پڑھیں:
وقف ترمیمی بل کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہیگی، جمعیۃ علماء ہند
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی، مگر اسکے برعکس مودی حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کئے جانے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیا جا رہا ہے، وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپنی تعداد کی برتری کے بل پر اسے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے، یہ طرزِ عمل غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو زبردستانی ایوان میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتیوں کے حقوق کو غصب کرنا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی، مگر اس کے برعکس مودی حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور اقلیت میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بل ناقابل قبول ہے اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی اور ہم ہر قانونی اور پُرامن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔