چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈنڈے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلوچستان کے لوگوں کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کیے جائیں، حافظ نعیم الرحمان

جمعرات کو لطیف کھوسہ، ، سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی، علامہ راجہ ناصر، پشتونخوامیپ کے عبدالرحیم زیارتوال اور دیگر کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ آپریشن کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ طاقت سے مسائل کا حل ممکن نہیں۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اور بلوچستان کو اس کا جائز حق دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے قومی سلامتی کے اجلاس کے بائیکاٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس گھر میں آگ لگی ہو ان کو اجلاس میں بلانا چاہیے تھا مگر پنجاب کے ارکان کو بلایا گیا جس کے باعث ہم نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ طاقت کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پہلے آئین کو پڑھ لیں۔

انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان میں محرومی نہیں بلکہ احساس محکومی ہے۔

مزید پڑھیے: ناراض بلوچ کی اصطلاح میڈیا کی پیدا کردہ، سرنڈر کرنے والوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ایجنسیوں کی مداخلت بلوچستان میں ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائنس بلوچستان کا فارمولا ختم کریں، جعلی لوگوں کو آگے نہ لایا جائے اور حقیقی مینڈیٹ حاصل کرنے والوں کو ان کا حق دیا جائے۔

لشکری رئیسانی نے کہا کہ اداروں کی مداخلت سے ملک کی سیاست کو مزید نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے اور ملک کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 180 نشستیں جیتنے والا جیل میں ہے اور 17 نشستیں جیتنے والا وزیر اعظم ہے، یہ ناانصافی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی عسکریت پسندوں کو جرگے کی پیشکش

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کبھی کسی خاتون کی چادر نہیں اچھالی گئی مگر آج حکمران جو سلوک کر رہے ہیں، وہ قابل قبول نہیں۔

لطیف کھوسہ نے فارم 47 کے تحت اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تباہی ہم کسی صورت نہیں دیکھ سکتے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں خواتین سمیت تمام سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان کے مسئلے کا حل بلوچوں سے مذاکرات پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی مسئلہ بلوچستان.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان کے مسئلے کا حل بلوچوں سے مذاکرات پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی مسئلہ بلوچستان بلوچستان میں کہ بلوچستان بلوچستان کے تحریک انصاف نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کے پی، بلوچستان کے مسائل کیلئے ان کو حقوق دیے جائیں، مفتاح اسماعیل

کراچی:

سابق وزیرخزانہ اورعام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا (کے پی) اور بلوچستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ وہاں حقوق دیے جائیں اور غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات ہوں اور مسائل آپریشن سے نہیں مذاکرات سے حل کیے جائیں۔

عیدالفطرکے موقع پر پر کراچی میں پارٹی کے صوبائی سیکرٹیریٹ میں ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی میں حادثات یا ٹریفک کا مسئلہ ناکام حکمرانی کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 18 سال سے صوبے میں برسراقتدار ہے، روز حادثات ہو رہے ہیں، حاملہ خواتین سمیت شہری جاں بحق ہو رہے ہیں، یہ حکومت کی لاپرواہی ہے، اگر حکومت سندھ چاہے تو یہ مسئلہ تین سے چار روز میں حل ہوسکتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا سکہ فارم 47 کی وجہ سے ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کے لوگوں کو مایوس کیا ہے اور کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کا ووٹ ختم ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو عوام نے دیکھ لیا ہے، پی پی پی سے فیض عوام کو ان کے لوگوں کو پہنچتا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عام پاکستان پارٹی عوام میں مقبول ہو رہی ہے، مئی یا جون میں کراچی میں جلسہ کریں گے۔

معاشی صورت حال کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صوت حال کا اندازہ عوام کے مجموعی حالات دیکھ کر پتا چلتا ہے، لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، مہنگائی بڑھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے لوگوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے، حکومت کی لاپرواہی سے چینی کی قیمت 115 سے 180 روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچساتان کے لوگ ہم سے ناراض ہیں، ان کے مسائل مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، آپریشن مسائل کا حل نہیں، بلوچستان اور کے پی کے مسائل کا حل یہ ہے کہ وہاں عوام کو خودمختاری دی جائے اور غربت کم کی جائے، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی امریکا میں اختلافات
  • حماد اظہر نے تحریک انصاف کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دیدیا
  • بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟
  • بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا
  • بی این پی کیساتھ مذاکرات جاری ہیں، اس پر میڈیا سے بات نہیں کرینگے، حکومت بلوچستان
  • بچیوں کی گرفتاری سے بلوچستان کے مسائل خراب ہو رہے ہیں، مالک بلوچ
  • بلوچستان کے مسائل پر سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی میں کمی پرسپریم کورٹ بار کا اظہار تشویش
  • صدر سپریم کورٹ بار کی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات، بلوچستان کے مسائل پر گفتگو
  • کے پی، بلوچستان کے مسائل کیلئے ان کو حقوق دیے جائیں، مفتاح اسماعیل