معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر سید ہارون احمد انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان میں ذہنی صحت کی امداد کی بنیاد رکھنے اور سماجی اور سیاسی تحریکوں میں فعال رہنے والے معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر سید ہارون احمد آج کراچی میں انتقال کر گئے۔
ان کی نمازِ جنازہ کل 4 اپریل 2025ء بروز جمعہ بعد نمازِ جمعہ مسجدِ ابوبکر صدیق، بلاول چورنگی نزدیک شیل پیٹرول پمپ، بلاک 2 کلفٹن، کراچی میں ادا کی جائے گی،مرحوم پروفیسر سید ہارون احمد کی تدفین کورنگی کریک کے قریب واقع کورنگی نمبر 1.
چئیرمین پی سی بی کاسابق کرکٹر فاروق حمید کے انتقال پرافسوس کا اظہار
پروفیسر سید ہارون احمد نے ملک میں ذہنی صحت کی امداد کی بنیاد رکھی اور سماجی اور سیاسی تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا،وہ انسانی حقوق، اقلیتی حقوق اور سیکولر ازم کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ انہوں نے تقریباً 6 دہائیوں تک طب کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پروفیسر سید ہارون احمد
پڑھیں:
اسلامی ملک میں عمران خان کو نماز عید نہیں پڑھنے دی گئی، عمر ایوب
اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں
اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں، انتظامیہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہ ہونے کا اقرار کر رہی ہے
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں؟ جہاں بانی بانی پی ٹی آئی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جمعرات کی ملاقات کی لسٹ بانی خود فائنل کرکے وکلا کے حوالے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کس کے کہنے پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی کی اڑھائی ماہ سے بچوں سے بات نہیں ہونے دی گئی،بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آیہ کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں ؟جہاں بانی کو عید کی نماز نہ پڑھنے دی تو پیچھے کیا چیز رہ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بار بار توہین عدالت کر رہے ہیں،امید کرتے ہیں جج صاحبان اپنے احکامات پر عملدرآمد کروائیں، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ رکوا سکے تو بہتر ہے استعفیٰ دیکر کر گھر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وفد بلوچستان گیا ہوا ہے،مشکل سے وہ اختر مینگل کے قافلے سے جا کرملے۔عمر ایوب نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت نے انکا راستہ روکا ہم اسکی مذمت کرتے ہیں، ہم کہتے رہے کہ 8اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں ہے، محسن نقوی نے کہا بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے کہاں ہے وہ ایس ایچ او، انتظامیہ خود اعلان کر رہی ہے کہ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو صرف بانی پی ٹی آئی اکھٹا کر سکتے ہیں۔