انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بلوچستان اورکے پی میں ایف آئی اےکے 9 نئے تھانے قائم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد: امن و امان کی بحالی اور انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیے حکومت نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایف آئی اے کے 9 نئے تھانے قائم کردیے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن کے تحت کام کرنے والی 9 چیک پوسٹوں کو پولیس اسٹیشنوں کا درجہ دیا گیا ہے۔ تھانوں کا درجہ پانے والی 7 چوکیاں بلوچستان اور 2 خیبر پختونخوا میں ہیں۔
کرم ایجنسی میں چیک پوسٹ گاوی اور انزارکئی کے نام سے دو تھانے قائم کیےگئے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں چار بان، نور وہاب، بربچہ اور راجے کے نام سے تھانے بنائے گئے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع ژوب میں غزنی، قمر دین کاریز کے نام سے دو تھانے قائم کیےگئے ہیں۔
ضلع پنجگور میں پراگ کوہ کے نام سے ایف آئی اے کا ایک تھانہ قائم کیا گیا۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تھانے قائم کے نام سے ایف ا ئی
پڑھیں:
وزیراعلی کے پی نے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا
وزیراعلی کے پی نے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایا جات کی ادائیگیوں کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور وزیراعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔ مراسلے کے مطابق آرٹیکل161ٹومیں پن بجلی کےخالص منافع کا معاملہ واضح ہے، پن بجلی گھروں سےحاصل منافع متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے مراسلے کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل (2) 161 میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے، پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے، صوبوں کو ملنے والی اس رقم کی شرح کا تعین مشرکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔
علی امین گنڈا پور کی جانب سے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس مقصد کے لئے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھا ڈالوجی کی منظوری دی تھی، 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔
مراسلے کے مطابق 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ نے بھی اس کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی ہے، 2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار بھی متعارف کروا دیا، مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس عبوری طریقہ کار کی توثیق کی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.10 روپے فی کلوواٹ آور مقرر کیا گیا ہے، عبوری طریقہ کار میں مزکورہ شرح پر سالانہ 5 فیصد اضافہ بھی مقرر کیا گیا ہے، اسی طریقہ کار کے تحت واپڈا نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں شروع کیں، ادائیگیاں نہ ہونے سے خیبرپختونخوا کی 75 ارب روپے کی واجبات جمع ہو گئیں۔
مراسلے کے مطابق 2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے کے سی ایم فارمولے پر مکمل عملدرآمد کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھا لیا، پن بجلی کے خالص منافع کی شرح کا تعین کرنے کے لئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں ایک کمپنی تشکیل دی، مالی سال 2016-17 خیبرپختونخوا کے 128 ارب روپے بقایاجات کی تصدیق کی گئی ہے۔
مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبوں کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیوں کے معاملے کا آوٹ آف دی باکس حل تجویز کرنے کے لئے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی، آوٹ آف دی باکس کمیٹی نے اسی معاملے کے حل کی طرف پیشرفت کے لئے تمام شراکت داروں سے تجاویز طلب کی ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے اس سلسلے میں اپنی تجاویز پلاننگ کمیشن کو ارسال کر دی ہے۔
وزیراعظم کو لکھے گئے مراسلے کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو درپیش مالی بحران کے پیش نظر اس مسلئے کے فوری حل کی ضرورت ہے، لہذا آوٹ آف دی باکس کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے کے لئے پلاننگ کمیشن کو احکامات جاری کئے جائیں، آئین کے تقاضوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔ امید ہے آپ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دلانے میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔