کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیس اہلکار کو ملزمان کے تعاقب کے دوران دکان میں چھپنے پر معطل کردیا گیا جبکہ محکمانہ کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔

کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ڈاکوؤں کی پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو جیو نیوز نے حاصل کر لی، ویڈیو میں گودام کے باہر موٹرسائیکل سوار دو ڈاکوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

کراچی: اہم ادارے کے افسران سمیت عام شہریوں کو اغواء کرنیوالے جعلی پولیس اہلکار گرفتار

ملزمان میں سے ایک خود کو پولیس افسر دوسرا پولیس اہلکار ظاہر کرتا تھا۔

واقعہ 31 مارچ کو کورنگی صنعتی ایریا میں پیش آیا جہاں دو ملزمان کا پولیس اہلکار تعاقب کر رہے تھے۔ اس دوران ملزمان نے فائرنگ کردی تو ایک پولیس اہلکار بھاگ کر قریبی دکان میں رکھے ایک ڈرم میں چھپ گیا۔

واقعے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے دونوں اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اہلکار کا طرز عمل انتہائی غیر ذمے دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ تھا۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اگر ضرورت محسوس کی گئی تو دونوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار

پڑھیں:

شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ڈاکوؤں کا کریڈٹ پولیس اپنے نام کرنے پر تُل گئی

کراچی:

شہر قائد میں شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 2 ڈاکوؤں کو پولیس نے حراست میں لینے کے چند گھنٹوں بعد پولیس مقابلہ ظاہر کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود قائدآباد سویڈش کالج کے قریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موٹرسائیکل سوار 2 ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہو رہے تھے کہ عوام نے ملزمان کا تعاقب کیا۔ 

مزید پڑھیں: کراچی، شاہ لطیف ٹاؤن مبینہ پولیس مقابلے میں اسٹریٹ کرائم کا اہم ملزم زخمی حالت میں گرفتار

ملزمان کے ہاتھ نہ لگنے پر نامعلوم شہری نے ملزمان پر عقب سے فائرنگ کر دی  جس سے دونوں ڈاکو زخمی ہوگئے تاہم وہ رکے نہیں ، ملزمان پل کراس کر کے ملیر تھانے کی حدود میں داخل ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موٹرسائیکل سے گر گئے۔

جہاں ملیر سٹی تھانے کی پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے کر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا، شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ملزمان کو دو تھانوں کی پولیس نے مشاورت کے بعد پولیس مقابلہ ظاہر کر کے ترجمان کراچی پولیس کو واٹس ایپ میسج کر کے اپنی کارکردگی ظاہر کر دی۔

مزید پڑھیں: کراچی؛ گاڑیاں چھیننے میں حاضر سروس پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ایک اور واقعہ

بعدازاں کراچی پولیس کی جانب سے ایک واٹس ایپ میسج میڈیا کے لیے کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ مقابلہ شاہ لطیف پولیس کے چوق و چابند دستے کے بارے میں بتاتے ہوئے زخمی ملزمان کی شناخت 14 سالہ بلال اور 20 سالہ ارشد خان ولد وارث خان کے نام سے کی گئی۔ 

یہ کوئی ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں اکثر پولیس عوام کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے واقعے کو پولیس مقابلہ اس لیے ظاہر کر دیتے ہیں کہ ان کی کوئی شکایت کرنے والا موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس چیز کا دعویدار ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کو اس نے مارا ہے، عموماً حقیقی پولیس مقابلوں میں ڈاکوؤں سے زیادہ پولیس کا نقصان ہوتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں پولیس ٹیم کو علاقے کی خواتین نے محبوس کرلیا، ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی: 3 زخمی ڈاکو گرفتار، شہریوں کو لوٹنے کی ویڈیو سامنے آ گئی
  • شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ڈاکوؤں کا کریڈٹ پولیس اپنے نام کرنے پر تُل گئی
  • کراچی: اہم ادارے کے افسران سمیت عام شہریوں کو اغواء کرنیوالے جعلی پولیس اہلکار گرفتار
  • کراچی:کورنگی کریک میں بورنگ کے دوران گڑھے میں لگی آگ 6 روز بعد بھی بجھ نہ سکی
  • کراچی: شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار
  • ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات لیکر ڈکیتی اور اغوا میں ملوث 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار
  • کراچی میں گاڑیاں چھیننے والے ملزمان کا سہولت کار پولیس اہلکار گرفتار
  • کراچی: پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزمان سے تفتیش میں اہم پیشرفت، سہولت کار پولیس اہلکار بھی گرفتار