متنازع نہری منصوبے سے پنجاب کے کتنے علاقے متاثر ہوں گے؟ پی پی رہنما کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
متنازع نہری منصوبے سے پنجاب کے کتنے علاقے متاثر ہوں گے؟ پی پی رہنما کا بڑا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
لاہور:
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظور احمد نے انکشاف کیا ہے کہ دریائے سندھ سے نہرے نکالنے کے متنازع منصوبے سے پنجاب کے کئی علاقے متاثر ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی اور انچارج پیپلز لیبر بیورو چودھری منظور احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ چولستان کینال سے چالیس فیصد پانی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
چودھری منظور نے کہا کہ یہ پنجاب اور چولستان کا مسئلہ ہے جس سے اوکاڑہ ،ساہیوال، رحیم یارخان، بہاولنگر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
چودھری منظور نے حکومت کا نام لیے بغیر کہا کہ آپ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر پنجاب کے چھوٹے کاشتکاروں کا قتل کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی یہ نہیں ہونے دیگی،ہم ہر جگہ کاشتکاروں کیساتھ کھڑے ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے نان ایشو کھڑا کیا، پہلے 2 صوبوں کے حالات خراب ہیں، اب تیسرے میں بھی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ منصوبہ بالکل فزی ایبل نہیں، بتائیں کون سی نہر بند کر رہے ہیں۔
چودھری منظور نے واضح کیا کہ صدر مملکت صرف پارلیمنٹ کے بل اور آرڈیننس کی منظوری دیتے ہیں، وہ ایک میٹنگ تھی جس کے منٹس کو غلط طریقے سے پھیلایا جا رہا ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: متاثر ہوں گے پنجاب کے
پڑھیں:
مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور
مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں کی وقف املاک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے “وقف ترمیمی بل 2025” کو لوک سبھا سے منظور کروا لیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں اور مسلم رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا ہے۔
بل کی منظوری کے دوران کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے اسے بھارتی آئین پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت ملک کو خطرناک راستے پر لے جا رہی ہے۔
پارلیمنٹ میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے بل کی کاپی پھاڑ دی اور کہا کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے، جو مسلمانوں کے مذہبی اور جائیدادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔
منظور شدہ بل میں کئی متنازع ترامیم شامل کی گئی ہیں، جن میں غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر بنانے کا اختیار، ریاستی حکومتوں کو وقف بورڈ میں کم از کم دو غیر مسلم ارکان شامل کرنے کا اختیار اور ضلعی کلیکٹر کو متنازع وقف جائیدادوں پر فیصلہ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کو پسماندہ کرنے اور ان کے جائیداد کے حقوق ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں بلکہ مستقبل میں دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بل کی منظوری کے خلاف مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آندھرا پردیش میں دھرنا دے کر شدید احتجاج کیا ہے۔