اسمبلی اسپیکر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران خبردار کیا کہ کسی کے مذہبی اور ذاتی معاملات میں مداخلت ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے منفی مثال قائم ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے وقف (ترمیمی) بل 2025 کو آئین ہند کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذہبی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہے۔ عبدالرحیم راتھر نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ (ترمیم) قانون دفعہ 25 سے متصادم ہے، جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور اس طرح کے اقدامات ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر نے ان خیالات کا اظہار سرینگر میں ایک نجی تقریب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے اس ترمیم کی سخت مخالفت کی۔ ان کا یہ بیان پارلیمنٹ میں طویل بحث کے بعد وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے بل کو اقلیتوں کے لئے فائدہ مند میں قرار دیا، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے "مسلم مخالف" قانون سازی کا حصہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحیم راتھر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران خبردار کیا کہ کسی کے مذہبی اور ذاتی معاملات میں مداخلت ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے منفی مثال قائم ہوگی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد مسلم مذہبی اداروں کی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

نیتن یاہو کا دورہ ہنگری بین الاقوامی قانون کے لیے ’برا دن‘ ہے، جرمنی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جمعرات کی صبح یورپی ملک ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ پہنچے، جہاں ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ بوڈاپیسٹ کے کیسل ڈسٹرکٹ میں فوجی بینڈ کی دھنوں اور گھوڑوں پر سوار فوجیوں کے جلوس کے درمیان ان کا استقبال کیا گیا۔

یہ نیتن یاہو کا نومبر میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی طرف سے وارنٹ جاری ہونے کے بعد دوسرا غیر ملکی دورہ ہے اور وہ اتوار تک ہنگری میں قیام کریں گے۔ دونوں رہنما جمعرات (آج) کو ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہنگری کی 'آئی سی سی‘ سے دستبرداری

ہنگری نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ آئی سی سی سے دستبردار ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

اوربان کے چیف آف اسٹاف گیرگلی گولیاس نے کہا، ''حکومت جمعرات سے آئینی اور بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے مطابق آئی سی سی سے نکلنے کا عمل شروع کرے گی۔

‘‘

چند ماہ قبل آئی سی سی نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ نے غزہ میں ''بھوک کو جنگی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا اور شہریوں کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیلی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

آئی سی سی اور ہنگری کا تنازع

آئی سی سی نے ہنگری کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ترجمان فادی العبداللہ نے کہا، ''ہنگری پر عدالت کے ساتھ تعاون کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘‘ ہنگری نے، جو سن 2001 سے آئی سی سی کا رکن تھا، پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل نہیں کرے گا۔

اوربان نے نومبر میں آئی سی سی پر ''غزہ میں جاری تنازع میں سیاسی مداخلت‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے حمایت اور جرمنی کی تنقید

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے ہنگری کے فیصلے کی تعریف کی اور ایکس پر لکھا، ''ہنگری اور وکٹور اوربان کا شکریہ کہ انہوں نے اسرائیل اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ مضبوط اخلاقی موقف اپنایا۔

‘‘ انہوں نے آئی سی سی پر ''اسرائیل کے دفاع کے حق کو نقصان پہنچانے‘‘ کا الزام لگایا اور اسے ''اخلاقی ساکھ سے محروم‘‘ قرار دیا۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم کے ہنگری کے دورے پر سخت تنقید کی اور اسے بین الاقوامی فوجداری قانون کے لیے ایک ''برا دن‘‘ قرار دیا۔

یہ بیان انہوں نے برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران دیا، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے گرفتاری وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو کے ہنگری میں استقبال پر تنقید کی۔ غزہ میں ایک مرتبہ پھر لاکھوں فلسطینوں کی نقل مکانی

دوسری جانب غزہ کے شہر رفح میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی نے ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے۔

جمعرات کو لاکھوں فلسطینی پناہ کی تلاش میں سرگرداں رہے، جبکہ اسرائیل نے رفح کو ایک نئے اعلان کردہ ''سکیورٹی زون‘‘ کے طور پر قبضے میں لینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں کم از کم 97 افراد ہلاک ہوئے، جن میں غزہ سٹی کے شجاعیہ مضافات میں صبح کے وقت ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے 20 افراد بھی شامل ہیں۔

بدھ کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کے گنجان علاقوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کرے گا۔ اس کے اگلے ہی دن فوج نے رفح میں داخل ہو کر پیش قدمی شروع کی، جو جنگ کے دوران دیگر علاقوں سے بھاگنے والوں کے لیے آخری پناہ گاہ تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سات بچوں کے باپ نے، جو رفح سے فرار ہو کر خان یونس پہنچا ہے، خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک چیٹ ایپ کے ذریعے بتایا، ''رفح ختم ہو گیا ہے، اسے مکمل طور پر مٹایا جا رہا ہے۔

جو گھر اور املاک باقی تھیں، انہیں بھی گرایا جا رہا ہے۔‘‘

حماس کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ میں 18 مارچ سے بڑے پیمانے پر حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے 1,163 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سات اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 50,523 تک پہنچ چکی ہے۔

رفح کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ زیادہ تر آبادی نے اسرائیل کے انخلا کے حکم کی تعمیل کی ہے لیکن خان یونس اور رفح کے درمیان مرکزی سڑک پر تازہ حملے نے نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔

ا ا / م ا، ر ب (اے ایف پی، روئٹرز، اے پی)

متعلقہ مضامین

  • اسپتالوں اور لیبارٹریز کی فیس متعین کرنیکا کیس، کے پی حکومت کو ایکٹ میں ترمیم کا حکم
  • ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
  • نیتن یاہو کا دورہ ہنگری بین الاقوامی قانون کے لیے ’برا دن‘ ہے، جرمنی
  • اسپتالوں اور لیبارٹریز کی فیس متعین کرنیکا کیس؛ کے پی حکومت کو ایکٹ میں ترمیم کا حکم
  • مقبولیت کا زعم احتسابی شکنجے میں
  • ٹرمپ کا خیر سگالی دور صرف 2 ماہ میں ختم، مقبولیت میں کمی
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں مداخلت ہے، مولانا طارق قاری
  • صدر آصف زرداری خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگئے
  • دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور بین الاقوامی قانون