نئے محصولات ٹرمپ کو سیاسی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) بدھ کے روز دنیا بھر کے ممالک پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اسے امریکہ کے لیے ''آزادی کا دن‘‘ قرار دیا۔ لیکن اگر وہ معیشت میں مثبت تبدیلی کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو یہ اقدام نہ صرف ان کی جماعت کو سیاسی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے بلکہ ان کے حلقے کے لوگوں کے لیے معاشی پریشانیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے امریکی میں مینوفیکچرنگ کو بڑھایا جا سکتا ہے، سپلائی چین میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور ملک میں پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ان مقاصد کے حصول میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
ساتھ ہی اس بات کا امکان بھی ہے کہ نئے محصولات کے نتیجے میں امریکہ میں مہنگائی میں اضافہ ہو، معیشت پر منفی اثر پڑے اور دیگر ممالک امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کریں۔
اس تناظر میں یہ اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ امریکی ووٹر شاید اس اقدام کو مسترد کریں، جو کہ اگلے سال مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج میں ظاہر ہو گا۔یہ بات بھی اہم ہے کہ اس وقت امریکی سینیٹ اور امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی سیاسی جماعت ریپبلکنز کو نہایت ہی کم مارجن کے ساتھ حریف جماعت ڈیموکریٹس پر برتری حاصل ہے۔ مڈ ٹرم الیکشن میں شکست کی صورت میں ریپبلکنز اپنی یہ برتری کھو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں ان کے کمیونیکیش ڈائریکٹر رہنے والے مائیک دبکے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کے دوران اس حوالے سے تبصرہ کیا، ''وہ (ٹرمپ) بڑی حد تک تکلیف برداشت کر سکتے ہیں، لیکن نومبر 2026ء میں بیلٹ باکس (کے نتائج ان کے لیے) واقعتاﹰ تکلیف (کا سبب) بن سکتے ہیں۔ فکر یہ ہے کہ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے مطابق جو فوائد حاصل ہونے ہیں، وہ کب ہوں گے، کیونکہ اب مڈ ٹرم الیکشن میں صرف 18 ماہ رہ گئے ہیں۔
‘‘ محصولات سے فائدے سے زیادہ نقصان ہو گا؟دوسری جانب ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ نئے محصولات کے باعث صارفین پر ٹیکس کا بوجھ بڑھے گا۔ اسی طرح روئٹرز کے ایک پول میں 70 فیصد امریکیوں، جن میں 62 فیصد ریپبلکن بھی شامل تھے، کا کہنا تھا کہ محصولات عائد ہونے سے مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ پول کے جواب دہندگان میں سے 53 فیصد کا ماننا تھا کہ محصولات سے فائدے سے زیادہ نقصان ہو گا، جب کہ 31 فیصد کو اس رائے سے اختلاف تھا۔
اسی طرح 31 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ محصولات سے امریکی ورکرز کو فائدہ پہنچے گا اور 48 فیصد نے اس بات سے اختلاف کیا۔ہوور انسٹیٹیوشن نامی تھنک ٹینک سے وابستہ لاہنی چین کے بقول ان محصولات سے بینادی طور پر معیشت کے حوالے سے خطرات در پیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''ایک فوری خطرہ قیمتوں کے حوالے سے ہے اور اس کا ایک ایسے صدر کے لیے کیا مطلب ہو گا جن کے منتخب ہونے کی ایک وجہ قیمتوں میں کمی (کی توقع) تھی۔
‘‘ لاہنی چین کے مطابق اس اقدام سے معیشت کساد بازاری کے دور میں بھی داخل ہو سکتی ہے۔ ’ایک ہی دن میں عالمی معیشت کو یکسر تبدیل نہیں کر سکتے‘اب ٹرمپ کو لے کر ریپبلکنز میں بھی عدم اطمینان کے اشارے مل رہے ہیں۔ بدھ کے روز امریکی سینیٹ میں کینیڈا پر عائد نئے محصولات ختم کرنے کے لیے ایک بل پاس ہوا، جس کی حمایت چار ریپبلکنز نے بھی کی۔
اس کے علاوہ محصولات کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان رہا۔
اس بارے میں کانگریس کے ایک سابق رپبلکن معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا، ''ایسا لگتا ہے کہ آزادی کا دن امریکی صارفین اور کمپنیوں کو انہیں کے پیسوں سے آزادی دلانے کے بارے میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''آپ ایک ہی دن میں عالمی معیشت کو یکسر تبدیل نہیں کر سکتے۔‘‘
م ا/ ا ا (روئٹرز)
.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نئے محصولات محصولات سے سکتے ہیں کا کہنا کر سکتے سکتا ہے ہے کہ ا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی
معروف کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ جیسے نائیکی کی قدر میں 11 فیصد، گیپ میں 18 فیصد اور ایمیزون میں سات فیصد گراوٹ آئی ہے۔ ایپل، جس کی مصنوعات چین میں بنتی ہیں، کی قدر میں نو فیصد کمی آئی۔ امریکہ میں شمسی توانائی سے متعلق کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ملک کی اپنی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ابتدائی گھنٹوں کے دوران سٹاک مارکیٹ انڈیکس ڈو جونز میں 2.8 فیصد، ایس اینڈ پی میں 3.3 فیصد اور نیزڈیک (جہاں اکثر ٹیکنالوجی کمپنیاں لسٹڈ ہیں) میں 4.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معروف کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ جیسے نائیکی کی قدر میں 11 فیصد، گیپ میں 18 فیصد اور ایمیزون میں سات فیصد گراوٹ آئی ہے۔ ایپل، جس کی مصنوعات چین میں بنتی ہیں، کی قدر میں نو فیصد کمی آئی۔ امریکہ میں شمسی توانائی سے متعلق کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔