مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کے لیے اب رفتہ رفتہ آسانیاں پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حکومت کے اقدامات اور ابتدا میں کیے گئے سخت فیصلے اب اپنا ثمر دے رہے ہیں۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں ماہ میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہوچکی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوکر 4فیصد رہ گئی، احسن اقبال

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مارچ 2025 میں مہنگائی کی شرح 0.

7 فیصد رہی جو گزشتہ ماہ 1.5 فیصد تھی۔

یہ شرح ایک سال پہلے یعنی مارچ 2024 میں 20.7 فیصد تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

شہروں اور دیہاتوں میں صورتحال کیا ہے؟

شہری علاقوں میں مہنگائی 1.2 فیصد تک محدود رہی۔ یہ فروری میں 1.8 فیصد تھی جب کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح جوں کی توں یعنی رہی لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہنگائی میں یہ کمی عوام کے لیے نسبتاً خوش آئند ہے۔

اسٹیٹ بینک کے فیصلے

پالیسی سازوں کے لیے مہنگائی میں یہ مسلسل کمی خوش آئند امر ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو  معیشت کی بحالی اور قیمتوں میں استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

مزید پڑھیے: مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکامی پر وزیر خزانہ عہدے سے برطرف

پچھلے ماہ ہونے والے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی نہ کرنےکا فیصلہ کیا اور اسے 12 فیصد پر برقرار رکھا تاکہ معیشت کو استحکام دیا جاسکے۔

اشیائے خور و نوش کی قیمتیں

کنزیومر پرائس انڈیکس میں خوراک کا حصہ سب سے زیادہ (34.6فیصد) ہے جو اب بھی تشویش کا باعث ہے۔

مارچ 2024 میں فوڈ انڈیکس 278.3 ریکارڈ کیا گیا جو سالانہ بنیادوں پر 5.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومت کے اعداد و شمار غلط ہیں، عمر ایوب

ماہانہ بنیادوں پر  چند اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جن میں ٹماٹر 36 فیصد، تازہ پھل 19 فیصد اور انڈے 15 فیصد مہنگے ہوئے۔

اسی طرح کچھ اشیا سستی بھی ہوئیں جیسے کہ پیاز کی قیمت میں 15فیصد کمی دیکھنے میں آئی جب کہ چائے 8 فیصد اور آلو 7 فیصد سستے ہوئے۔

جہاں تک رہائش کے اخراجات کا تعلق ہے ان میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات 1.2 فیصد کم ہوئے جب کہ لباس، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات میں 11 سے 14 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں مہنگائی کی شرح کم ہے، مریم نواز کا دعویٰ

مہنگائی میں کمی سے عام آدمی کے لیے زندگی کچھ آسان ہوسکتی ہے مگر خوراک، رہائش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت مہنگائی کو مزید کم کرنے کے لیے مزید کچھ اقدامات کرلے تو اس کا عوام الناس کی زندگیوں پر مثبت اثر مرتب ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حکومتی اقدامات اور مہنگائی منیں کمی مارچ میں مہنگائی کی صورتحال مہنگائی مہنگائی کی شرح مہنگائی کی شرح میں کمی مہنگائی میں کمی

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حکومتی اقدامات اور مہنگائی منیں کمی مارچ میں مہنگائی کی صورتحال مہنگائی مہنگائی کی شرح مہنگائی کی شرح میں کمی مہنگائی میں کمی میں مہنگائی کی مہنگائی کی شرح مہنگائی میں کے لیے

پڑھیں:

وقتاً فوقتاً روزہ رکھتے رہنا وزن میں کمی کی بہترین حکمت عملی

ایک نئے کلینیکل ٹرائل سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دوسرے دن روزہ رکھنے سے کیلوریز کم کرنے کے مقابلے میں زیادہ جلدی وزن کم ہوتا ہے۔

محققین نے اینالز آف انٹرنل میڈیسن میں رپورٹ کیا جن لوگوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھا وہ ایک سال کے اندر اپنے جسمانی وزن کا 8 فیصد کم ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں ان لوگوں میں 5 فیصد کمی ہوئی جنہوں نے اپنی روزانہ کیلوریز میں تقریباً ایک تہائی کمی کی۔

وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والے لوگ ہفتے میں تین دن اپنی کیلوریز کی مقدار کو 80 فیصد تک محدود کرتے ہیں جو کہ وزم کم کرنے کی کوشش کے اچھے نتائج لاتا ہے

۔یونیورسٹی آف ٹینیسی ناکس وِل میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈینیئل اوسٹینڈوف کی قیادت میں تحقیقی ٹیم نے رپورٹ کیا کہ روزانہ کیلوری کی طویل مدتی پابندی بہت سے لوگوں کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ روزہ ایک متبادل وزن میں کمی کی بہترین حکمت عملی ہے جو 12 مہینوں میں کیلوری کی پابندی کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائج لاسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وقتاً فوقتاً روزہ رکھتے رہنا وزن میں کمی کی بہترین حکمت عملی
  • مہنگائی میں کمی 6 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی، وزیراعظم کا اظہار اطمینان
  • مارچ میں ملکی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ
  • مہنگائی کی ماہ وار رپورٹ کے اعداد و شمار سامنے آگئے
  • ملک میں مہنگائی کی شرح 6 دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں مہنگائی میں کمی، عوام کے لیے خوشخبری،مارچ میں مہنگائی نچلی ترین سطح پر
  • حکومت کا مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آ جانے کا دعوٰی
  • وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مہنگائی کی شرح میں مزید کمی پر اطمینان کااظہار
  • مارچ میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح مزید کم ہوکر 0.96 فیصد پر آگئی