پاکستان میں حقیقی تبدیلی ذاتی مفادات کی قربانی کے بغیر ممکن نہیں، ایاز میمن موتی والا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین آل کراچی تاجر الائنس نے کہا کہ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد آگے آئیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں تو پاکستان میں غربت اور بے بسی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، حقیقی فلاحی ریاست وہی ہوتی ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ آل کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین اور عام آدمی پارٹی کے بانی، ایاز میمن موتی والا نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کرکے ایک نئی مثال قائم کر دی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہوگی جب ذاتی مفادات کو ملکی مفادات کے لیے قربان کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز میمن موتی والا نے کہا کہ آج کے دور میں معاشرہ دو واضح طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے، ایک طرف انتہائی امیر طبقہ یعنی اشرافیہ ہے، جو عیش و عشرت میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف غریب عوام ہیں، جو بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اشرافیہ طبقہ غریب عوام کی حالتِ زار کے متعلق سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال رمضان اور عید کے موقع پر عام عوام کے ساتھ ساتھ غیرت مند اور سفید پوش افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عید کی خوشیوں میں شامل کیا گیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ کوئی ضرورت مند شخص محروم نہ رہے۔
ایاز میمن موتی والا کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو تلاش کیا گیا جو اپنی سفید پوشی کے باعث کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فٹ پاتھ پر سونے والے افراد میں نئے کپڑے تقسیم کیے گئے اور انہیں ہزاروں روپے نقد دے کر ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیری گئیں، اس کے علاوہ، پھیری لگانے والے چھوٹے کاروباری افراد سے سامان خرید کر ان کی مالی مدد کی گئی جبکہ کچرا چننے والے محنت کشوں سے کچرا تک لاکھوں میں خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایاز میمن موتی والا نے زور دیا کہ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد بھی اسی جذبے کے تحت آگے آئیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، تو پاکستان میں غربت اور بے بسی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی فلاحی ریاست وہی ہوتی ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان میں کہا کہ
پڑھیں:
بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپین پولیس کے تفتیش کاروں نے ایک بہت بڑے آن لائن پیڈوفائل نیٹ ورک کڈ فلکس کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اس پلیٹ فارم کو آف لائن کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کے ہاتھوں چائلڈ پورنوگرافی، جنسی ہراسگی اور فراڈ کے ملزمان گرفتار
یورو پول نے بتایا ہے کہ 31 ممالک کے تفتیش کاروں نے مل کر دنیا بھر میں تقریباﹰ 18 لاکھ صارفین والے ایک بہت بڑے آن لائن پیڈو فائل نیٹ ورک کو بند کر دیا ہے۔ یوروپول نے مزید بتایا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث 79 افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
اس کارروائی کی قیادت جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا کے فوجداری پولیس آفس نے کی۔ کم سن بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی Kidflix نامی اس آن لائن پلیٹ فارم کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔ یوں ڈارک نیٹ پر 18 لاکھ صارفین پر مشتمل چائلڈ پورنوگرافی کا یہ پلیٹ فارم اب مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائییوروپول کے مطابق Kidflix دنیا بھر میں پائے جانے والے آن لائن پیڈو فائل کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک تھا۔ اس کے خلاف کیا جانے والا کریک ڈاؤن یورپ ایکٹ کے تحت بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا بھر میں چلائے جانے والے اس پلیٹ فارم کے سرورز پر ہزاروں ویڈیوز موجود تھیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار
اس جرم میں ملوث دنیا بھر سے تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے 79 افراد پر نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز دیکھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کا الزام ہے بلکہ ان میں سے کچھ کے بارے میں بچوں کے ساتھ فعال بدسلوکی اور ان کے جنسی استحصال کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیقات کا آغازڈارک نیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کے اس پلیٹ فارم کے خلاف تحقیقات کا آغاز سنہ 2022 میں ہوا تھا۔ دریں اثنا رواں برس 10 سے 23 مارچ تک تفتیش کاروں تک رسائی حاصل کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں الیکٹرانک ڈیوائسز اور مجموعی طور پر 91 ہزار سے زائد ویڈیوز ضبط کر لی گئی ہیں۔
یوروپول کے مطابق سائبر کرمنلز کی طرف سے قائم کردہ اس پلیٹ فارم (کڈفلکس) کے خلاف پہلی مرتبہ سنہ 2021 میں کارروائی کی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ مبینہ طور پر یہ پیڈو فائلز کے لیے مقبول ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک بن گیا تھا۔ Kidflix کے ذریعے صارفین فیس کی ادائیگی کر کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے جنسی استحصال کے بارے میں ویڈیوز کی ڈاؤن لوڈ اور لائیو اسٹریم بھی کر سکتے تھے۔
کئی برسوں کا تعاقبجرمن صوبے باویریا کے تفتیش کاروں نے کئی سال سے اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ آخر کار میونخ میں باویرین اسٹیٹ کریمنل پولیس آفس اور بامبرگ پبلک پراسیکیوٹر آفس نے بدھ کو اعلان کیا کہ ڈارک نیٹ پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز کا ایک بہت بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم ختم کر دیا گیا ہے۔
یوروپول کا مرکزی کرداررپورٹ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں 31 ریاستوں میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں اور تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔
یوروپول نے اس آپریشن کے رابطہ کار کی ذمہ داری سنبھالی۔ جرمنی میں 103 مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے صارفین کے لیے 91 ہزار سے زیادہ آن لائن ویڈیوز دستیاب تھیں اور فی گھنٹہ اوسطاً ساڑھے 3 نئی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ پورن ڈارک ویب فحش آن لائن پلیٹ فارم فحش ویب سائٹ بند کڈفلکس یوروپول