نیتن یاہو کا دورہ ہنگری بین الاقوامی قانون کے لیے ’برا دن‘ ہے، جرمنی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جمعرات کی صبح یورپی ملک ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ پہنچے، جہاں ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ بوڈاپیسٹ کے کیسل ڈسٹرکٹ میں فوجی بینڈ کی دھنوں اور گھوڑوں پر سوار فوجیوں کے جلوس کے درمیان ان کا استقبال کیا گیا۔
یہ نیتن یاہو کا نومبر میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی طرف سے وارنٹ جاری ہونے کے بعد دوسرا غیر ملکی دورہ ہے اور وہ اتوار تک ہنگری میں قیام کریں گے۔ دونوں رہنما جمعرات (آج) کو ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہنگری کی 'آئی سی سی‘ سے دستبرداریہنگری نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ آئی سی سی سے دستبردار ہو رہا ہے۔
(جاری ہے)
اوربان کے چیف آف اسٹاف گیرگلی گولیاس نے کہا، ''حکومت جمعرات سے آئینی اور بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے مطابق آئی سی سی سے نکلنے کا عمل شروع کرے گی۔
‘‘چند ماہ قبل آئی سی سی نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ نے غزہ میں ''بھوک کو جنگی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا اور شہریوں کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیلی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
آئی سی سی اور ہنگری کا تنازعآئی سی سی نے ہنگری کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ترجمان فادی العبداللہ نے کہا، ''ہنگری پر عدالت کے ساتھ تعاون کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘‘ ہنگری نے، جو سن 2001 سے آئی سی سی کا رکن تھا، پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل نہیں کرے گا۔
اوربان نے نومبر میں آئی سی سی پر ''غزہ میں جاری تنازع میں سیاسی مداخلت‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے حمایت اور جرمنی کی تنقیداسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے ہنگری کے فیصلے کی تعریف کی اور ایکس پر لکھا، ''ہنگری اور وکٹور اوربان کا شکریہ کہ انہوں نے اسرائیل اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ مضبوط اخلاقی موقف اپنایا۔
‘‘ انہوں نے آئی سی سی پر ''اسرائیل کے دفاع کے حق کو نقصان پہنچانے‘‘ کا الزام لگایا اور اسے ''اخلاقی ساکھ سے محروم‘‘ قرار دیا۔دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم کے ہنگری کے دورے پر سخت تنقید کی اور اسے بین الاقوامی فوجداری قانون کے لیے ایک ''برا دن‘‘ قرار دیا۔
یہ بیان انہوں نے برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران دیا، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے گرفتاری وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو کے ہنگری میں استقبال پر تنقید کی۔ غزہ میں ایک مرتبہ پھر لاکھوں فلسطینوں کی نقل مکانیدوسری جانب غزہ کے شہر رفح میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی نے ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے۔
جمعرات کو لاکھوں فلسطینی پناہ کی تلاش میں سرگرداں رہے، جبکہ اسرائیل نے رفح کو ایک نئے اعلان کردہ ''سکیورٹی زون‘‘ کے طور پر قبضے میں لینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں کم از کم 97 افراد ہلاک ہوئے، جن میں غزہ سٹی کے شجاعیہ مضافات میں صبح کے وقت ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے 20 افراد بھی شامل ہیں۔
بدھ کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کے گنجان علاقوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کرے گا۔ اس کے اگلے ہی دن فوج نے رفح میں داخل ہو کر پیش قدمی شروع کی، جو جنگ کے دوران دیگر علاقوں سے بھاگنے والوں کے لیے آخری پناہ گاہ تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سات بچوں کے باپ نے، جو رفح سے فرار ہو کر خان یونس پہنچا ہے، خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک چیٹ ایپ کے ذریعے بتایا، ''رفح ختم ہو گیا ہے، اسے مکمل طور پر مٹایا جا رہا ہے۔
جو گھر اور املاک باقی تھیں، انہیں بھی گرایا جا رہا ہے۔‘‘حماس کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ میں 18 مارچ سے بڑے پیمانے پر حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے 1,163 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سات اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 50,523 تک پہنچ چکی ہے۔
رفح کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ زیادہ تر آبادی نے اسرائیل کے انخلا کے حکم کی تعمیل کی ہے لیکن خان یونس اور رفح کے درمیان مرکزی سڑک پر تازہ حملے نے نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔
ا ا / م ا، ر ب (اے ایف پی، روئٹرز، اے پی)
.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسرائیلی وزیر بین الاقوامی نیتن یاہو انہوں نے ہنگری کے کے لیے تھا کہ
پڑھیں:
مقبولیت کا زعم احتسابی شکنجے میں
گزشتہ دنوں فرانس سے ایک اہم خبر آئی ہے۔ اس خبر کا تعلق قانون کی بالادستی اور با اثر سیاسی طبقات کے احتساب سے ہے۔ فرانس میں دائیں بازو کی مشہور لیڈر میری لی پین کو نہ صرف کہ مالی بد دیانتی کے الزامات ثابت ہونے پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے بلکہ چار سال قید کی سزا بھی سنا دی گئی ہے۔ اس چار سال کی مدت میں میرین لی پین کسی قسم کی سیاسی سرگرمی اور انتخابات میں بھی حصہ نہیں لے سکے گی۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں بھی اس خبر پر متفرق آرا ء پائی جاتی ہیں۔میرین لی پین سے پہلے یورپ میں مقبول لیڈرز خاص طور پر دائیں بازو کی جماعتوں کی قیادت کو احتساب کے دائرے میں لانے کا رواج بہت کم تھا۔ فرانس میں میرین لی پین کو سزا ملنا اس کا ثبوت ہے کہ دنیا اب بدل رہی ہے، اور انصاف کے شکنجے میں مقبول لیڈر بھی کسے جا رہے ہیں۔ وہ زمانہ اب رخصت ہوا جب لیڈر اپنے اندھے پیروکاروں کے ذریعے ریاستوں کو بلیک میل کرتے تھے۔
ایک زمانہ تھا جب یورپ اور امریکہ میں دائیں بازو کے انتہا پسند اور پاپولسٹ لیڈرز قانون سے بالا تر سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بیانیے، عوامی مقبولیت اور میڈیا پر دسترس کے باعث انہیں سزا دینا تو درکنار مقدمہ درج کرانا بھی مشکل ہوتا تھا۔ کم و بیش ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی بن چکی تھی۔ سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے پیروکار اپنے بانی چیئرمین عمران خان کو قانون اور احتساب سے ماورا سمجھنے لگے تھے۔ رفتہ رفتہ پاکستان میں یہ غیر قانونی رجحان ختم ہونے لگا ۔
عمران خان جیسے مقبول لیڈر کو 190 ملین پائونڈ کرپشن اسکینڈل میں سزا دے کر ایک نئی مثال قائم کی گئی ۔ اس وقت مغربی میڈیا نے اس سزا کو ’سیاسی انتقام‘‘ قرار دینے کی کوشش کی، لیکن آج وہی مغربی معاشرہ فرانس کی میرین لی پین کو فنڈز کی خرد برد پر چار سال قید، جرمانہ اور الیکشن پر پابندی عائد کر کے پاکستان کے نقش قدم پر چلتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی سطح پر تبدیل ہوتے احتسابی نظام کے آثار ہیں۔ فعال ریاستیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ اگر قانون کا نفاذ سب پر یکساں نہ کیا جائے تو جمہوریت محض ایک تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔
پاپولزم کی سیاست میں عوامی جذبات مشتعل کر کے اپنے قائد کے عیوب اور جرائم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔قانون کی بالا دستی کو آتشی بیانیے سے چیلنج کیا جاتا ہے۔
عوامی جذبات کو احتسابی عمل کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے۔ریاستی اداروں کو کمزور کر کے بدعنوانی مسلط کی جاتی ہے۔ پاکستان نے عمران خان کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پاپولسٹ لیڈر ہو یا عام شہری ، دونوں سے اگر جرم سرزد ہوگا تو انہیں یکساں انداز میں سزا دی جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد عوامی سطح پر مقبولیت کے عروج کو جا پہنچے تھے ۔ ان کا کہا ہوا ہر لفظ ان کے سیاسی پیروکاروں کے لیے مقدس حکم کاسا درجہ رکھتا ہے۔ ان کے اندھے مقلد یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کے قائد سے کوئی جرم یا بشری غلطی سر زد ہو سکتی ہے۔
یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ سابق حکمراں جماعت کے بانی چیئرمین اپنی اعلیٰ کارکردگی یا بہترین حکمت عملی کی وجہ سے عوامی سطح پہ مقبول نہیں ہوئے بلکہ اشتعال انگیز بیانیے اور سیاسی مخالفین کے خلاف الزام تراشی کی بنیاد پر عوام کے جذبات سے کھیلتے رہے ہیں۔ ان کے پیروکار اپنے قائد کے مزاج کے خلاف کسی قانون اور عدالتی حکم کو تسلیم کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ احتساب اور انصاف کے نام پر سیاست میں مقبولیت حاصل کرنے والے سابق وزیراعظم نے اپنے عہد اقتدار میں مقبول زبانی دعوئوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ احتساب، انصاف اور شفافیت کے حوالے سے ان کا عہد اقتدار کسی لحاظ سے بھی مثالی نہیں تھا۔ آج مختلف مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے پیروکار آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر قیمت پر اپنے قائد کو قید سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یورپ میں میرین لی پین کو ملنے والی سزا نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ مہذب معاشروں میں مقبولیت اور اعلیٰ عہدے کو بنیاد بنا کر قانون سے استثنا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
سابق حکمران جماعت کی قیادت اور ان کے کارکنوں کو اس پہلو پر غور ضرور کرنا چاہیے کہ ان کے قائد پر عائد کیے گئے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے صرف قانونی راستہ ہی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ قانون اور عدالت سے ماورا کوئی بھی اقدام آئین سے انحراف اور جمہوری اصولوں سے متصادم ہوگا۔ پاکستان نے سابق وزیر اعظم کے احتساب کے ذریعے نئی مثال قائم کر کے مغربی معاشرے کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ کوئی شہری آئین و قانون سے ماورا ء نہیں ہوتا۔