لاہور میں 3 ماہ کے دوران 27 خواتین قتل، 151 سے زیادتی کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
فوٹو:فائل
لاہور میں رواں سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ جرائم نمایاں رہے، جنوری سے 31 مارچ تک 27 خواتین کو قتل کیا گیا۔
3 ماہ میں151 خواتین سے زیادتی اور 1182 خواتین کو اغوا کرنے کے مقدمات درج ہوئے، اب بھی 194 خواتین بازیاب نہیں کی جاسکی ہیں، 3 ماہ میں 138 بچوں کو اغوا کیا گیا جن میں سے 14 بچے ابھی تک نہیں مل سکے۔
گرفتار شوہر نے اعترافِ جرم میں بتایا کہ اُس نے اپنی 45 سال کی حاملہ بیوی کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔
پولیس ڈیٹا کے مطابق 3 ماہ میں خواتین کے اغوا کے 11 سو 82 مقدمات درج ہوئے، مغوی خواتین میں صرف 988 خواتین بازیاب ہوئیں، جبکہ 194 نہ مل سکیں، جرائم پیشہ افراد نے 138 بچوں کو اغوا کیا جن میں 14 بچے نہ مل سکے۔
3 ماہ میں 151 خواتین کے زیادتی کے مقدمات درج ہوئے جن میں سے 110 ملزمان گرفتار 41 گرفتار نہ ہو سکے، بچوں سے زیادتی کے 47 مقدمات درج ہوئے جن میں 44 ملزمان گرفتار 3 گرفتار نہ ہو سکے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا ہے بچوں اور خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں زیرو ٹالرنس ہے زیادہ تر کیسز حل کر لیے ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مقدمات درج ہوئے ماہ میں
پڑھیں:
کراچی: جعلی پولیس بن کر آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ڈکیتی، اغوا میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
کراچی میں 2 افراد کو جعلی پولیس اہلکار بننے اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ڈکیتیوں اور اغوا کی وارداتوں کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ضلع شرقی پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق مشتبہ افراد نجی ڈیجیٹل سائٹ سے ڈیٹا چوری کرتے تھے اور ڈیلیوری حاصل کرنے کے لیے صارفین سے رابطہ کرتے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گاہکوں سے رابطہ کرنے کے بعد، مشتبہ افراد جعلی پولیس یونیفارم پہن کر صارفین کی دہلیز پر پہنچ کر گھروں میں ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں کرتے۔‘گلشن اقبال اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نعیم راجپوت نے جرائم کے کئی مقامات سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے 2 ملزمان کو شناخت کرنے کے بعد گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے 30 بور کے دو غیر قانونی پستول بمعہ ایمونیشن، موبائل فون، مسروقہ گھڑیاں سمیت دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کے زیر استعمال گاڑی، جس پر جعلی نمبر پلیٹ BKY-361 موجود تھی، کو پولیس نے قبضے میں لے لیا اور کار کے ریکارڈ کی بنیاد پر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔تفتیش کے بعد گرفتار ملزمان نے گھر پر ڈکیتی کے دوران لوٹی گئی اشیا کی نشاندہی کی۔ ان میں پولیس کی تین وردیاں، آٹھ چوری شدہ موبائل فون، درجنوں موبائل فون کور، درجنوں یونیفارم بیجز، مختلف موبائل سمز اور 20 بیگز شامل ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اشیا ڈکیتی کی درج ذیل وارداتوں کے دوران چوری کی گئیں۔
6 مارچ کو گلشن اقبال بلاک 1 میں ایک گھر میں گھس کر چار موبائل فون، ایک ایل ای ڈی ٹی وی، طلائی زیورات، گھڑیاں اور نقدی لوٹی گئیں۔ اس کے بعد وہ متاثرہ کو اغوا کر کے کراچی کے مختلف مقامات پر اے ٹی ایم میں رقم نکالنے کے لیے لے گئے. جس کے بعد وہ فرار ہوگئے۔ واقعے سے متعلق مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج کیا گیا۔
8 فروری کو گلشن اقبال بلاک 13D میں ایک اور واقعے میں ملزمان پولیس کی مذکورہ وردی میں اپنا تعارف کرانے کے بعد ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور متاثرہ کا موبائل فون، اے ٹی ایم کارڈ اور کار کے کاغذات لے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور کراچی کے مختلف اے ٹی ایمز اور ایزی پیسہ کی دکانوں پر لے گئے اور اسے زبردستی رقم نکالنے پر مجبور کیا۔اس کے بعد وہ گاڑی لے کر فرار ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ گلشن اقبال میں درج کیا گیا ہے۔دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کراچی کے اندر اور باہر متعدد وارداتیں کر چکے ہیں جن کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید مقدمات کو گرفتاری اور تفتیش کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔