بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے دوران وزیراعظم سے غلطی سے مسٹیک ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے غلطی سے مسٹیک ہوگئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا، تقریب میں تقریب کے دوران وزیراعظم پہلے فی یونٹ 7 روپے 41 پیسے کمی کو اضافہ کہہ گئے، پھر فی یونٹ بجلی کی نئی قیمت 34 روپے 37 پیسے بتائی۔
بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 45.05 روپے سے کم کرکے 37.64 روپے کردی گئی
جنرل سروسز کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7.18 روپے کمی کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کمی کے بعد گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا فی یونٹ ریٹ 37 روپے 64 پیسے ہوگا۔
بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت میں7.41 روپے کمی کی گئی ہے، جس کے بعد فی یونٹ اوسط قیمت 45.05 روپے سے کم کرکے 37.64 روپے کردی گئی۔
دستاویز کے مطابق گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7.15 روپے، کمرشل صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 8.58 روپے کمی کی گئی۔
کمرشل صارفین کیلئے فی یونٹ بجلی 71.06روپے سے کم کرکے 62.47 روپے کر دی گئی۔
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بجلی کی فی یونٹ
پڑھیں:
بجلی: گھریلو صارفین 7.41، صنعتوں کیلئے 7.69 روپے یونٹ سستی
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کے لئے 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی۔ آئندہ 5 سالوں میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ سالہا سال سے بند پڑے زنگ آلود "جنکوز " کو بیچا جائے گا، ڈسکوز کو پرائیویٹائز یا پروفیشنلائز کیا جائے گا، سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، نجکاری و رائٹ سائزنگ کے بغیر پاکستان ترقی نہیں سکتا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ اب منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کاوقت آگیا ہے، یہ معاشی ترقی و استحکام کے نتیجے میں خوشخبری سنانے کا موقع ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ مہنگی بجلی سے عوام متاثر ہوئے، ملک کی خاطر عام آدمی کی قربانیوں کا مکمل احساس رکھتے ہیں، مہنگی بجلی کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ تمام شعبوں کی ترقی میں مہنگی بجلی ایک رکاوٹ ہے۔ ٹاسک فورس کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے بجلی کے شعبے میں فائدہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ء سے لے کر آج تک اس میں 3.5 روپے کی کمی ہوئی، آج گھریلو صارفین کے لئے مزید 7.41 روپے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں۔ جون 2024ء میں صنعتوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58.50 روپے تھی جس میں مشترکہ کاوشوں سے 10.30 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جو 48.19 روپے فی یونٹ تک پہنچی۔ آج اس میں مزید 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2393 ارب روپے (2کھرب 393ارب روپے) ہے، اس گردشی قرضے کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرلیا گیا ہے، آئندہ پانچ سالوں میں گردشی قرضہ بتدریج ختم ہو جائے گا لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہم خود کو تبدیل کریں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر اس گردشی قرضے سے جان نہیں چھوٹے گی۔ جنکوز وہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا۔ جنکوز کی پہلی لاٹ کو شفاف طریقے سے فروخت کیا گیا ہے جس سے 9 ارب روپے وصول ہوں گے ۔ بند پڑے زنگ آلود جینکوز پر سالانہ 7ارب روپے خرچ ہو رہے تھے۔ یہ 77 سال کا بوجھ ہے جس کے نیچے قوم دبی ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد اب ہمیں اصلاحات اور سٹرکچرل تبدیلیاں کرنی ہیں۔ سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری کاخاتمہ کرنا ہے۔ بجلی کو مزید سستا کرنا ہے۔ ڈسکوز میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ ڈسکوز کو فوری طورپر پرائیویٹائز یا پروفیشنلائز کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کیلئے آئی پی پیز کے ساتھ بھی مذاکرات کئے۔ انہیں باور کرایا کہ انہوں نے بہت پیسہ کما لیا اب قوم کو فائدہ دیں۔ آئی پی پیزکو قائل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ جو 3 ہزار 696 ارب روپے قوم کو ادا کرنے تھے اب وہ ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔ وزیراعظم نے معیشت کی بہتری کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کے لئے پر عزم ہیں۔ عید سے پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ ہم نے عوام کو منتقل نہیں کیا بلکہ اسے بجلی کی قیمت میں کمی کے لئے استعمال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ماضی پر نظر ڈالنا بھی اہم ہے، حکومت سنبھالی تو کمزور معیشت اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ منڈلا رہا تھا، پاکستان کو ڈیفالٹ تک پہنچانے والے خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے، انتشاری ٹولے کا پختہ یقین تھا کہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہماری محنت رنگ لائی اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ اس ٹولے نے ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے تمام حدیں پار کیں، معیشت کے استحکام کیلئے کاوشوں کی راہ میں ان عناصر نے بھاری رکاوٹیں کھڑی کیں، ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے اس ٹولے نے ریاست کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی کوششیں کی گئیں لیکن ہم نے پرخطر راستے پر چیلنجز کا محنت سے مقابلہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ الحمدللہ! معیشت میں بنیادی استحکام آچکا ہے، اقتصادی استحکام کیلئے آرمی چیف کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ملک کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے والے مسائل کو حل کرنا ہے۔ مسائل کے حل کیلئے سرجری کرنی ہے، مشکل فیصلوں اورسخت محنت سے اپنی منزل حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔ نئی صبح کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے۔ عام آدمی کی قربانی کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہو گی جس کے ایثار، تحمل اور برداشت کی بدولت یہ ممکن ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کی رہنمائی قدم قدم پر ہمیں میسر رہی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 38 روے فی لٹر کمی ہوئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے کم ہیں۔ ٹیکس محاصل میں 35فیصد اضافے کا ہدف ہے، پائیدار ترقی کیلئے اپنے محاصل میں اضافہ ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں ترقی کی بہت استعداد موجود ہے۔چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف سے فون پر رابطہ کیا ہے۔ ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم پاکستان کے بجلی سستی کرنے کے مطالبے پر عملدرآمد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم، وفاقی وزیر توانائی کی کوششوں کو قابل ستائش قرار دیا۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ مئی کے مہینے کا بل قیمت میں کمی کے ساتھ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل صارفین کا جون میں 71 روپے ریٹ تھا، اب 62 روپے 47 پیسے ہوگا۔ کمرشل صارفین کے ریٹ میں 12 فیصد کمی آئی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری ہو رہی ہے۔ دو کروڑ صارفین کے بلوں میں تقریباً بجلی کی قیمتوں میں 48 سے 56 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ متوسط طبقے کے لئے بہت بڑی کمی ہے۔ بجلی کے تقسیم کار سسٹم میں مزید بہتری اور قیمتوں میں کمی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاور ڈویژن بجلی کی قیمت میں مزید کمی اور استحکام پر کام کر رہا ہے۔ گھریلو صارفین کیلئے 7.41 روپے، صنعتوں کیلئے 7.69 روپے فی یونٹ بجلی سستی کی گئی ہے۔ عنقریب ہمارے اقدامات کی وجہ سے صنعتوں کا پہیہ پوری قوت سے چلنا شروع ہو جائے گا۔وفاقی وزیر نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ آئی پی پیز معاہدوں میں 3300 ارب سے زائد کی بچت کی ہے۔ سالانہ بنیادوں پر 600 سے 700 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ دو سو یونٹ والے ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین کے بجلی کے بل آدھے سے زیادہ کم ہو جائے گا۔ نواز شریف کی پہلے دن سے ہدایت تھی کہ عوام کو ریلیف ملنا چاہئے۔ صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر 5 سے 6 سال میں گردشی قرضہ زیرو پر لے آئیں گے۔ اس وقت 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری حتمی مراحل میں ہے\ کوشش کریں گے کہ سولر نیٹ میٹر کی ایسی قیمت لائیں کہ صارفین پر بوجھ نہ پڑے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد نیا ٹیرف کیا ہوگا؟ بجلی کے نئے نرخ کیا ہوں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔ رپورٹ کے مطابق لائف لائن صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 4 روپے 78 پیسے مقرر کردیا گیا، سو یونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی نرخ 9 روپے 37 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 8 روپے 52 پیسے مقرر کیے گئے، دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 11 روپے 51 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 3پیسے فی یونٹ، تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ ٹی او یو صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 48 روپے 46 پیسے فی یونٹ مقرر ہوئے ہیں۔ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 31 روپے 63 پیسے فی یونٹ، کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 62 روپے 47 پیسے اور جنرل سروسز کے لیے بجلی کے نرخ 49 روپے 48پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔اسی طرح صنعتوں کے لیے بجلی کے یونٹ 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ، زرعی صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 58 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور پبلک لائٹنگ کے لیے بجلی کا ٹیرف 32 روپے 69 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا۔ بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 37 روپے64 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔ مختلف صنعتی صارفین کی کیٹگریز کیا ہوں گی؟ تفصیلات سامنے آگیئں۔ بی ون صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی نرخ 40 روپے 3پیسے فی یونٹ مقرر کردیے گئے، بی ون صنعتی صارفین آن پیک کیٹگریز کے لیے بجلی کے نرخ 44 روپے 59 پیسے فی یونٹ، بی ون آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 37 روپے 47 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔اس کے علاوہ بی ٹو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ42 روپے 37 پیسے فی یونٹ، بی ٹو آن پیک صارفین کے لیے 44 روپے 51 پیسے فی یونٹ اور بی ٹو آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 41 روپے 5 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔ اعلان کے بعد بی تھری صارفین کے لیے بجلی کے نرخ44 روپے 51پیسے فی یونٹ، بی فور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 44 روپے51 پیسے فی یونٹ اور صنعتوں کے لیے عارضی بجلی سپلائی کے لیے نئے نرخ 51روپے 92 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔