UrduPoint:
2025-04-04@09:28:14 GMT

2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2025ء) 2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار، "ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں نگل گئی، بازاروں میں عید کا 70 فیصد سامان فروخت ہی نہ ہو سکا"۔ تفصیلات کے مطابق رواں برس عید الفطر کا سیزن تاجروں کے لیے مایوس کن رہا جب کہ خریداری کی شرح میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ برسوں کی طرح تاجروں کا 2025ء عید سیل سیزن بھی انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔

ہوشربا مہنگائی، کساد بازاری اور قوتِ خرید میں حوصلہ شکن کمی نے تاجروں کے کاروبار اور غریب و متوسط طبقے کی عید کی خوشیاں منانے کے خواب بکھیر دیے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بھی تاجر خریداروں کی راہ تکتے رہے اور صرف ایک سال میں عید پر فروخت ہونے والے سامان کی قیمتوں میں 40 تا 50فیصد اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

عید الفطر سے قبل ہونے والی خریداری گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 تا 30 فیصد کم رہی۔

عید پر فروخت کے لیے گوداموں میں جمع کیا گیا 60تا 70فیصد سامان دھرا کا دھرا رہ گیا اور تاجروں کے مطابق رواں سال بمشکل 15ارب روپے کا مال فروخت ہوسکا۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ تباہی سے دوچار کاروبار، محدود آمدنی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں بھی نگل گئی۔

انہوں نے کہا کہ قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی زیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی جب کہ بیشتر خریداروں نے خواہشات کے برعکس صرف ایک سوٹ خریدنے پر ہی اکتفا کیا۔ تاجروں نے عید سیل کے حوالے سے سال 2025کو 2024 سے بھی بدتر اور تباہ کن قرار دیا ہے۔

عید شاپنگ کے حوالے سے مخصوص اور معروف تجارتی علاقوں کلفٹن، ڈیفنس، صدر، طارق روڈ، حیدری، گلشنِ اقبال، ناظم آباد، ملیر، لانڈھی، گلستانِ جوہر، لیاقت آباد، بہادر آباد، جوبلی، جامع کلاتھ، اولڈ سٹی اور دیگر علاقوں کی 200 سے زائد مارکیٹیں عید کی روایتی خریداری کی منتظر رہیں۔ عتیق میر نے کہا کہ ملک میں کسی غیرمتوقع سیاسی و معاشی بحران کے اندیشوں کا شکار تاجر مال منجمد ہوجانے کے خوف سے زیادہ اسٹاک جمع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔

موجودہ صورتحال سے تاجروں کے لیے کاروباری و گھریلو اخراجات پورا کرنا مشکل اور ادھار پر لیے گئے مال کی ادائیگیوں کے لالے پڑگئے ہیں۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسبِ روایت رواں سال بھی ماہِ رمضان میں مصنوعی مہنگائی مافیا اور موقع پرستوں نے مہنگائی کی روک تھام کے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی اور ان کے لیے زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول مشکل ترین بنادیا۔

تاجر رہنما نے شہر میں امن و امان کے ذمے دار اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں پولیس، ڈاکو اور لٹیرے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے۔ جو لٹیروں سے بچ گیا وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ پارکنگ مافیا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور میئر کراچی کے احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے پارکنگ فیس وصول کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی و غیر مقامی گداگروں کی فوجِ ظفر موج شہر میں دندناتی رہی جن کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پر کوئی بھی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تاجروں کے عید سیل کہا کہ کے لیے عید کی

پڑھیں:

میانمار زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی، 500 مسلمان بھی شامل

میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 2719 تک پہنچ گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں جو اس وقت مساجد میں تھے۔

جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,719 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کیجانب سے زلزلے سے متاثرہ میانمار کے لیے امدادی سامان روانہ

فوجی سربراہ جنرل من آنگ لائنگ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد 3000 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں ابھی مواصلات سے کٹے ہوئے قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچ رہی ہیں۔

زلزلے سے 4,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 440 ابھی تک لاپتا ہیں، جن کے بارے میں جنرل نے کہا کہ انہیں بھی شاید مردہ ہی برآمد کیا جائے گا۔

زلزلے کا مرکز میانمار کے شہروں ساگائنگ اور مندالے کے قریب تھا اور اس نے سڑکیں تباہ کر دیں جبکہ بنکاک تک عمارتیں منہدم ہوئیں۔ میانمار میں چھ اپریل تک سرکاری عمارتوں پر لگے قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔

مندالے میں بدترین تباہی

مندالے میانمار کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ تقریباً 17 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پیر کو جنتا نے 2,056 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 3,900 سے زائد افراد زخمی جبکہ 270 لاپتا ہیں۔

سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں جو جمعہ کی نماز کے دوران مساجد میں تھے۔

مزید پڑھیے: وزیر اعظم شہباز شریف کی 28 مارچ کے تباہ کن زلزلے پر میانمار کے وزیر اعظم سے تعزیت

مندالے کے سینکڑوں رہائشی کھلے آسمان تلے سوئے کیوں کہ یا تو ان کے گھر تباہ ہو چکے تھے یا وہ آفٹر شاکس کے خوف سے واپس نہیں گئے۔

ان میں سے کچھ کے پاس خیمے تھے لیکن بہت سے لوگوں، بشمول بچوں اور شیر خواروں کے، نے سڑکوں پر کمبل بچھا کر رات گزاری تاکہ وہ تباہ شدہ عمارتوں سے دور رہ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

میانمار میانمار زلزلہ

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں کمی کے وزیراعظم کے اعلان کے بعد تاجروں کا ردعمل بھی آگیا
  • بھارتی ایئر فورس کا طیارہ مشن کے دوران گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
  • مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے متجاوز
  • بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ’جیگوار‘ گر کر تباہ
  • بھارتی فضائیہ کا جیگوار لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
  • بھارت کی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ گجرات میں گر کر تباہ، پائلٹ لاپتا
  • تاجروں کا عید سیزن مایوس کن رہا؛ خریداری کی شرح میں نمایاں کمی
  • پنجاب پولیس کی عائشہ بٹ ایکسی لینس اِن پرفارمنس ایوارڈ 2025ء کیلئے منتخب
  • میانمار زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی، 500 مسلمان بھی شامل