امریکی وزیر خزانہ کی ٹیرف کی زد میں آنیوالے ممالک کو بڑی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ ٹیرف عائدکیے جانے کے خلاف ممالک انتقامی کارروائی سے گریزکریں۔اسکاٹ بیسینٹ نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف عائدکیے جانے کے خلاف ممالک انتقامی کارروائی سے گریزکریں۔
اسکاٹ بیسینٹ نے مزید کہا کہ میرا ہر ملک کو مشورہ ہےکہ جوابی کارروائی نہ کریں کیونکہ امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی کارروائی سےکشیدگی بڑھے گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی ٹیرف پر کینیڈا نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا اور چین نے امریکا سے نئے ٹیرف منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے پر سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، مزید ٹیرف بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات امریکا میں مہنگی ہو جائیں گی۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
امریکی ٹیرف عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے، آئی ایم ایف سربراہ کی وارننگ
(واشنگٹن) – عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، آئی ایم ایف کی سربراہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے اور کہا کہ یہ اقدامات امریکی معیشت کے لیے بہتر ثابت ہوں گے۔
امریکہ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد، چین پر 34 فیصد، بھارت پر 26 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے نے امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا، جبکہ آسٹریلیا، اٹلی اور آئرلینڈ سمیت کئی ممالک نے اس اقدام کو غیر ضروری اور عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ 1500 پوائنٹس گر گئی، جو کووڈ کے بعد سے سب سے بڑی مندی قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، عالمی مالیاتی منڈیاں اس وقت شدید دباؤ میں ہیں، اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔