زمین کا کوئی کونہ نہ بخشا! ٹرمپ نے غیر آباد جزیرے پر بھی ٹیرف لگا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوابی ٹیرف سے ایک غیر آباد جزیرہ بھی محفوظ نہ رہا جہاں ایک دہائی میں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔
انٹارکٹیکا کے قریب دور دراز غیر آباد آسٹریلوی جزیرے پر محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹارکٹیکا کے قریب ترین جزیرے جہاں صرف گلیشیئرز اور پینگوئن رہتے ہیں کو بھی مین لینڈ آسٹریلیا کے ساتھ ٹرمپ کے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق ہرڈ آئی لینڈ نامی آئی لینڈ دنیا کے سب سے الگ تھلگ جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ جزائر تک پہنچنے کے لیے پرتھ سے کشتی کا دو ہفتے کا مشکل سفر درکار ہوتا ہے تقریباً ایک دہائی میں کسی انسان نے وہاں قدم نہیں رکھا۔
ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے اقدام نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ زمین پر کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ امریکی محصولات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر منطقی اور غیر دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ محصولات دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری سے متصادم ہیں۔ البانی نے یہ بھی کہا ہے کہ آسٹریلیا امریکہ کے خلاف اپنے محصولات کے ساتھ جوابی کارروائی نہیں کرے گا، بجائے اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے آسٹریلیائی ساختہ مصنوعات کی خریداری کو فروغ دے گا۔
ہرڈ آئی لینڈ، آسٹریلیا کا حصہ، ایک دور دراز اور ناہموار مقام ہے۔ سرد موسم کے باعث مغربی آسٹریلیا سے جہاز کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً 10 دن لگتے ہیں۔ یہ جزیرہ پینگوئن، سیلز اور پرندوں کی بہت سی اقسام کا گھر ہے، جن میں سے کچھ کو ان کے تحفظ کی حیثیت کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی قوانین کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت درجنوں ممالک پر کئی سالوں سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو طرفہ محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیرف تمام بیرونی ممالک پر بیس لائن 10% ٹیرف کے ساتھ اثر ڈالیں گے، جبکہ کچھ کو نمایاں طور پر زیادہ شرحوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزیدپڑھیں:شوٹنگ کے دوران لگنے والے تھپڑ نے پاکستانی اداکارہ کی سماعت متاثر کردی
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن، پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک پر ویزا پابندیاں روک دی گئیں
ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیوں کے نفاذ کو روک دیا۔ یہ فیصلہ امریکی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سفری اسکریننگ کی جانچ کے بعد سامنے آیا۔
یہ متنازع ‘سفری پابندی’ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت تجویز کی گئی تھی، جس کا مقصد امریکہ کو دہشت گردی اور سیکیورٹی خدشات سے محفوظ بنانا تھا۔ تاہم، انتظامیہ کی مقرر کردہ 21 مارچ کی ڈیڈ لائن خاموشی سے گزر گئی، اور بعد میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ پابندیوں کے نفاذ کے لیے کوئی نئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ویزا پابندیوں کے نفاذ کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی گئی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انتظامیہ نے پاکستان، روس اور وینزویلا جیسے ممالک کو مختلف زمرہ جات میں تقسیم کیا تھا، اور پاکستان کو ‘اورنج’ فہرست میں رکھا گیا تھا، جس کا مطلب تھا کہ ویزا کے حصول کے لیے شہریوں کو سخت جانچ پڑتال اور انٹرویوز سے گزرنا ہوگا۔امریکی انتظامیہ کو اس پالیسی کے نفاذ میں داخلی اختلافات، قانونی پیچیدگیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
30 سے زائد امریکی قانون سازوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس متنازع سفری پابندی کو مکمل طور پر ترک کر دیں کیونکہ اس سے نہ صرف معیشت اور سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ امریکہ کی قومی سلامتی کو بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
پاکستانی حکام نے اس فیصلے پر احتیاط سے مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی آئندہ امریکی انتخابات یا بین الاقوامی سفارتی صورتحال کی روشنی میں دوبارہ زیر غور آ سکتی ہے۔