بانی پی ٹی آئی کو نہیں، قائل ان کو کیا جائے جن سے بات کرنی ہے، سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
عرفان صدیقی: فوٹو فائل
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی تو پہلے ہی سے قائل ہیں، قائل انھیں کیا جائے جن سے بات کرنی ہے۔
اپنے بیان میں عرفان صدیقی نے کہا کہ جس کی بھی اڈیالہ جیل تک رسائی ہوتی ہے وہ اپنی اہمیت بنانے کےلیے نیا شوشا چھوڑ دیتا ہے۔ ہر ایک اپنا ذاتی ایجنڈا لیے پھرتا ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ کو حکومتی معاملات سے متعلق ہدایات دیں،
عرفان صدیقی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی تو پہلے سے ہی قائل ہیں اور چھت پر کھڑے ہو کر ڈیڑھ سال سے دہائی دے رہے ہیں، اس طرح کے بیانات پی ٹی آئی کے اندرونی جھگڑوں کا شاخسانہ ہیں۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ کسی کو نہ بانی پی ٹی آئی سے ہمدردی ہے نہ پارٹی سے ہمدردی ہے، ہر ایک اپنا ذاتی ایجنڈا لیے پھرتا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی عرفان صدیقی نے کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے پھر ملنے نہیں دیا، عدالت کی توہین، فیصلے پر عمل نہ کرنے والوں کو سزا دی جائے: پی ٹی آئی رہنما
اسلام آباد؍ لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) قومی اسمبلی میں اپوزیشں لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں بانی بانی پی ٹی آئی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جمعرات کی ملاقات کی لسٹ بانی خود فائنل کرکے وکلاء کے حوالے کرتے ہیں۔ پتا نہیں کس کے کہنے پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی کی اڑھائی ماہ سے بچوں سے بات نہیں ہونے دی گئی، بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ بار بار توہین عدالت کر رہے ہیں، امید کرتے ہیں جج صاحبان اپنے احکامات پر عملدرآمد کروائیں، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو بہتر ہے استعفی دیکر کر گھر چلے جائیں، ہمارا وفد بلوچستان گیا ہوا ہے، مشکل سے وہ اختر مینگل کے قافلے سے جا کرملے۔ بلوچستان کی حکومت نے ان کا راستہ روکا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم کہتے رہے کہ 8اضلاع میں حکومت کی رٹ نہیں ہے، محسن نقوی نے کہا بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے، کہاں ہے وہ ایس ایچ او، انتظامیہ خود اعلان کر رہی ہے کہ بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر نہیں ہے۔ ملک کو صرف بانی پی ٹی آئی اکٹھا کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں دوسری مرتبہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے عدالتی فیصلے کوئی معنی نہیں رکھتے، کوئی ملک جہاں عدالتی فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جائے وہ ملک نہیں کہلا سکتا، جہاں پک اینڈ چوز کیا جائے اس کا مطلب عدالتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں۔ عدالتیں اور ججز جو قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں، اگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کرتا تو اس پر سزا کا بھی تعین کریں، جب عوام دیکھیں گے کہ عدالت کا کوئی مقام و حیثیت نہیں تو وہ کیوں قانون کا احترام کریں گے، عوام کنفیوژن کا شکار ہیں، جتنے قیدی یہاں بیٹھے ہیں ان کو عدالتوں نے ہی سزا دی ہیں۔ ہماری ملاقات نہ کروانا عدالت کے فیصلے کی کھلم کھلا توہین ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کے آرڈر کو تیسری مرتبہ وائیلیٹ کیا گیا۔ ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، ایک نئی درخواست بھی دائر کریں گے، ہم عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کرانا چاہتے ہیں لیکن ایگزیکٹو مسلسل اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ شرم کا مقام ہے کہ منتخب سابق وزیر اعظم سے بدترین سلوک کیا جا رہا ہے، ہمارے وزیر اعظم کو ان کی بہنوں سے نہیں ملنے دیا جارہا ہے، انہیں باسی کھانا دے رہے ہیں، ٹی وی، اخبار نہیں دے رہے۔ جو کرپشن پر پکڑا جاتا ہے، ثابت ہوتا ہے اس کے پلیٹ لیٹس گرتے ہیں، اس کو ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں لیکن عمران خان کو سزا دیتے ہیں کیوں کہ وہ جھک نہیں رہا، وہ اپنے مفاد پر قوم کے مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں ملنے نہیں دیا گیا، دوسرے کیسے مل رہے ہیں؟۔ جیل حکام نے کہا تھا عید کی چھٹیوں میں کسی کی ملاقات نہیں ہوگی، پھر چند لوگوں کو ان سے ملنے بھی دیا گیا۔ کیا یہ پابندی صرف فیملی ارکان کے لیے تھی؟۔