جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی، ویزے کی درخواستوں کیلئے نیا نظام متعارف کروادیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں جرمن قونصلیٹ جنرل نے شینگن اور طویل مدتی ویزوں کے لیے اپنے ویزا اپائنٹمنٹ کے بکنگ سسٹم کو تبدیل کر دیا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب کے باعث درخواست گزاروں اب براہ راست اپائنٹمنٹ بک نہیں کر سکیں گے، اس کے بجائے ایک ویٹنگ لسٹ متعارف کرائی گئی ہے جس میں افراد کو پہلے اپنے ناموں کا اندراج کرنا ہوگا۔

اپائنٹمنٹس بعد میں دستیاب جگہ کی بنیاد پر ترتیب وار تقسیم کی جائیں گی۔ یہ تبدیلی ویزا کی منظوری کے لیے انتظار کے وقت میں اضافہ کرے گی اور فوری درخواست گزاروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

قونصل خانے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئے نظام کا مقصد ویزا سلاٹس کی منصفانہ اور موثر تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔قونصل خانے نے درخواست گزاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ تمام مطلوبہ تفصیلات کے ساتھ انتظار کی فہرست کے اندراج کو احتیاط سے مکمل کریں کیونکہ اپائنٹمنٹس صرف اسی صورت میں دی جائیں گی جب معلومات درست اور مکمل فراہم کی جائیں۔

قونصلیٹ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اندراج کے لیے کسی ایجنٹ کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انتظار کی فہرست کا عمل مفت ہے۔یہ پالیسی موقع کارڈ / چانسنکارٹ کے درخواست گزاروں پر لاگو نہیں ہوتی، جو اب بھی براہ راست اپائنٹمنٹ بک کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: درخواست گزاروں کے لیے

پڑھیں:

امریکا کا اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ 

واشنگٹن: امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ویزا لینا مزید مشکل ہونے والا ہے، کیونکہ امریکی حکومت نے اسٹوڈنٹ اور دیگر اقسام کے ویزوں کے لیے سخت اسکریننگ کا حکم دے دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تمام امریکی سفارتخانوں کو ویزہ درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا مواد کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 31 اگست 2024 کے درمیان اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنے والے تمام افراد کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اسکین کی جائیں گی۔ 

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار نے فلسطین کے حق میں یا اسرائیل کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہوگی، تو اس کی ویزا درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت امریکی حکومت یا اسرائیل کے خلاف تنقید کرنے والے غیر ملکی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تمام سفارتخانے ویزا درخواست گزاروں کی تفصیلات فراڈ کی روک تھام کرنے والے یونٹ کو فراہم کریں گے، جو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کرے گا۔

امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کے بعد، فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے طلبہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
  • سویڈن کے شینگن ویزا کیلیے کم از کم کتنا بینک اسٹیٹمنٹ درکار ؟
  • ویزا دینے سے پہلے امریکا درخواست دہندگان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی چیک کرے گا
  • امریکا کا اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ
  • امریکا کا اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ 
  • بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کیلئے اہم خبر
  • مری جانے کے خواہشمند سیاحوں کیلئے ٹریفک پولیس کی جانب سےاہم ہدایات جاری
  • مری جانے کے خواہشمند سیاحوں کیلئے اہم خبر
  • امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کے لیے اچھی خبر