کراچی (نیوز ڈیسک) تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں پاکستان کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی، شمالی وزیرستان میں نئی دریافت سے مقامی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان میں سپن وام ون کنویں سے تیسری جگہ تیل اور گیس دریافت ہوئی، سپنوام شمالی وزیرستان میں ہنگو فارمیشن میں واقع ہے۔

ترجمان ماڑی انرجیز کا کہنا ہے تئیس اعشاریہ آٹھ ،پانچ ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایک سو بائیس بیرل یومیہ تیل دریافت ہوا تاہم سپنوام سے تیل وگیس کی مزید دریافت کے لئے کام جاری ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرستان بلاک میں ماڑی، اوجی ڈی سی ایل اور اورینٹ پٹرولیم کام کررہی ہیں، آپریشنز میں تعاون فراہم کرنے پر وزارت پٹرولیم قانون نافذ کرنے والے اداعوں کے شکرگزار ہیں۔
ماڑی انرجیز نے کہا کہ تیل وگیس کی نئی دریافت سے مقامی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

ترجمان ماڑی انرجیز کا بتانا تھا کہ اس سے قبل سامنسک اور کاوگ فارمیشنز سے دو دریافتیں ہوچکی ہیں، کاوگ فارمیشن سے 20.

48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 117 بیرل یومیہ تیل جبکہ سامنسک فارمیشن سے 12.96 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 20 بیرل یومیہ تیل دریافت ہوا تھا۔

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

وژن اور کامیابی

یہ 2014 کی بات ہے جب مایئکروسافٹ بربادی کے دہانے پر تھا۔ اس کی سافٹ ویئر کی دنیا پر قائم حکمرانی کا تخت سرک رہا تھا۔ کمپنی نے اس سے کچھ وقت پہلے نوکیا کو خریدا تھا اور یہ 7 ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل تھی۔ یہ ڈیل توقعات کے بالکل برعکس تھی، نوکیا تھا کہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو رہا تھا۔

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی تھی اور یہ وہ وقت تھا جب ایپل، ایمازون اور گوگل اسٹاک مارکیٹ میں راج کر رہے تھے۔ اگر کوئی کمپنی نیچے جا رہی تھی تو وہ مایئکرو سافٹ تھی۔ صرف سرمایہ کاروں کا ہی نہیں بلکہ کمپنی کے اندر بیٹھے فیصلہ ساز لوگوں کا اعتماد بھی متزلزل تھا۔ اس پر انہوں نے بالآخر کمپنی میں بڑے ردوبدل کا فیصلہ کیا۔ مائیکروسافٹ نے اپنا سی ای او بدل دیا۔ بورڈ نے ستیا نڈال نامی ایک گمنام انسان کو اس کمپنی کا سی ای او مقرر کیا۔ 

ستیا نڈال مائیکرو سافٹ میں نرم گفتگو کرنے والا انجنیئر تھا جو کمپنی کے اندر سے ترقی کرتے ہوئے بالاخر سی ای او بنا تھا۔ ستیا کے سوچنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت دیگر سب سے منفرد تھی۔ اس کے ذہن میں وہ ہوتا تھا جو کمپنی میں کسی کے بھی ذہن میں نہیں ہوتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس فیصلہ کن موڑ پر بورڈ کی نگاہ انتخاب ستیا نڈال پر ٹھہری۔

ستیا کے سی ای او بننے سے پہلے مائیکروسافٹ کا بزنس ماڈل بہت سادہ تھا۔ یہ سافٹ ویئرز بناتے تھے اور انہیں مارکیٹ میں بیچتے تھے۔ مائیکرو سافٹ ونڈوز اور آفس کی کمائی کی کمپنی کےلیے کافی ہوتی تھی۔ باقی سافٹ ویئر ایک سائیڈ پر اور ان دو سافٹ ویئرز کی سالانہ فروخت ہی کئی بلین ڈالرز ہوتی تھی۔ ایسا کئی دہائیوں سے ہورہا تھا اور چونکہ کمپنی کا بنیادی کام ہی سافٹ ویئر فروخت کرنا تھا لہٰذا اس ماڈل کو کسی نے بھی چھیڑنے کی ہمت نہیں کی تھی۔

لیکن 2008 کے فنانشل کرائسز نے دنیا کو بدلنا شروع کردیا تھا۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بعد اب پی سی اس طرح سے کارآمد نہیں تھے جیسا کہ یہ ماضی میں ہوتے تھے۔ دوسری جانب انڈروائیڈ سمیت کئی اوپن سورس سافٹ ویئرز نے بھی مائیکرو سافٹ کو مارکیٹ میں ٹکر دینا شروع کردی تھی۔ یہاں یہ سوال تھا کہ اگر کمپنی کو پیسہ ونڈوز اور آفس نے کما کر دینا ہے تو باقی سافٹ ویئرز اور انجینئرز کی فوج کا کیا فائدہ ہے؟ اس سے اگلا سوال یہ بھی تھا کہ کمپنی اگلے 5 سال میں کتنا سافٹ ویئر بیچ لے گی؟

اب دنیا کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جانب شفٹ ہو رہی تھی اور ستیا سے پہلے اس کی طرف دیکھنے کے بجائے مائیکروسافٹ نے ایک احمقانہ فیصلہ کرتے ہوئے ونڈوز فون مارکیٹ میں متعارف کروائے جو کہ بڑی طرح سے فیل ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب بلیک بیری اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پٹ چکا تھا، نوکیا کو مائیکروسافٹ خرید چکا تھا اور دنیا پر مقابلہ ایپل اور انڈروائیڈ میں چل رہا تھا۔ حتیٰ کہ کمپنی کے فیصلہ سازوں کو دیوار پر لکھا نظر آںے لگا تھا مائیکرو سافٹ کا انجام بھی آئی بی ایم، نوکیا اور بلیک بیری سے مختلف نہیں ہے۔

ستیا کی سوچ منفرد تھی۔ اس نے آتے ساتھ ہی کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں بھاری سرمایہ کاری کا حکم دیا۔ یہ کئی ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری تھی اور یہ وہ فیصلہ تھا جس نے اصل میں مائیکروسافٹ کو نہ صرف دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ اس کو 3 کھرب ڈالر کے ایمپائر میں بدل دیا۔ ستیا کے وژن نے دیوالیہ ہوتی کمپنی کو دوبارہ سے نامور اور منافع بخش کمپنیوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا تھا۔

ستیا نے آزور میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ اس نے مائیکروسافٹ آفس کو سبسکرپشن کی بنیاد پر 345 میں بدل دیا۔ اس نے اپنے حریفوں یعنی ایپل اور لینکس سمیت کئی ایک سے تجارتی معاہدے اور شراکت داری کی۔ ان تمام ہی فیصلوں کے نتائج پہلے ہی سال کی بیلنس شیٹ میں نظر آنا شروع ہوگئے۔ آج مائیکروسافٹ کلاؤڈ کمپوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹرپرائز سافٹ ویئر میں دوبارہ سے صف اول میں شامل ہوچکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ستیا نے لنکڈاِن کو 2014 میں 24 ارب ڈالر میں خریدا اور یہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی پروفیشنل ویب سائٹ ہے۔ اس نے گٹ ہب کو 2018 میں ساڑھے 7 ارب ڈالر میں خریدا۔ اس نے ایکٹیویشن بلیذارڈ کو 2023 میں 48 ارب ڈالر میں خریدا اور اوپن اے آئی میں سب سے بڑا حصہ دار بن گیا۔ ستیا یہاں ہی نہیں رکا بلکہ اس نے گوگل، لینکس اور ایپل کے ساتھ بھی شراکت داری میں کام شروع کردیا۔ ان تمام فیصلوں نے کمپنی کو محفوظ بنا دیا۔

اس تمام کہانی میں سیکھنے کی جو باتیں ہیں، وہ میں یہاں لکھ دیتا ہوں کہ اگر کسی نوجوان نے کچھ سیکھنا ہو تو وہ باآسانی سیکھ لے۔ پہلی بات یہ کہ زندگی میں وژن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر ستیا کی طرح وژن واضح ہے تو ڈوبتی ہوئی کمپنی ایک دہائی میں 3 کھرب ڈالر تک جاسکتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبدیل ہوتے رحجانات کو نظر انداز کرنا اور اپنے ہی ڈبے میں بند رہنا انسان کو کھوکھلا کر سکتا ہے اور بڑی بڑی کمپنیوں کے دروازے پر تالے لگوا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بلیک بیری کی مثال سب کے سامنے ہے۔

اس کے بعد یہ کہ بزنس جائنٹس بھی غلطی کرسکتے ہیں، نقصان لے سکتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ کتنا جلدی غلطی سے سیکھ کر آپ اصلاح کرتے ہیں۔ پھر، کاروبار میں شراکت داری زیادہ کارآمد حکمت عملی ہے۔ جیسا کہ ستیا نے اپنے حریفوں کے ساتھ شراکت داری کرکے ان مخصوص میدانوں میں مقابلے بازی کی گیم ہی ختم کردی۔

ایک اہم بات کہ بدلتے رحجانات میں پیسہ کمانے کے طریقے بھی بدل چکے ہیں۔ آج مائیکروسافٹ اصل میں آفس سے سالانہ بنیادوں پر پیسہ کماتا ہے۔ پہلے ایک مرتبہ سافٹ ویئر بیچ دیا تو بیچ دیا والی بات تھی۔ اس بزنس ماڈل کو سبسکرپشن میں بدلنے کی وجہ سے کمپنی اس سے بھی اربوں ڈالر کما رہی ہے۔ آج مائیکروسافٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اے آئی سے بھی سالانہ بنیادوں پر اربوں ڈالر کماتا ہے۔

اس کے بعد ایک اور حکمت عملی مستقبل بینی ہے۔ ستیا کو لنکڈاِن سمیت کئی ایک میں مستقبل نظر آیا تو اس نے ان کے مقابلے میں مکھی پر مکھی مارنے کے بجائے ان ویب سائٹس کو ہی خرید لیا اور پھر وہاں سے بھی کمپنی کو منافع ملنے لگا۔ اس پوری کہانی میں بنیادی طور پر سیکھنے کی باتوں میں سے روایتی سوچ سے ہٹ کر سوچنا، تبدیلی کو قبول کرنا، بدلتے رحجانات کا درست مطالعہ کرنا اور پھر اُن کے مطابق فیصلہ لینا شامل ہیں اور سب سے بڑھ کر وسیع وژن کا ہونا ہے۔

اگر ستیا بھی روایتی طریقہ کار اپناتا اور محدود وژن کے ساتھ ہی رہنے کو ترجیح دیتا تو یقین کیجیے آج مائیکروسافٹ بھی ماضی کی داستان بن چکا ہوتا۔ میری رائے میں ستیا بھی ایک کیس اسٹڈی ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

متعلقہ مضامین

  • وژن اور کامیابی
  • زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ
  • پاکستان کیلئے اہم سفارتی کامیابی، عالمی پارلیمانی فورم کی قیادت کا اعزاز حاصل کر لیا
  • شمالی وزیرستان میں تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ دریافت
  • شمالی وزیرستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
  • وہ عیدیں اب کہاں تلاش کریں؟
  • ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں شمالی وزیرستان سے تیسری جگہ تیل و گیس کے ذخائر دریافت 
  • شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
  • نیوزی لینڈ نے پاکستان کو دوسرا ون ڈے ہرا دیا،سیریزمیں بھی کامیابی