کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03اپریل 2025)پیپلزپارٹی کا نہروں کی تعمیرکیخلاف احتجاج اور وفاقی حکومت سے اتحاد کے خاتمے سمیت دیگر آپشنز پر غور جاری ہے،پیپلزپارٹی کانہروں کے معاملے پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ،پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو تمام تر فیصلوں کا اختیار دے دیا ہے،اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ن لیگ سے اتحاد خاتمے اور اتحاد کو مشروط کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو سندھ والوں کی امنگوں پر پورا اتریں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے والے خوش فہمی کا شکار ہیں۔ پیپلزپارٹی کو کارنر کرنے والوں کے ساتھ بھی ایڈونچر ہو گا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ ایڈونچر کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی سندھ حکومت تک قربان کیلئے تیار ہے۔پارٹی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی قیادت کو سندھ حکومت نہیں سندھ والے عزیز ہیں۔

پیپلزپارٹی ہر قیمت پر سندھ والوں کی جنگ لڑتی رہے گی۔پیپلزپارٹی کے سامنے حکومتی اتحاد لنک کینال مسئلہ کے حل سے مشروط کرنے اور پارلیمان و سڑکوں پر بھرپور احتجاج کا آپشن بھی زیرغور ہے۔پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی احتجاجاً انتہائی اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔ نہروں کے خلاف احتجاج پیپلزپارٹی کیلئے بقا کی جنگ ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کینال بنانے کے معاملے پرسندھ کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت تھی۔کراچی میں سینئرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ وہ طاقت ہے کہ سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں بن سکتا۔

وقت آنے پر اس طاقت کا اظہار بھی کریں گے۔سی سی آئی میں معاملہ آئے بغیر اس پر یہ کچھ نہیں کر سکتے۔ہم نے لڑنے اور بندوق اٹھانے کا نہیں کہا بلکہ ہم نے آئینی راستہ اپنایا تھا۔ کالاباغ ڈیم کا بھی لوگ کہتے تھے بن رہاتھا۔ اب یہی صورتحال چولستان کینال پر کی جارہی تھی۔ اس وقت ملک میں سب سے اہم پانی کا معاملہ تھا۔آئین کے مطابق صدر نئی کینالز کی منظوری نہیں دے سکتے۔صدر نے میٹنگ میں کسی کینال کی منظوری نہیں دی۔صدر کی میٹنگ کو بہانا بناکر کینال کی منظوری دی گئی تھی۔
.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیپلزپارٹی کے وفاقی حکومت

پڑھیں:

کورونا کا سیاسی استعمال: احتجاج دبانے کا نیا ہتھکنڈہ؟

اسلام ٹائمز: پاکستان میں سیاسی چالاکیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن عوام اب اتنے سادہ نہیں کہ ہر چال کو تسلیم کر لیں۔ اگر "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ محض ایک سیاسی حربہ ہے تو یہ سندھ کے عوام کے ساتھ سنگین زیادتی ہوگی۔ اگر عوامی احتجاج کے خلاف اس قسم کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں اور اگر حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ تاریخ کا ایک اور سیاہ باب رقم کرے گا۔ تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ (سید رحمان شاہ)

پاکستانی سیاست کی تاریخ ہمیشہ سے سازشوں، بحرانوں، بیانیوں کی جنگ حکومتی چالاکیوں اور عوامی احتجاج کو کچلنے کی کہانیوں سے عبارت رہی ہے لیکن جب کسی مخصوص وقت میں حکومتی بیانیہ عوامی ردعمل کو دبانے کے لیے استعمال ہو اور اس کے پیچھے طاقتوروں کا ہاتھ محسوس ہو, تو سوال اٹھنا فطری ہے اور شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ آج سابق صدر آصف علی زرداری کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبر نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب دنیا بھر میں اس وباء کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا جب سندھ کے عوام متنازعہ کینالز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خبر کسی گہری سیاسی چال کا حصہ ہے۔

سندھ میں احتجاج کی حقیقت
سندھ کے عوام ہمیشہ سے اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ دریائے سندھ پر متنازعہ کینالز کی تعمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جس پر پہلے بھی مزاحمت کی گئی اور اب یہ ایک بار پھر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور احتجاجی جلوس ہو رہے ہیں، جو حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے میں، اچانک "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا حربہ ہو سکتا ہے تاکہ احتجاج کو کمزور کیا جا سکے۔

کورونا کی واپسی: حقیقت یا فریب؟
عالمی سطح پر کورونا وائرس اب ختم شدہ سمجھا جا رہا ہے، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق یہ وائرس اب وبائی شکل میں موجود نہیں اور بیشتر ممالک نے اس سے متعلقہ پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، یہ وائرس اب کسی بڑے خطرے کے طور پر موجود نہیں رہا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک خصوصاً سندھ میں، یہ وباء کیسے لوٹ آئی؟ کیا یہ واقعی ایک وبائی مسئلہ ہے یا محض عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش؟ اگر واقعی سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، تو حکومت کو ان کے سائنسی شواہد پیش کرنے ہونگے۔

احتجاج دبانے کی روایتی کوششیں
پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام کسی اہم مسئلے پر احتجاج کرتے ہیں، حکومت کی جانب سے مختلف حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں تاکہ عوامی تحریک کو روکا جا سکے۔ کبھی سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی دفعہ 144 نافذ کر دی جاتی ہے اور اب بظاہر "کورونا کی واپسی" کا شوشہ چھوڑا گیا ہے تاکہ احتجاج کو جواز بنا کر روکا جا سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کورونا واقعی واپس آیا ہے، تو یہ صرف سندھ تک محدود کیوں ہے؟ باقی صوبوں میں اس کا کوئی ذکر کیوں نہیں ہو رہا۔

میڈیا کا کردار: ذمہ داری یا حکومتی آلہ کار؟ کیا حکمران ہنگامی حالات کا ڈرامہ رچائیں گے؟
ایسے حساس موقع پر میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں کئی بڑے میڈیا ہاؤسز حکومتی بیانیے کو بغیر کسی تحقیق کے نشر کر دیتے ہیں، جس سے سچائی پس پردہ چلی جاتی ہے۔ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درج ذیل سوالات حکومت سے کرنے چاہئیں:

کیا حکومت کے پاس سندھ میں کورونا کے دوبارہ پھیلنے کے کوئی ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں؟
سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں کورونا وائرس کیوں نہیں پایا گیا؟
کیا اس خبر کا مقصد سندھ میں جاری احتجاج کو ختم کرنا ہے؟
عالمی ادارہ صحت نے اس کی تصدیق کی ہے ؟
کیا حکومت اس معاملے کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھ رہی ہے؟
کیا یہ محض سندھ کے احتجاج کو "لاک ڈاؤن" کے ذریعے کچلنے کی کوشش ہے؟

عوام کو چاہیئے
بیداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکہ سندھ کے عوام کو اس وقت دوہری جنگ لڑنی ہے، ایک طرف آبی حقوق کی جدوجہد، دوسری طرف حکومتی پروپیگنڈہ کے خلاف۔ یہ وقت ہے کہ عوام حکومتی پروپیگنڈے کے خلاف بیدار ہوں اور حقیقت کو سمجھیں۔ ہر بیان کو بغیر تحقیق کے تسلیم نہ کریں، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب عوامی حقوق کی تحریک اپنے عروج پر ہو۔ اگر یہ سازش احتجاج کو دبانے کے لیے رچی گئی ہے، تو عوام کو مزید مستحکم ہوکر اپنی آواز بلند کرنی چاہیئے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس معاملے کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ اصل حقیقت منظرِ عام پر آ سکے۔

* ہر غیر مصدقہ خبر کو شک کی نظر سے دیکھا جائے۔
* احتجاج کو سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اٹھایا جائے۔
* سائنس اور مصدقہ شواہد کی بنیاد پر حکومت کو جواب دہ ٹھرایا جائے۔

پاکستان میں سیاسی چالاکیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن عوام اب اتنے سادہ نہیں کہ ہر چال کو تسلیم کر لیں۔ اگر "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ محض ایک سیاسی حربہ ہے تو یہ سندھ کے عوام کے ساتھ سنگین زیادتی ہوگی۔ اگر عوامی احتجاج کے خلاف اس قسم کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں اور اگر حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ تاریخ کا ایک اور سیاہ باب رقم کرے گا۔

اختتامیہ: تاریخ کا فیصلہ
اگر "کورونا کی واپسی" محض ایک فریب ہے تو یہ پاکستانی جمہوریت کے لئے ایک اور بدنما داغ ہے۔ سندھ کے عوام نے تاریخ میں کبھی بھی ظلم کو قبول نہیں کیا۔ آج بھی ان کا مطالبہ منصفانہ ہے کہ دریائے سندھ پر ہمارا حق ہے، حکومت کو چاہیئے کہ وہ پروپیگنڈے کے بجائے مکالمے راہ اختیار کرے اور دریائے سندھ پر مزید آبی چوری بند کرے ورنہ تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وفاقی حکومت نہروں کے منصوبے پر کام کرسکے، وزیراعلیٰ سندھ
  • بھٹوکی برسی میں پیپلزپارٹی کے لیے متنازع نہری منصوبہ چیلنج بن گیا
  • وزیراعظم سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے نہروں کے منصوبے کے خاتمے کا اعلان کریں، شرجیل میمن
  • پیپلزپارٹی کا نہروں کے معاملے پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ
  • کینال تنازع: پیپلز پارٹی نے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کرلیا
  • نہروں پر سیاست سندھ کا کام ہے، پیپلزپارٹی گھر کی لڑائی میڈیا پر لڑنے کی کوشش نہ کرے، عظمیٰ بخاری
  • کورونا کا سیاسی استعمال: احتجاج دبانے کا نیا ہتھکنڈہ؟
  • کینالز کی تعمیر پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت کے بیک ڈور رابطے
  • پیپلز پارٹی کا متنازع کینال منصوبے کیخلاف احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا اعلان